تازہ ترین

بیوہ عورتوں کے نفسیاتی مسائل اور انکا حل

ڈاکٹر فوزیہ سعید
کسی بھی خاتون کا جیون ساتھی اگر کسی وجہ سے وفات پا جائے تو وہ بیوہ کہلاتی ہے۔اپنے ساتھی کی وفات کے بعد جو احساسات وہ محسوس کرتی ہے۔اس میں سب سے پہلے وہ صدمے (Shock) میں چلی جاتی ہے۔وہ Denial Phase میں آجاتی ہے۔اس صدمے کے ماننے سے انکاری ہوتی ہے۔وہ دل ٹوٹ جانے کے درد میں مبتلا ہو جاتی ہے۔اس کو اپنے زندہ رہنے اور اپنے محبت کرنے والے ساتھی کے جانے پہ Guilty محسوس ہونے لگتی ہے۔
وہ ناراض ہو جاتی ہے۔اپنے رب سے شکوہ کرتی ہے۔اور ڈپریشن میں چلی جاتی ہے۔وقتی طور پہ اس کی دنیا اندھیر ہو جاتی ہے۔اس کو ابھی کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا ہوتا۔وہ اپنے بچوں کے بارے سوچ کر پریشان ہو جاتی ہے۔جن کی وہ آج سے ماں ہی نہیں باپ بھی ہے۔باپ خود کو کہنا آسان ہے مگر ثابت کرنا مشکل ہے۔
اس دنیا میں لوگ مشکل میں کام آنے کی بجائے مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔
بار بار اس کو بیوہ ہونے کا احساس دلا کر رُلاتے ہیں۔طنز کرتے ہیں۔بہت کم لوگ اس کو حوصلہ دیتے ہیں۔یا اس کی مدد کرتے ہیں۔
معاشرے کا کردار;کسی بھی بیوہ عورت کی ذاتی زندگی میں معاشرہ بھی بڑھ چڑھ کے حصہ لیتا ہے۔جس میں اس عورت کے شوہر کے آفس والے،جدھر وہ جاب کرتا تھا یا عدالت والے جن کے پاس وہ اپنا حق لینے کے لئے انصاف مانگنے جاتی ہے یا وہ لوگ جو کل تک اس کے شوہر کے دوست کہلاتے تھے۔
وہ آج کیسے منہ موڑ لیتے ہیں۔جیسے کبھی جانتے ہی نہیں تھے۔میں بہت سی خواتین کو جانتی ہوں۔جنہوں نے حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے۔اتنی سٹریس لی کہ وہ پاگل خانے پہنچ گئی۔یہاں تک کئی خواتین نے خودکشی کر لی۔ماہرین کا کہنا ہے۔جوان بیوہ جن کی عمر 17-40 سال تک ہوتی ہے 20 فیصد جوان بیوہ دوسری شادی کر لیتی ہیں۔اور بڑی عمر کی جن کی عمر 40 سال سے زیادہ ہوتی ہے وہ کوئی 2 فیصد بیوہ دوسری شادی کرتی ہیں۔
باقی اپنے حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں۔ہمارے مذہب نے بیوہ کو عدت کے بعد دوسرے نکاح کا حق دیا ہے۔مگر بہت کم بیوہ دوسرا نکاح کرتی ہیں۔بیوہ کو حالات پہ قابو پانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
موجودہ حالات پہ فوری کنٹرول;عورت کو اس وقت کمزور نہیں پڑنا چاہئے،شروع میں یہ لگتا بہت مشکل ہے،کیونکہ غم بھی تازہ ہوتا ہے۔اس کا کوئی حل بھی نہیں ہوتا ماسوائے صبر کے۔
سب سے پہلے ایسے میں اپنے بچوں کو تسلی دے۔اپنے ساتھ پیار سے سمجھا کے ان کو شعور اور آگاہی دے۔اعتماد میں لے۔ہم مل کر اب اپنا گھر کیسے چلائیں گے۔تا کہ بچے کسی اور کی باتوں میں نہ آ جائیں۔ان دنوں رشتہ دار اس کے بچوں کو ہمدردی کے بہانے ماں کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔جس سے وہ ڈپریشن میں چلی جاتی ہے۔
جرا¿ت اور حوصلہ;اس وقت عورت کو بہت سے اقدام جرا¿ت مندانہ اُٹھانے ہوں گے۔
سب سے پہلے کوشش کرے اس کے شوہر نے کسی کا کچھ لینا یا دینا ہو تو اس سے نپٹ لے۔اگر وہ کوئی گورنمنٹ کا ملازم تھا۔تو فوری ان کو خبر کر دے تاکہ جو گورنمنٹ کی طرف سے سہولیات ملتی ہیں۔ان سے فائدہ اُٹھائے۔شوہر کے گزر جانے کے بعد سب سے پہلے مالی حالات خراب ہوتے ہیں۔ان کو قابو میں کرنا ضروری ہے۔
صبر;وہ صبر کرے،اللہ کی مرضی کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔اللہ کی مدد بھی مانگے،مگر صبر اور نماز کے ساتھ،اللہ ضرور کوئی راستہ نکال دیتا ہے۔ ویسے بھی صبر کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
اپنی صحت کا خیال;تمام بیوہ عورتوں کو چاہیے اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں کیونکہ اب آپ کو ڈبل ڈیوٹی دینا ہو گی۔بچوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا رول بھی ادا کرنا ہو گا۔اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو پھر آپ کے بچے واقعی یتیم ہو جائیں گے۔
آپ ذرا غور کریں آپ کی زندگی میں شوہر کے گزر جانے کے بعد رشتہ داروں نے کیا سلوک کیا۔تو یہ آپ کے بعد آپ کے بچوں کا کیا خیال کریں گے؟اس لئے اپنی خوراک اور اگر کوئی دوائی لیتی ہیں تو اس کا خاص خیال رکھیں،تا کہ آپ کے بیمار ہونے سے بچوں کو مزید مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سوشل لائف کو ایڈجسٹ کرے
اپنی سوشل لائف میں خود کو مصروف کر لیں۔
جس سے آپ کو سکون بھی ملے گا۔(جار ی ہے)
وقت بھی کسی مثبت کام میں گزرے گا۔اس طرح آپ کو اپنے حالات کا غم بھی کم ہو گا۔باقی دنیا کیا کہتی ہے۔اس پہ غور کرنا بند کر دیں۔انسان کی سب سے بڑی بھول دنیا میں یہ ہی ہوتی ہے کہ وہ سب کو خوش کرنا چاہتا ہے۔جب کہ ایسا کبھی ممکن نہیں۔
عبادت
عبادت ضرور کریں۔ذہنی سکون بھی ملے گا۔اور صبر بھی آ جائے گا۔
جب ہم عبادت کرتے ہیں۔تو اپنے مسائل اللہ کی سپرد کر دیتے ہیں۔یا کوئی بھی نقصان ہو تو اللہ کی مرضی سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں۔اس سے ہم کو سکون ملتا ہے۔
سوشل ورک
انسانیت کی خدمت میں ثواب بھی ہے۔سکون بھی۔آپ کو چاہئے۔کوئی نہ کوئی سوشل ورک شروع کر دیں۔انسانیت کی خدمت سے سکون بھی ملتا ہے۔لوگوں کے کام بھی ہو جاتے ہیں۔
اس کے لئے کوئی بہت بڑی NGO کی ضرورت نہیں۔آپ کچھ بچوں کو پڑھائی میں مدد کر سکتی ہیں۔کسی کو قرآن پڑھا سکتی ہیں۔کسی بیمار کی عیادت کر سکتی ہیں۔
جو قدرتی ہو چکا ہے اسے تسلیم کر لینا چاہئے
اللہ کی طرف سے جو بھی حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ان کو تسلیم کر لینے میں ہی بھلائی ہے۔ویسے بھی ہمارا کوئی زور نہیں چل سکتا۔جو اللہ کی مرضی تھی وہ تو ہو چکا ہے۔
اس کے لئے بہت زیادہ سٹریس لینے سے بچوں کے کام میں حرج ہو گا۔آپ اگر بیمار پڑھتی ہیں تو پیسے کہاں سے آئیں گے۔جس سے ڈاکٹر کی فیس یا دوائی لیں گی۔
ذریعہ آمدنی کے لئے کوشش
اگر آپ پڑھی لکھی ہیں۔تو کوئی مناسب جاب ڈھونڈ لیں۔ورنہ کوئی نہ کوئی کام جس سے کچھ آمدنی ہو سکے کر لیں۔یہ بہت ضروری ہے۔ بچوں کی پڑھائی اور گھر کے اخراجات کے لئے جائز طریقے سے محنت کرنے میں کوئی شرم کی بات نہیں ہے۔

ذہنی طور پہ خاندان اور معاشرے کی توہمات،طنز کے لئے تیار رہے
بیوہ کو خود کو مضبوط ثابت کرنا ہو گا کیونکہ اگر وہ خود کو کمزور ثابت کرے گی تو لوگ اس کو اور ستائیں گے۔اس لئے آپ ان کی ذہنی سوچ کا خیال مت کریں۔جو اپنا گھر اور بچوں کے لئے بہتر ہے وہ کریں۔نفسیاتی طور پر خود کو مضبوط بنائیں۔یاد رکھیں عورت کے لئے کوئی کام مشکل نہیں اگر وہ ارادہ کر لے تو کچھ بھی کر سکتی ہے۔لوگوں کی باتوں میں آکر اپنا نقصان کرنا عقلمندی نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*