تازہ ترین

بلوچستان کے 22۔2021 کے بجٹ کے مالیہ اثرات

تحریر مقبول احمد رانا

وفاقی بجٹ کے تقریبا ایک ہفتے قبل پیش ہونے کے بعد رقبے اور وسائل کے اعتبار سے سب سے اہم قابل ذکر صوبہ بلوچستان جس کا رقبہ تقریبا برطانیہ کے رقبے جیتنا ہے۔ اس کی آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ کروڑ 23 لاکھ کے لگ بھگ ہے وسائل، آبادی اور رقبے کے تناسب کو اگر بروئے کار لایا جائے تو یہاں حقیقتا دودھ اور شہد کی نہریں بہتی نظر انی چاہیے مگر ماضی کے حکمرانوں کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے باشندوں کا صبر اور قناعت کا رویہ اختیار کیے رکھنے سے وسائل بے وقعت ہو کر رہ گئے وسائل پر اختیار اور ہتھیانے کے رویئے نے ترقی اور خوشحالی کی صبح طلوع نہیں ہونے دی اس سارے معاملے میں مقامی باشندوں کی بے اعتنائی، ہوس اور لالچ کے گروید گروہوں نے بلوچستان کے وسائل کے صحیح اور جائز حصول اور استعمال کے بہت ہی کم مواقع وقوع پذیر ہونے دیے اگر حالات کے تانے بانے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بہت پایا سچ اور حق کو پہنیچے گی کہ باایں وصف ترقی اور خوش حالی کے ابھرنے میں بعض عناصر کی وجہ سے بہت تاخیر کی وجہ سے عروج کی سیڑھی طے کرنے میں لگ گئی۔ کچھ تبدیلی کے ساتھ صورتحال میں بہتری کے آثارپیدا ہونے کے شواہد کا موسم تادیر رواں دواں ہوتے ہوئے نظر آنے لگا ہے اس تناظر میں یہ کہنا نقطہ اولین کا درجہ رکھتا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی سیاسی جماعتوں کا 18 جون کو 2021.22 کا تیسرا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا۔ جیسا کہ راقم نے مذکورہ سطور میں عرض کیا ہے کہ اب متحرک اور باصلاحیت قیادت کی کارکردگی کے باعث صوبے بھر میں میں ترقی اور خوشحالی کی مثبت سمت گامزن ہونے کا وسیلہ بن گئی ہے ہے اس کی ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت اور گاہے گاہے بر سر اقتدار رہنے والے سیاسی گروپس کی تگ و دو کی بنا پر معاشی اور سماجی اہداف کے حصول اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے ہمہ جہت اقدامات اٹھانے کو زیادہ کریڈٹ ملتا ہے
اگرچہ حالیہ برسوں میں کرونا کی حشر سامانیوں نے ترقی اور خوشحالی کی راہیں کھوٹی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس سے پورے ملک کی مجموعی معاشی ترقی کو بڑا دھچکا لگا ہے ہے اور اس سلسلے میں ترقی کی شروعات پر قدم بڑھانے والے صوبے بلوچستان کو اس المیہ سے غیر معمولی طور پر نقصان پہنچا۔ لیکن حالیہ اقتدار اور اختیارات کی حامل حکومت نے بہتر حکمت عملی سے صورتحال کا حسن تدبر اور عزم صمیم سے کام لے کر وقت کے المیے پر قابو پانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ جس کا لازمانتیجہ بھی برآمد ہوا کہ صوبہ کی انسانی سماجی اور ترقیاتی زندگی میں پائیداری موثر اور معتبر نشانیاں دکھائی دینے لگی اصل میں مجوزہ بجٹ ہمیشہ قبل ازیں برپا رہنے والے بجٹ کا تسلسل ہوتا ہے یہاں بھی 2021 سے 22 کے بجٹ میں آگے بڑھنے اور موثر اقدامات اٹھانے اور ان کے حاصل ہونے والے والے ثمرات کی واضح صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔اگرچہ کرونا کا خطرہ ٹلا نہیں مگر تدابر اور بہادری نے انسان کو اس کا پھل دینے کے آثار کو یقینی بنا دیا ہے حالانکہ2021.22 کے لیے اس مد میں 3.637 ملین روپے کی خطیر رقم مجوزہ بجٹ میں مختص کی گئی۔اس میں وفاقی حکومت نے بھی 20.937 ملین روپے کی گرانٹ کا حصہ ڈالا ہے۔ جس کے اصراف سے صوبے میں پانچ نئی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔ 2020.21 کے بجٹ میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت فلاح و بہبود کا ایک ڈھانچہ قائم کیا گیا تھا مشکلات کے باوجود ان کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں یہی وجہ ہے حکومت نے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے انہی پہلو دار پالیسی کو 2021.22 کے ترقیاتی بجٹ میں بھی شامل رکھا ہے۔ اس کا مقصد زندگی کے ہر شعبے کو فیضیاب کرنا مقصود ہے۔اعداد و شمار پر نظر ڈالنے سے یہ امر واضح ہوگا کہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں جس پالیسی کو اختیار کیا گیا اس سے 2021.22 میں بھی فائدہ اٹھانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال کا ترقیاتی بجٹ118.256ملین روپے لیکن نئے مالی سال کے بجٹ میں 177 نئی ترقیاتی سکیمیں شامل کی گئی ہیں اور ان کے لیے 31.507 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں 2021.22 کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 346.881 بلین روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔اور ترقیات کے شعبے کے لیے اس کے پہلو بہ پہلو 198.196 بلین روپے میں مزید 18.661 بلین روپے کی ایک بڑی رقم بھی شامل کی گئی ہے۔ اس امر سے کم و بیش تمام قارئین بشمول عوام کی اکثریت اس سے آشنا ہو گی اگر بلوچستان کے مجوزہ سالانہ بجٹ کی آمدن اور اخراجات کا تقابلی جائزہ لیکر موازنہ کی حتمی شکل بنائی جائے تو لاتعداد قابل توجہ بجٹ کے سیاق و سباق واضح ہوکر سامنے آجائیں گے اس غرض سے ذیل میں 2021.22 کے بجٹ کی آمدن اور اخراجات سے متعلق گوشوارہ نما حقائق اپنی اپنی حقانیت کو واضح کر سکیں گے۔
آمدن
تفصیلات
تخمینہ(بلین روپے میں)2020-21
نظرثانی(بلین روپے میں)2020-21
تخمینہ(بلین روپے میں)2021-22
وفاقی ٹرانسفرز
302.904
302.904
335.935
صوبے کی اپنی محصولات
46.407
28.371
103.209
FPAَََ.گرانٹس
12.200
3.097
17.353
کیپٹل محصولات
1.385
0.611
1.902
اسٹیٹ ٹریڈنگ۔Food
4.650
3.138
5.477
Cash Carry Over
10.365
00
15.485
کل آمدن
377.918
336.982
499.368

مذکورہ بالا گوشوارے میں آمدن کے ذرائع اور مجموعی رقم کی وضاحت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذیل میں اخراجات کا گوشوارہ درج ہے اس سے منصوبہ بندی اور ترقیاتی اشاریئے واضح ہوتے ہیں۔
اخراجات
تفصیلات
تخمینہ(بلین روپے میں)2020-21
نظرثانی(بلین روپے میں)2020-21
تخمینہ(بلین روپے میں)2021-22
اخراجات جاریہ
294.123
269.013
319.451
یپٹل اخراجات
14.908
13.357
27.410
ٹوٹل اخراجات جاریہ
309.032
282.371
346.861
صوبائی پی ایس ڈی پی
106.079
72.415
172.534
ایف پی اے FPA .
12.201
8.084
16.662
ڈویلپمینٹ گرانٹس
38.216
24.145
48.025
ٹوٹل ترقیاتی اخراجات
156.496
104.645
237.221
کل اخراجات
465.528
387.016
584.088
اسی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات کے ساتھ صوبائی سالانہ بجٹ 18 جون کو ہنگامہ آرائی کے پس منظر اور پیش منظر کے حوالے سے سامنے آتا ہے صوبائی اسمبلی میں یہ بجٹ صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے پیش کیا ٹیکس فری بجٹ 584.083 بلین روپے کی مالیت کا ہے۔اس بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے بجٹ سے دو روز پہلے سے ہی اسمبلی کے مین گیٹ پر احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے اگرچہ صورتحال کو ناز ک تر بنانے حتی المقدور کو شش کی لیکن حکومتی ارکان نے بھی حوصلہ مندی سے حالات کا مقابلہ کیا ہر چند کے اسمبلی کے گیٹ اور شیشے توڑے گئے اور بگاڑ کی ایک نئی کیفیت کو جنم دیا گیا یہاں تک کہ اپوزیشن نے عموعی طور پر بجلی روڈ تھانے میں اجتماعی گرفتاریاں پیش کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس والوں نے اس موقع پر ٹھنڈے دل سے ٹھنڈے رویے کا اظہار یہ کہہ کر کیاکہ ہمارے پاس آپ کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں، اس لئے ہم گرفتار کرنے کے روادار نہیں ہو سکتے۔اگرچہ بعد ازاں مقدمہ بھی درج ہوا مگر وزیراعلی جام کمال خان نے مفاہمانہ روش اختیار کی اور انہوں نے تھانہ مکینوں سے رابطہ کی کوشش کی اور صلح جوئی کا یہ کہہ کر اظہار کیا کہ اپوزیشن کے خلاف درج کرائی گئی رپورٹ واپس لے لی جائے گی۔اس لیے اپوزیشن والے واپس آکر قومی کاز کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کریں یہ بجٹ کئی اعتبار سے اپنی اہمیت کاخود منہ بولتا ثبوت تھا مگر اپوزیشن کے ارکان اپنے حلقہ ہائے انتخابات کو محروم رکھے جانے کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔اس بجٹ میں یہ بھی ایک بڑی بریک تھرو ہے کہ اس بجٹ کے ذریعے 5854 نئی آسامیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بلا سود قرضے دینے کا کھلا عندیہ بھی بجٹ کی دستاویزات میں شامل تھا۔اپوزیشن کے اٹل فیصلے کے جواب میں وزیراعلی بھی بار بار یہ کہتے رہے کہ مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ ان کے خلاف سنگین کیسز رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ اسی بجٹ میں بقول وزیرخزانہ کے کوئٹہ میں 300 ملین کی لاگت سے میڈیا ٹا¶ن تعمیر کرنے کی خبر بڑی نمایاں انداز میں درج تھی۔ بجٹ کی رونمائی کے دوران کئی روز تک ہنگامہ، توڑ پھوڑ وغیرہ کا سلسلہ جاری رہا کئی روز کی محاذ آرائی کے باوجود بلوچستان کا نیا بجٹ منظور کرلیا گیا۔بجٹ کی تفصیلات میں کئی نئے اور قابل توجہ امور کی نشاندہی کی گئی ہے مثلا گریڈ 1 سے 19 تک کے وہ ملازمین جن کے مجموعی الاونسز بنیادی تنخواہ سے کم ہیں۔ان کے لیے پندرہ فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الا¶نس دیا جائے گا۔یہ ایک نئی پیشکش ہے جس کا ذکر دیگرصوبوں کے بجٹ میں نہیں ملتا۔ کئی بار کے آزمودہ نسخہ جو کہ بولان بینک کے بارے میں ہے ایک بار پھر دہرایا گیا کئی بار پہلے بھی یہ مشق کی گئی۔ مگر بیل منڈھے نہیں چڑھ سکا اس مرتبہ ایک ارب روپے مجوزہ بینک آف بلوچستان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*