بھکاری

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
پاکستان کے شمالی علاقات جات کے پہاڑوں پر مسلسل بر فباری کی وجہ سے یخ ٹھنڈی برفیلی ہواﺅں نے ملک کے دوسرے حصوں کی طرف رخ کیا تو بارش اور مسلسل بادلوں کی وجہ سے پورا ملک برفستان میں بدل کر رہ گیا‘پچھلے چند سالوں سے موسمی تغیریات کی وجہ سے موسم بھی تبدیل ہو کر رہ گئے‘پہلے موسم گرما تکلیف دہ ہو تا تھا گرمی کے موسم میں لوگ آگ برساتی ہواﺅں اور سورج کی قہر برساتی گرمی سے گھروں میں درختوں کے نیچے پناہ لیتے تھے جبکہ موسم سرما کو خوب انجوائے کر تے تھے لیکن پچھلے چند سالوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے موسم سرما میں شدید برفباری بارشوں اور بادلوں کی وجہ سے اب موسم سرما میں نقطہ انجماد صفر ڈگری پر آکر کاروبار زندگی کو معطل کر کے رکھ دیتا ہے۔
پہلے سردی قابل بر داشت ہو تی تھی لوگ راتوں کو ڈرائی فروٹ اور گرما گرم لذیذ مچھلی اور باربی کیو سے لطف اٹھانے راتوں کو گھروں سے نکل کر خوب انجوائے کر تے تھے لیکن حالیہ شدید کہر سردی اور برفیلی ہواﺅں نے درجہ حرارت کو اِس حد تک گرا دیا کہ لوگوں کا راتوں کو گھروں سے نکلنا مشکل ترین ہو گیا پارک گلیاں سڑکیں راتوں کو سنسان ہو نا شروع ہو گئیں اِیسی ہی ٹھنڈی رات کو ھیٹر لگا کر گر ما گرم رضائی آرام دہ گرم بستر میں کتاب لے کر میں مطالعے میں مصروف تھا کہ ایک پرانا دوست کسی پریشانی کی وجہ سے آیا اور بولا سر آپ صبح سے ایک کمرے میں بندہیں آئیں باہر جاکر آپ کو اچھی سی گڑ والی الائچی ملی چائے پلواتا ہوں اِس دوران میں اپنی پریشانی بھی آپ سے شئیر کر لوں گا لہذا میں گرما گرم بستر چھوڑ کر اُس کی آرام دہ کار کی اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا اُس نے گاڑی کا ہیٹر آن کیا خشک میوہ جات کا جار میرے سامنے کھول کر رکھ دیا اور ہماری گاڑی لاہور کی سڑکوں پر رینگنے لگی آدھی رات سے زیادہ گزر چکی تھی شدید دھند اور سردی کی وجہ سے سٹریٹ لائیٹس اور سڑکوں پر موجود لائیٹس کبھی سکڑی نظر آرہی تھیں چاروں طرف دھند اور برفیلی ہواﺅں کا راج تھا جلد ہی ہم لوگ چائے والی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے تو دوست نے جاکر مٹی کے برتنوں میں دوکپ گڑ والی چائے لے آیا جس سے الائچی کی خوشبو اڑ اڑ کر ماحول کو مہک آلود بنا رہی تھی خوشبو نے میرے مشام جان کو معطر کیا اور میں نے لذیذ مزیدار کیف آور چائے کا گرما گرم گھونٹ حلق سے اتار ا تو پورے جسم میں تازگی کا حرارت انگیز احساس انگڑائی لے کر بیدار ہو گیا گرما گرم چائے کے ساتھ سالٹی بادام شیریں میوے اور بھنے ہوئے کاجو نے رات کو کیف انگیز سا بنادیا میں میوہ جات چائے سے جسم کو لذت اور حرارت کی دنیا سے متعارف کرانے لگا ساتھ میں دوست نے اپنے مسائل بتانے شروع کر دئیے ٹھنڈی رات میں ہماری آرام دہ کار لاہور کی ہموار سڑکوں پر رینگنے لگی دوست باتیں کئے جا رہا تھا۔
میں سن رہا تھا کہ اچانک ریڈ سگنل پر ہمار ی کار رکی‘رش زیادہ نہیں تھا آدھی رات کے بعد گدا گرو ہیجڑوں کی یلغار کم ہو چکی تھی دن کے وقت اور ابتدائی رات میں آپ جیسے ہی کسی جگہ رکتے ہیں تو یہ لوگ آپ کی سواری پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اِس وقت اکا دکا تھے ہم اشارے پر گرین سگنل کا انتظار کر رہے تھے کہ ڈرائیور کی طرف شیشے کے ساتھ ایک بھکاری آلگا اور شیشے کو زور زور سے بجانے لگا دوست کو اپنی بات سنانے کی فکر تھی وہ اُس کو نظر انداز کررہا تھا بھکاری کوئی نشئی تھا اُس کے اجڑے بال چیتھڑوں والا لباس سر داڑھی کے بڑھے بال بتا رہے تھے کہ موصوف نے مسلسل نشہ کر کے خود کو برباد کر دیا ہے میں نے اُس کو پیسے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا اِسی دوران گرین سگنل آن ہوا تو دوست نے کار کو حرکت دے دی بھکار ی میرے ہاتھ کو جیب میں جاتا دیکھ چکا تھا وہ اِس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا ہماری کار کے ساتھ ہی چلنے لگا ہماری کار نے رفتار پکڑی تو وہ بھی دوڑنے لگا لیکن جسمانی کمزوری اور نشے کی بربادی کی وجہ سے اُس کے جسم نے اُس کا ساتھ نہ دیا اور عین سڑک کے بیچ گر پڑا میں نے دوست سے کہا فوری کار کو سائیڈ پر لگا ﺅ اُس نے کار کو روکا تو میں اوروہ تیزی سے سڑک پر گرے بھکاری کی طر ف بڑھے شکر اللہ کا شکر کہ گاڑیاں اُس کے دائیں بائیں سے گزر گئیں وہ کسی حادثے کا شکار نہ ہوا جیسے ہی ہم قریب پہنچے وہ کھڑا ہو گیااور تیزی سے ہاتھ ماتھے پر لے جاکر بولا صاحب جی میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہ ہوں اور اگر میں مر بھی جاتا تو دھرتی کا بوجھ ہی ہلکا ہو نا تھا اُس کے جسم پر یقینا ہلکی پھلکی خراشیں آئی ہوں گی لیکن مسلسل نشے کی وجہ سے دماغ کے مفلوج ہونے کی وجہ سے احساس نہ ہوا اِس لیے لڑ کھڑاتا کھڑا ہو کر ہمیں سلام کر رہا تھا۔
ہماری جان میں جان آئی اُس کو پکڑ کر کار تک لائے اُس سے معافی مانگی تو وہ پھر انکسار ی سے بولا جناب میرے مرنے سے دھرتی کا بوجھ ہی کم ہو نا تھا میرے جیسے کیڑے مکوڑے روزانہ پتہ نہیں کتنے ان سڑکوں پارکوں پلوں کے نیچے مرجاتے ہیں کمیٹی والے اٹھا کر اُس کو دبا دیتے ہیں گرنے کے باوجود ہی وہ کتنی عاجزی والی گفتگو کر رہا تھا یہاں اگر کوئی نشہ ور بھکاری یا ہیجڑا ہوتا تو اُس نے جھوٹ موٹ کی چوٹ کا ڈرامہ کر کے ہمیں لوٹنے کی کو شش کر نی تھی لیکن یہ بیچارہ اب بھی سلام کر رہا تھا مجھے اُس پر ترس اور پیار آرہا تھا اُس کی رگوں میں خون کی جگہ نشہ آور کیمیکل دوڑ رہے تھے وہ نشے کا اِس قدر عادی ہو چکا تھا کہ موسمی تغیریات سے آزاد ہو کر زندگی کے دن پورے کر رہا تھا معاشرہ لوگ اُسے کیا کہیں گے وہ اِن باتوں سے آزاد ہو چکا تھا اُس کو اپنی پڑچکی تھی بھوک کی آگ اُس کو مجبور کر تی تھی تو نیم بے ہو شی سے بیدار ہو کر سڑک پر آکر بھیک مانگتا چند روپے اکٹھے کر کے اپنا نشہ پورا کرتا اور پیٹ کی آگ بجھاتا بھیک مانگنے کے پیچھے اُس کی عیا شی نہیں تھی نہ ہی ایسے لوگوں کا کوئی خاندان گھر والے ہوتے ہیں۔
اگر ہوں بھی تو یہ اُن سے آزاد لا پرواہ ہو چکے ہو تے ہیں مسلسل نشے کی وجہ سے یہ بیچارے زمین کا بو جھ کر سانسوں کی گنتی پورے کر تے نظر آتے ہیں کاش اربوں کھربوں لوٹ مار کرنے والے لوگ ایسے لوگوں کو پکڑ کر اِن کا علاج کرواکو اِن کو نارمل زندگی کی طرف لانے کی کو شش کریں لیکن اِن بیچاروں کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہو تا ہم نے اُس کو کار کی پچھلی سیٹ پر بٹھا یا میں نے فوری طور پر اپنی گرم چادر اتار کر اُس کے اوپر دی خشک میوہ جات اُس کی جھولی میں رکھ کر اُس کے کھانے اور گرم چائے کے لیے آگے بڑھ گئے جا کر اُس کو بر گر لے کر دیا گرم چائے کا کپ اُس کے ہاتھ میں گرم چادر اُس کے اوپر دے کر پو چھا جناب کہاں جانا پسند کریں گے تو اُس نے جو جگہ بنائی آدھر جانے لگے جا کر اُس کو اتارا اُس نے ممنون نظروں سے میری طرف دیکھا اور ہم پھر شہر کی
سڑکوں پر رینگنے لگے تو دوست بولا جناب آپ کی وجہ سے میں اِسی نشئی کو کار میں بیٹھا یانہیں تو مجھے ایسے لوگوں سے بہت نفرت ہے یہ معاشرے کا ناسور ہیں جب وہ خوب بول چکا تو میں بولا نہیں یار اِن میں کچھ اچھے لوگ بھی ہو تے ہیں اور پھر مجھے اسلام آباد امام بری سرکار کے دربار پر آنے والا جاوید نشئی یاد آگیا جس کی زبان سے جو نکلتا تھا وہ پورا ہوتا تھا۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*