تازہ ترین

بلوچستان کے آئندہ مالی سال کا584.083ارب کا بجٹ پیش کردیاگیا

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کے آئندہ مالی سال کا584.083ارب کا بجٹ پیش کردیاگیا جس میں ترقیاتی مد میں237.221ارب اور غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 346.861بلین روپے مختص کئے گئے ہیں،صوبے کو کل 499.363ارب روپے آمدن ہوگی جن میں وفاق سے 355.935ارب،اپنے محصولات سے 103.209ارب،فارن پروجیکٹ اسسٹنٹس گرانٹ سے 17.353ارب ،کیپٹل محصولات سے 1.902ارب ،اسٹیٹ ٹریڈنگ فوڈ سے 5.477،کیش کیری اوور سے 15.485ارب روپے کی آمدن ہوگی،بجٹ خسارہ84.720ارب روپے ہوگا۔بلوچستان کے مالی سال 2021-22کا بجٹ جمعہ کو صوبائی وزیر خزانہ میر ظہوراحمد بلیدی نے ایوان میں پیش کیا بلوچستان اسمبلی کا اجلاس تقریباًدو گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں ہوا ۔صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شعبہ صحت کیلئے غیر ترقیاتی فنڈز میں44.694 بلین روپے رکھے ہیں جبکہ ترقیاتی مد میں 11.884 بلین روپے، شعبہ پرائمری وسیکنڈری تعلیم کی ترقیاتی مد میں 8.463بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں53.256بلین روپے،ہائیر ایجوکیشن کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 11.736 بلین روپے ترقیاتی مد میں9.469 بلین روپے ،زراعت کے شعبہ کیلئے ترقیاتی مد میں9.545بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11.483 بلین روپے ،خوراک کے شعبہ کیلئے ترقیاتی مد میں 384ملین روپے اور غیر ترقیاتی مد میںبشمول State Tradingکے6.400 بلین روپے،دیہی ترقی کے شعبہ کیلئے ترقیاتی مد میں 4.357بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 18.261بلین روپے ،مواصلات و تعمیرات کیلئے ترقیاتی مد میں 52.668 بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 13.793 بلین روپے ،امن وا مان کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 26.867بلین روپے مختص جبکہ ترقیاتی مد میں1.545بلین روپے، آبنوشی و آبپاشی کے لئے ترقیاتی مد میں34.524بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 10.563بلین روپے ،تعلقات عامہ وانفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے ترقیاتی مد میں 2.656بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں1.132 بلین روپے، معدنیات اور معدنی وسائل کے سروے کے لئے 219 ملین روپے جبکہ منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کے لئے 36.40 ملین روپے،ماہی گیری وساحلی ترقیکے لئے ترقیاتی مد میں 4.302بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.168بلین روپے،توانائی کے شعبے کے لئے 3.923 بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 7.260 بلین روپے،ماحول و ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے کے لئے ترقیاتی مد میں 217.118ملین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 538.470ملین روپے ،امور حیوانات کے شعبے کے لئے 2.101 بلین روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 4.526 بلین روپے ،افرادی قوت، صنعت و حرفت کے لئے ترقیاتی مد میں1.450بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.384بلین روپے ،سوشل سیکورٹی و سروسزکے لئے ترقیاتی مد میں2.702بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 4.955بلین روپے،کھیل وامور نوجوانان کے لیے ترقیاتی مد میں 5.673بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.495بلین روپے ،ثقافت و سیاحت و آثار قدیمہکے لیے ترقیاتی مد میں1.542بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.051بلین روپے،اپنا گھر اسکیم کیلئے 2بلین روپے،بینک آف بلوچستان کے قیام کیلئے 1بلین روپے ،سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں 10فیصد جبکہ گریڈ ایک سے 19تک کے وہ ملازمین جن کے مجموعی الاونسز انکی بنیادی تنخواہ سے کم ہیں ان کے لئے 15فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاونس کا علان ،معذورافراد کی امداد کیلئے کمک سپورٹ فنڈ کا قیام 2بلین روپے مختص کردیئے گئے اقلیتی برادری کیلئے 500ملین ،ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کیلئے ایک بلین ،انٹرپرائزر ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کیلئے 2بلین،مائیکرو فنانس انٹرسٹ فری لون کے تحت 2بلین روپے ،وومن ان پاورمنٹ فنڈ کے قیام کیلئے 500ملین،بلوچستان عوامی انڈومنٹ کیلئے مزید 2بلین مختص کردیئے گئے فوڈ سیکورٹی اور اسٹیٹ ٹریڈنگ کے مالی مسائل پرقابو پانے کیلئے 1بلین روپے سے فوڈ سیکورٹی ریوالونگ فنڈ کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔دریں اثنا ءبلوچستان حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصداضافے اورگریڈ1سے گریڈ19تک کے ان ملازمین جن کے مجموعی الاﺅنسز ان کی بنیادی تنخواہ سے کم ہیں کو مزید ریلیف دینے کے لئے ان کی بنیادی تنخواہ میں 15فیصد کے حساب سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاونس دینے کا اعلان کردیا۔ یہ بات صوبائی وزیر خزانہ میر ظہوربلیدی نے جمعہ کو آئندہ مالی سال کا بجٹ ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں ے کہا کہسرکاری ملازمین کو ریلیف پہنچانے کے لئے صوبائی حکومت تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 10 فیصداضافے کا اعلا ن کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت ملازمین کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے محدود وسائل کے باوجودگریڈ1سے گریڈ19تک کے ان ملازمین جن کے مجموعی الاﺅنسز ان کی بنیادی تنخواہ سے کم ہیں کو مزید ریلیف دینے کے لئے ان کی بنیادی تنخواہ میں 15فیصد کے حساب سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاونس کا اعلان کرتی ہے انہوں نے کہا کہریٹائر ہونے والے ملازمین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد پنشن دستاویزات کے مکمل ہونے تک انہیں آخری بنیادی تنخواہ کا 65%پنشن کے بطور Anticipatory Pension کا اجراءکیا ہے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مختلف محکموں خاص طور پر محکمہ صحت ،تعلیم اور Revenue Generating ڈیپارٹمنس میں ادارتی سطح اور انفرادی طور پر بہترکارکردگی کو پروموٹ کرنے کے لئے پرفارمنس گرانٹ سسٹم کا نظام نافذ کردیا ہے جس سے اچھی کارکردگی دکھانے والے اداروں اورافراد کو انعامات سے نوازا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے معذور افراد کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمک کے نام سے ایک سپورٹ فنڈ برائے خصوصی افراد قائم کیا ہے جس کے لئے2بلین روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے ویلفیئر فنڈ کی مد میں500ملین روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کیلئے فشر مین ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کے لئے 1بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مختلف شعبوں میں Businessکو سپورٹ کرنے کے لئے بلوچستان انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کے لئے 2بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے بیروزگار نوجوانوں کو اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے لئے بلاسود قرض کی فراہمی کے لئے عوامی مائیکرو فنانس انٹرسٹ فری لون کے تحت 2بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لئے بلوچستان ویمن اکنامک امپاورمنٹ فنڈ کے قیام کے لئے 500ملین روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے سے جاری غریب و نادرا مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی ملک کے بہترین ہسپتالوں میں مفت علاج کے لئے بلوچستان عوامی انڈوومنٹ فنڈ کے لئے مزید 2بلین روپے فراہم کئے جارہے ہیں جس سے 1426 کینسر و دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا مریض فائدہ حاصل کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی بڑھتی پنشن اور حکومتی مالی مشکلات کے حل کے لئے پہلے سے قائم بلوچستان پنشن فنڈ میں مزید 1بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہونہار طالب علموں کو سکالر شپ کی مد میںپہلے سے قائم بلوچستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ میں مزید1بلین روپے کا اضافہ۔ اب تک اس سے 7ہزار سے زائد طلباءو طالبات فائدہ اٹھا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں فوڈ سیکورٹی اور سٹیٹ ٹریڈنگ کے مالی مسائل پر قابو پانے کے لئے 1بلین روپے سے فوڈسیکورٹی ریوالونگ فنڈ کا قیام۔ تاکہ صوبے کی گندم کی سالانہ ضروریات کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں سانحہ8اگست 2016 میں شعبہ وکالت میں پیداہونے والے خلا کو پر کرنے کے لئے بلوچستان کے وکلا کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے پہلے سے قائم بلوچستان لائرز ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کے لئے50ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے ملازمین کو اپنا گھر تعمیر کرنے کے لئے اپنا گھر اسکیم کے تحت بلوچستان ایمپلائز ہاﺅسنگ فنانس فنڈ کے لئے2بلین روپے رکھے گئے ہیںجس سے ہر ملازم کا اپنا گھر کا خواب پورا ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلوچستان کے اپنے وسائل سے بینک آف بلوچستان کا قیام عمل میں لانے کے لئے 1بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔جس سے دیگرفوائد کے علاوہ بے شمار بیروزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال میں ہماری حکومت نے صوبے میں کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیاہے۔جس سے نہ صرف مہنگائی پر قابو بلکہ اس کو کم کیا جاسکے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*