تازہ ترین

بھارت کے اربوں ڈالرز ڈوب گئے!!!!

محمد اکرم چودھری
افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی بھارت کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ بھارت لگ بھگ بیس برسوں تک افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔ اس دوران بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا، وسائل کا بیدریغ استعمال کیا بھارت کے پاکستان مخالف فیصلہ سازوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ افغانستان میں ایسی تبدیلی آئے گی جس سے ان کے تمام مذموم عزائم خاک میں مل جائیں گے۔ نہ ہی بھارت نے کبھی یہ سوچا تھا کہ افغانستان میں آنے والی تبدیلی اس کے توسیع پسندانہ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ افغانستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری اور برسوں کی محنت ضائع ہونے کے بعد بھارت بوکھلا گیا ہے۔ افغانستان میں ناکامی کے بعد نریندرا مودی کی حکومت بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمان بی جے پی کا ہدف ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے زمین مسلسل تنگ ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن نریندرا مودی کی زیر سرپرستی بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ بی جے پی ہے نمایاں سیاست دان طالبان کو ہندوﺅں کا سب سے بڑا دشمن قرار دے رہے ہیں۔ ہندوتوا کے فلسفے کو عام کرنے والی نریندرا مودی کی حکومت ناصرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مسلمانوں اور طالبان کے خلاف منفی اور بے بنیاد خبروں اور سوشل میڈیا ٹرینڈز #GoToAghanistanچلا رہی ہے۔یہ ٹرینڈ #GoToPakistan ٹرینڈ کی اگلی قسط ہے۔
یوپی حکومت مرکز دیوبند کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے “مسلم مخالف پالیسیاں بنانے میں مصروف ہے۔ جب کہ مشہور مسلم رہنما اسد الدین اویسی کو بھی مقدمات میں الجھایا جا رہا ہے۔ نام نہاد جمہوریت کے دعویدار مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے بھی دشمن بن گئے ہیں۔ تبلیغی جماعت کو کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کا ذمہ دار دینے جیسے اقدامات مذہبی آزادی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ یہ ہے کہ وہاں ہندوﺅں کے علاوہ کسی کو مذہبی آزادی تو دور کی بات آزادی اظہار کی سہولت بھی حاصل نہیں ہے۔ مسلمانوں کے کاروبار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف جذبات ابھارنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے۔قابل اعتبار اور عالمی شہرت کے حامل ماہرین کے مطابق بھارت میں مسلم نسل کشی کا خطرہ ہے۔ بھارت میں ظلم و تشدد،ناانصافی اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں پر طالبان کا حمایتی ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ بی جے پی کے سیاستدانوں نے تو طالبان کو دہشت گرد کہنا بھی شروع کر دیا ہے۔
بھارت 2001سے افغانستان میں اپنے مستقل پاﺅں جمانے اور خفیہ اورکھلے عزائم کے حصول کے لئے ایک نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے انفراسٹرکچر ، افغان فورسز کی تربیت اور دیگر منصوبوں پر تقریباً تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر کیافغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا۔ بھارت نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی پشت پناہی کر کے اقوام متحدہ کے منشور کے مختلف آرٹیکلز کی خلاف ورزی کی ہے جن میں ویانا کنونشن کے آرٹیکل 2(4)، آرٹیکل 41(3) اور سلامتی کونسل کی 2001کی قرارداد 1373کے 2اور 3 پیرا ز کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔اس وقت افغانستان میں ایک عبوری حکومت کے ساتھ طالبان نئے حکمران ہیں اور مودی کی حکومت کے لئے بھارتی عزائم کو شکست ہوئی ہے ، یہ بات حقیقت ہے کہ بھارت نے پاکستان ، افغانستان اور خطہ کے خلاف اپنے مکروہ عزائم کے لئے داعش اور ٹی ٹی پی عناصر کو پراکسی ہتھکنڈوں کے طور استعمال کیا ہے۔افغان فورسز کی تربیت کی ا?ڑ میں بھارت نے داعش اور ٹی ٹی پی عناصر کو تربیت دی اور یہ معلومات ہیں کہ تقریباً تین سو افراد اس وقت بھارت میں تربیت حاصل کر رہے ہیں ، اس مقصد کے لئے پاک افغان سرحد کے ساتھ مختلف بھارتی قونصلیٹ قائم کئے گئے، جنہیں بھارت کا خفیہ ادارہ را پاکستان کے اندر دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لئے لانچنگ پیڈ کے طور کنٹرول اور استعمال کرتا تھا۔بھارت نے گوردواروں پر حملوں ، لاہور دھماکہ اور گوادر دھماکہ جیسی دہشتگرد سرگرمیاں کیں تاکہ پاکستان کی ساکھ اور پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ بھارتی فوج کے افسر کلبھوشن یادیو نے افغانستان سے کنٹرول اور پلان کی جانے والی دہشتگردی کی کئی سرگرمیوں کا اعتراف کیا۔بھارت مسلسل افغانستان میں ایک سپائلر کے طور کام کرتا رہا جو شدت کے ساتھ بالخصوص کابل میں حکومت کے خاتمے کے بعد امن عمل کو نقصان پہنچانے کی خاطر معاہدوں کی خلاف ورزی اور طالبان اور امریکہ کے خلاف پراپیگنڈہ کے لئے اشرف غنی حکومت پر بھی اثر انداز ہوا۔ بھارت اپنے برے عزائم کی تکمیل کے لئے مختلف دہشتگرد تنظیموں کا ساتھ دے رہا ہے۔طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، خواتین اور بچوں کو ٹارگٹ کرنے ، لڑکیوں کی تعلیم ، روز گار اور مخالف عناصر کو سزائے موت دینے کے حوالے سے نام نہاد الزامات پر مبنی جھوٹے پراپیگنڈے میں مصروف ہے۔بھارت نے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی کہ طالبان حکومت کے قیام سے داعش جیسی تنظیموں کی دہشتگرد سرگرمیوں سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرہ ہو گا۔
بھارت کی طرف سے یہ سارے اقدامات صرف پاکستان مخالف منصوبے میں ناکامی کی بنیاد ہیں۔ بھارت افواجِ پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے۔ جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کے ذریعے دنیا میں پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک طرف داعش کا جھوٹا خطرہ کھائے جا رہا ہے تو دوسری طرف بھارت خود افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی دہشت گردوں کی سرپرستی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر سشت ردعمل کا مظاہرہ کرے کاروباری یا مالی مفادات انسانی جان سے زیادہ اہم یا قیمتی نہیں ہو سکتے۔ عالمی برادری اپنے مالی مفادات کی وجہ سے بھارت کی منفی سرگرمیوں کو نظر انداز کرتی ہے کیا یہ انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف نہیں!!!!!!!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*