تازہ ترین

بیوی۔۔۔۔۔ انمول رشتہ

تحریر : امتیاز علی شاکر
عورت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہر روپ میں ہنستی مسکراتی ہی اچھی لگتی ہے ،وہی گھر پر سکون ہوتا ہے جس میں خواتین ہررشتے میںخوش اورمحفوظ ہوں، بدقسمتی سے ہمارے ہاں عورت کووہ مقام حاصل نہیں جس کی وہ حقدارہے خاص طورپربیوی جیسے انمول رشتے کی قدرنہیں کی جاتی،ایک دفعہ کاذکرہے،دودفعہ کاذکرہے،سودفعہ کابلکہ ہمیشہ ہمیشہ کاذکرہے کہ بیوی اچھی نہیں ہوسکتی،بیوی خوبصورت،خوب سیرت،سخی،سمارٹ،تعلیم یافتہ اورہنرمندہونی چاہئے تاکہ اسے گھرکی چاردیواری میں قیدرکھ کراپنی تمام ضروریات کی ذمہ داری اس کے نازک کندھوں پرڈال کر سکون کی زندگی گزاری جا سکے۔
مشرقی بیوی جس قدر خدمت گزارہے دنیامیںشائد ایسی بیوی کہیں مل ہی نہ پائے،عام طورپریہی سمجھاجاتاہے کہ بیوی توگھرمیں رہتی ہے کمائی تومردکرتاہے،بیوی کوکماناپڑے تب سمجھ آئے،آج کل خواتین بھی کمارہی ہیں پھربھی یہ رویہ نہیں بدلا،کمانے والی بیوی کو کہاجاتاہے شوہرنے اجازت دی ساتھ دیاتبھی توکمارہی ہے،کمائی کارعب مت ڈالوگھرکے کام تمہاری ذمہ داری ہے کمائی کے ساتھ گھرکے تمام کام بھی وقت پر کیاکرو،اچھااب یہ جان لیتے ہیں کہ عام طورپرزیادہ ترگھروں میں بیوی کے ذمہ کون کون سے کام ہوتے ہیں،بیوی کک ہے،بیوی برتن مانجنے یعنی صاف کرنے والی،کپڑے دھونے،خشک کرنے،استری کرنے،شوہراوربچوں کے جوتے پالش،پورے گھرکی بمعہ غسل خانہ، لیٹرین کی صاف ستھرائی کرنے والی نوکرانی ہے،بیوی اپنے بچوں کی ماں کی حیثیت میں بچوں کی تمام تر دیکھ بھال،تعلیم وتربیت کی بھی ذمہ دارہوتی ہے۔
شوہر کے والدین کی خدمت جوسب بچوں کافرض ہے بیٹے سے زیادہ بہوکی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں اسے خاصی تنقیدکاسامنابھی رہتاہے،کھانے پینے میں شوہر،بچوں کے ساتھ پورے خاندان کی الگ الگ فرمائشیں پوری کرناتوبیوی پرفرض ہے ذرہ سانمک مرچ کم زیادہ ہوجائے توبیچاری کی شامت آجاتی ہے،انتہائی تھکاوٹ کے عالم میں شوہر کی ازدواجی خواہش سے انکارکرنا بھی جائزنہیں یعنی یہ ذمہ داری بھی اہم ترین ہے،یہ سب کچھ کرنے کے ساتھ شوہر کام سے آئے توپانی پلانا،جوتے اتارنا،تھکاوٹ دورکرنے کیلئے ٹانگیں،پاﺅں دبانا،سرکی مالش کرنابھی بیوی کی ذمہ داری ہے جومشرقی بیوی انتہائی مشکلات کے باوجودآج بھی خوشی سے نبھارہی ہے پھربھی اس پر تشددکیاجاتاہے،اسے شدیدتنقیدکانشانہ بناجاتاہے،میں ایسے تمام مردوں کو چیلنج کرتاہوں جوسمجھتے ہیں کہ بیوی کے کام بہت آسان ہیں ایسے مردحضرات ایک مہینہ گھرکے کام کرکے دیکھیں جن کاموں میںبچے پیداکرنا مردکے ذمہ نہیں،جناب کی آنکھیں کھل جائیں گی،جومردیہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کمائی سے گھر چلتا ہے۔
بیوی توصرف گھرکے کام کرتی ہے وہ مردحضرات ایک مہینہ اپنے گھر کے تمام کاموں کیلئے ملازم رکھ کردیکھیں کہ ان کی کمائی زیادہ ہے یاملازمین کی تنخواہیں اور نخرے،ساری خدمت کے بعد بھی دوبول پیارکے تھوڑی حوصلہ افزائی کردی جائے توبیوی مارے خوشی کے وارے وارے جاتی ہے اور بھی دل جوئی کے ساتھ خدمت کرتی ہے پراس کاہرگزیہ مطلب نہیں کہ بیوی شوہرکی ملازمہ ہے بیوی توشوہرکے گھرکی مہارانی ہے،مان ہے،عزت ہے وقارہے اورشان ہے جومرداپنی بیوی کی تذلیل کرتے ہیں دراصل وہ اپنی توہین کرتے ہیں اپنے خاندان کاوقاربربادکرتے ہیں،بیوی پرہاتھ اٹھانے والے مردکسی صورت مردکہلانے کے حقدار نہیں، مردکبھی کسی کمزور پراہاتھ نہیں اٹھاتاوہ بھی بیوی جیسے انمول رشتے پرتوکبھی بھی نہیں،بیوی سے غلطی ہوسکتی ہے وہ بھی انسان ہے مرداورعورت دونوں کویادرکھناچاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ اپناچکے ہیں،ایک دوسرے کی غلطی پردرگزرسے کام لیناچاہیے اورغلطی سدھارنے کیلئے موقع کے ساتھ ترغیب بھی دینی چاہیے۔
مرد حضرات بیوی کوبے جان بے زبان بناکررکھیں گے توان کی خواہشات کی تکمیل کیسے ممکن ہوگی،ان کے بچوں کی اچھی پرورش کیسے ہوگی؟تمام سخت ترین ذمہ داریاں نبھانے کے بعد مردکی یہ خواہش کبھی کم نہیں ہوتی کہ اس کی بیوی اسے سجی سنوری اورصاف ستھری ،خوبصورت اورفٹ نظر آئے،یادرکھیں کہ بیوی گھراوربچوں کی خیرخواہ نگران ہے،بیوی کاصحت مند اورخوش رہناشوہراوربچوں کی اچھی زندگی اورمستقبل کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، بدتمیزی، بداخلاقی،بدکلامی مردکرے یاعورت کسی صورت جائز نہیںلہٰذامیاںبیوی دونوں کوخیال رہناچاہئے کہ اخلاقی حدیں برقراررہیں،مردوعورت دونوں کوحیاکے دائرے میںرہناچاہئے،ایسے تمام معاملات سے پرہیزبہترہے جوازدواجی زندگی کومتاثرکریں،آخرمیں فقط اتناہی کہوں گاکہ بیوی ایک انمول رشتہ ہے اس کی قدراورعزت کریں،بیوی کی چھوٹے چھوٹے معاملات میں بڑی بڑی حوصلہ افزائی کریں،میاں بیوی ایک دوسرے کی غلطیوں کی نشاندہی تنہائی میں انتہائی دھیمے اورپیاربھرے لہجے میں اصلاح کی نیت سے کریں تاکہ آئندہ غلطیاں بھی دورہوجائیں اورکسی فریق کو تکلیف بھی نہ ہو۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*