تازہ ترین

تاریخ کے اوراق سے

سعد اختر
کیا واقعی پاکستان میں سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خاں کے بعد آج تک کوئی وضع دار سیاسی لیڈر کیوں پیدا نہیں ہو سکا۔ ہماری سیاست پر یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگرچہ بہت سی جمہوری حکومتوں میں بہت سے سیاسی لیڈر منظر عام پر آئے۔ اقتدار میں بھی رہے لیکن ان میں سے کوئی بھی قائداعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خاں جیسا اپنا سیاسی قد کاٹھ نہیں بنا سکا۔ عوامی ادوار پر نظر دوڑائیں تو ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو، میاں محمد نواز شریف اور محمد خاں جونیجو جیسے لیڈر آپ کو سیاسی افق پر براجمان نظر آئیں گے۔ لیکن اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ ان ناموں میں سب سے زیادہ مقبولیت اور عوامی پذیرائی صرف ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوئی۔ بھٹو ساٹھ کی دہائی میں صدر جنرل محمد ایوب خاں کی کابینہ میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔ بہت پڑھے لکھے اور غیر معمولی ذہانت اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ 65 ء کی جنگ کے بعد جب ایوب خان نے بھارتی وزیراعظم شاستری کے ساتھ ”اعلان تاشقند“ پر دستخط کئے تو بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ”اعلان تاشقند“ کی مخالفت کی۔ اسی اختلاف پر انہوں نے وزارت سے بھی استعفیٰ دے دیا اور کابینہ سے باہر آ گئے۔ بھٹو نے اپنے ساتھ ملک گیر عوامی ہمدردی اور پذیرائی دیکھی تو عملی طور پر سیاست میں آنے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور شہر شہر دورے شروع کر دئیے۔ وہ ٹرین سے سفر کرتے اور جب ٹرین کسی شہر میں رکتی تو لوگوں کا ایک جم غفیر پہلے ہی سے استقبال کے لیے موجود ہوتا۔ ذوالفقار علی بھٹونے روٹی، کپڑا اور مکان کا جو نعرہ دیا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ ملک بھر میں مقبول ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا جہاں بھی قیام ہوتا ہزاروں لوگ اُن سے ملاقات کے لیے متمنی نظر آتے۔ بھٹو خصوصی طور پر غریب، کسان اور مزدور کی بات کرتے تھے۔ اس لیے پسے ہوئے یہ سارے طبقات پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن بن چکے تھے۔ اور وہ ایک مدت بعد ملک کے استحصالی نظام سے چھٹکارا پانے کے لیے صرف بھٹو کو ہی واحد نجات دہندہ سمجھنے لگے تھے۔ عوامی طاقت سے پیپلز پارٹی زور پکڑتی گئی۔ یہ جنرل یحییٰ کے اقتدار کا زمانہ تھا جب پیپلز پارٹی نے پورے ملک میں اپنے پاؤں جما لئے تھے اور اُس کا تنظیمی ڈھانچہ بھٹو صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں اور سحر انگیز شخصیت کی بدولت مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔
1971ء میں ڈھاکہ فال کے بعد جنرل یحییٰ ذوالفقار علی بھٹو کو عنانِ اقتدار سونپ کر خود اقتدار سے الگ ہو گئے۔ اس طرح طویل عرصے بعد پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ اُس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں جب بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو مارشل لاء کا نفاذ کرتے ہوئے خود برسراقتدار آ گئے۔ وہ قریباً گیارہ سال تک اقتدار کے ایوانوں میں رہے۔ اس دوران بھٹو کو اپنے ہی دیرینہ ساتھی احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کے جرم میں لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بنچ کی طرف سے موت کی سزا سنا دی گئی۔ اس طرح پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب اپنے اختتام کو پہنچا۔
اگرچہ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹوبھی جنرل الیکشن جیت کر اقتدار میں آئے۔ چودھری شجاعت، شوکت عزیز اور محمد خاں جونیجو کو بھی کچھ عرصہ کے لیے اقتدار ملا اور مختلف ادوار میں وہ نگران وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ لیکن ان سب میں جو عوامی پذیرائی اور مقبولیت ذوالفقار علی بھٹو کوحاصل رہی وہ کسی اور کے حصے میں نہ آ سکی۔ اقتدار میں رہتے ہوئے نواز شریف نے مسلم لیگ کو مضبوط تر بنانے کے لیے بہت سعی کی۔ نچلی سطح تک اس کے روٹس بنائے لیکن جب جنرل مشرف نے عنانِ اقتدار سنبھالی تو نواز شریف کو کمزور کرنے کے لیے مسلم لیگ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے ایک مسلم لیگ قائداعظم اور دوسری مسلم لیگ (نواز) کہلائی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت کے بعد جب پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری نے سنبھالی تو پارٹی بیٹھنا شروع ہو گئی۔ پنجاب جو پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ تھا، خال خال ہی اس میں پارٹی کا وجود نظر آنے لگا۔ پنجاب میں پارٹی کی قیادت برائے نام رہ گئی اور ایک طرح سے پنجاب میں پارٹی کا وجود ہی ختم ہو گیا۔ اب پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہے۔ وہاں بھی صرف اندرون سندھ اُن کا ہولڈ ہے۔ کراچی، حیدرآباد اور سکھر اُن کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ جہاں اب ایم کیو ایم کی مضبوط گرفت پائی جاتی ہے۔ اب ان شہروں میں تحریک انصاف نے بھی کسی حد تک اپنی جگہ بنا لی ہے۔مسلم لیگ (ق) بھی اب چند سیٹوں تک محدود ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کا پنجاب میں کافی اثرو رسوخ ہے یہاں اُس کا وسیع حلقہ احباب اور ووٹ موجود ہے۔
پیپلز پارٹی جو ایک بڑی جماعت تھی اب صرف ایک صوبے تک محدود ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ کسی بھی جماعت کی قیادت اور اُس کی پالیسیوں کے عوام پر گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ جب تک بھٹو اس جماعت کے قائد رہے کسی اور جماعت یا لیڈر کو اُن کے ساتھ کھڑا ہونے تک کی ہمت نہ ہوئی۔
بھٹو کو عدالتی فیصلے کے بعد جب موت کی سزا ہوئی تو انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے سامنے جھکنے یا معافی کی بھیک مانگنے کی بجائے پھانسی پر چڑھنا زیادہ پسند کیا۔ اس طرح پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام رقم کر گئے۔ اُن کو سزائے موت دینے والے لارجر بنچ کے ایک رکن جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھٹو کی سزائے موت کے بعد ایک موقع پر یہ انکشاف کیا کہ بھٹو کی سزائے موت کا حکم کسی ”دباؤ“ کا نتیجہ تھا۔ آج بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کے بیان کے بعد کیا ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو درست قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب اس کا فیصلہ ہو ہی جانا چاہیے کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نے بھٹو کو شواہد ملنے اور جرم ثابت ہونے پر ہی قصوری قتل کیس میں سزائے موت دی۔ اگر کوئی شواہد نہیں تھے اور جرم ثابت نہیں ہوتا تھا تو پھر اس ”سزائے موت“ کے حکم کے پیچھے کون تھا؟ اگرچہ حکم دینے والے بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن حقائق کو تاریخ کے اوراق پر درست رہنا چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*