تازہ ترین

بلوچستان اسمبلی ،محکمہ محنت و افراد ی قوت میںآسامیوں پر مبینہ غیر قانونی طور پر بھرتی کی رپورٹ طلب

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ محنت و افراد ی قوت میں مبینہ غیر قانونی طور پر آسامیوں پر بھرتی پر سیکرٹری محنت و افراد ی قوت سے رپورٹ طلب کرلی گئی، قائم مقام اسپیکر کی پی ٹی وی کے عرصہ دراز سے کام کرنے والے ملازمین سے دوبارہ ٹیسٹ و انٹرویو نہ لینے کے حوالے سے وفاق کو خط لکھنے کی رولنگ، حکومت کی ماں و بچے کی صحت سے متعلق پروگرام کے لئے فنڈز کے اجراءاو ر سرکاری ٹھیکیداروں کے لئے نرخوں پر غور کرنے کی یقین دہانی ، جمعرات کو بلوچستا ن اسمبلی کا اجلاس پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے قائم مقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہاکہ خواتین پر صنفی تشدد کے خلاف 16روزہ مہم کا آغاز ہوگیا ہے ان دنوں میں خواتین پر تشدد کے خلاف کام کرنے والی تمام تنظیمیں گزشتہ سال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آئندہ سال کے لئے اپنا مشترکہ ایجنڈ ا تیار کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ بطور چےئر پرسن وویمن کاکس کہنا چاہتی ہوں کہ اسمبلی کے خواتین پر صنفی تشدد کے خلاف جو اقدامات کئے ہیں وہ خوش آئندہ ہیں تاہم یہ اقدامات ناکافی ہیں خواتین پر تشدد کے خلاف قوانین زیر التواءہیں اس میں اسمبلی کے مرد اراکین ہمارا ساتھ دیں اور جلد از جلد خواتین پر تشدد کے خلاف قوانین کو اسمبلی سے منظور کروایا جائے انہوں نےک ہا کہ معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی طورپر خواتین کے خلاف جسمانی اور ذہنی تشدد کے خاتمے کے لئے روےے تبدیل کر نے کی ضرورت ہے اگر روےے تبدیل ہونگے تو خواتین پر تشدد کے واقعات بھی کم ہونگے ،اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے اسپیکر کی توجہ پی ٹی وی میں گزشتہ کئی سالوں سے کام کرنے والے ملازمین کی جانب مبذول کروائی کہ جو ملازمین گزشتہ 20سے 30سالوں سے پی ٹی وی میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں انہیں ایبکس نامی کمپنی کے ذرےعے ٹیسٹ و انٹرویو دینے کا کہا جارہا ہے جو کہ ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہے اس سلسلے کو بند کیا جانا چاہےے انہوں نے کہا کہ صوبے میں کام کر نےوالے سرکاری ٹھکیداروں کو اب بھی 2018کے نرخ پر ٹھیکے دئےے جارہے ہیں میٹریل 70فیصد تک مہنگا ہونے کی وجہ سے ایک طرف ٹھیکیدار پریشان ہیں تو وہیں سرکاری کام تاخیر کا شکاراور غیر معیاری طور پر کئے جارہے ہیں لہذا صوبائی حکومت نئے نرخوں کا تعین یقینی بنائے جس پر قائم مقام اسپیکر نے رولنگ دی کہ چونکہ پی ٹی وی وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اسمبلی وفاقی حکومت کو سفارشی لیٹر لکھے کہ عرصہ دراز سے کام کرنے والے ملازمین کو ٹیسٹ و انٹرویو کے عمل سے مبرا قرار دیا جائے ۔اجلاس میں بی اے پی کے رکن خلیل جارج نے ایوان کی توجہ محکمہ محنت و افراد ی قوت میں منسوخ شدھ آسامیوں پر بھرتی کے عمل کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ محکمہ محنت و افرادی قوت میں تین نومبر کو آسامیاں مشتہر کی گئیں تاہم انہیں قانونی تقاضوں کے پورا نہ ہونے پرمنسوخ بھی گیا لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ ان آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے لہذا اس حوالے سے محنت و افراد ی قوت کے مشیر وضاحت پیش کریں جس پر مشیر محنت و افراد ی قوت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب تک محکمے کی بریفننگ نہیں لی لہذا اس معاملے پر تحقیقات کے لئے کمیٹی بنائی جائے یا پھر سیکرٹری محنت و افراد ی قوت کو طلب کر کے وضاحت لی جائے جس پر قائم مقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے رولنگ دی کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں سیکرٹری محنت و افراد ی وقت اسمبلی میں پیش ہو معاملے پر رپورٹ پیش کریں ۔اجلاس میں جمعیت علماءاسلام کے رکن یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ خضدار میں محکمہ کھیل میں خاتون چوکیدار کی تعیناتی اور عالمی سطح کے کھلاڑی کو آسامیوں میں نظر انداز کرنے کی جانب مبذول کروائی جس پر وزیرکھیل عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ نوکریاں فروخت کرنا ماں کا دودھ بیچنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران عدالتی احکامات پر 2017سے زیر التواءآسامیوں پر محکمہ کھیل کی جانب سے بھرتی کی گئی اور محکمے کے افسران کے مطابق اس میں میرٹ کے ذرےعے جن امیدواروں نے پہلے اپلائی کیا تھا انہیں بھرتی کیا گیا اگر کسی بھی بے قاعدگی کی نشاندہی کی جاتی ہے تو اس پر تحقیقات کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ کھیل میں آسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے اگر عالمی سطح کا کھلاڑی عمر سمیت دیگر معیا ر پر پورا ترتا ہے تو اسے ضرور ملازمت دی جائےگی اس موقع پرقائم مقام اسپیکر نے رولنگ دی کہ محکمہ کھیل میں حالیہ بھرتیوں سے متعلق تحقیقات کی جائیں اگر یہ عمل اطمینان بخش نہیں ہوتا تو اسمبلی اس پر کاروائی کا حکم دیگی ۔ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا کہ محکمہ زراعت میں نچلی سطح پر فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کا 10فیصد پروموشن کوٹہ مختص تھا جسے ختم کیا گیا تاہم اس ترمیم سے قبل گریڈ 17میں تعینات 21افسران کو نہ صرف ریورٹ کردیاگیا بلکہ انکی تنخواہیں بھی بند کردی گئی ہیں لہذا اس مسئلے کے حل کے لئے قائم مقام اسپیکر رولنگ دیں ۔پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے اپنی توجہ دلاﺅ نوٹس ایوان میں پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت کی توجہ مبذوال کراتے ہوئے کہا کہ سال 2016ءمیں ایک پروگرام بلوچستان نیوٹریشن برائے ماں وبچہ شروع کیا گیا جس کے تحت ابتدائی طور پر صوبہ کے کچھ اضلاع کو فوکس کیا گیا مذکورہ پروگرام کیلئے این ٹی ایس کے ذریعے ملازمین بھرتی کئے گئے اورملازمین کی تربیت ومہارت پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے یہ گرام پانچ سال پی ایس ڈی پی سے چلایا گیا مگر اب نامعلوم وجوہات کی بنا تعینات کردہ ملازمین کو فارغ اور پروگرام بھی بند کردیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ 52فیصد بچے صوبے میں غذائی قلت کا شکار ہیں لہذا حکومت بلوچستان نیوٹریشن پروگرام کو بند کرنے کی بجائے اس برقرار رکھے ۔ جمعیت علماءاسلام کے رکن اسمبلی یونس عزیز زہری نے کہا کہ خضدار کے تین سے چار تحصیل میں غذائی قلت کا شکار بچوںکی تعداد بہت زیادہ ہے وزیر صحت سے گزار ش ہے کہ پروگرام کو بند کرنے کے فیصلے کا ازسر جائزہ لیا جائے ۔ صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے کہا کہ بلوچستان نیوٹریشن پراگرام برائے برائے ماں وبچہ ایک انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ تھا تاہم اس پروگرام کو پی ایس ڈی پی میں نان ڈویلپمنٹ بجٹ کی بجائے ڈویلپمنٹ بجٹ سے چلایا جارہا تھا اس سلسلے میں محکمے نے وفاقی حکومت کو بھی فنڈز کے حصول کیلئے پی سی ون ارسال کیا تھا جبکہ صوبائی حکومت نے بھی پروگرام کا بجٹ بند کردیا ہے انہوںنے ارکان اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ جلد از جلد پروگرام کیلئے فنڈز کے اجراءکو یقینی بنائیں۔ پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نے ایوان کی توجہ گورنمنٹ کنٹریکٹرز کے مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ کنٹریکٹرز کو2017ءکے ریٹس دیئے جارہے ہیں اس کے باوجود کے تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والی اشیاءکی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، انہوںنے کہا کہ وزیر سی اینڈ ڈبلیو شیڈول کو دوبارہ زیر غور لائیں جس پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے یقین دہانی کرائی کہ وہ صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس معاملہ کو زیر غور لائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*