تازہ ترین

بلند پایہ تخلیق کا ر، ایک سنجیدہ فکر شاعر۔ راول حسین

لقمان اسد
ایک بلند پایہ تخلیق کار، حساس قلم کار اور ایک سنجیدہ فکر شاعر کے مرتبے اور مقام کا تعین انہی خیالات، تصورات اور افکار کے پیشِ نظر ہی کیا جاسکتا ہے کہ جنہیں وہ اپنے قلم کے ذریعے صفحہِءقرطاس پر رقم کر کے اظہار روبیان کی قوت عطا کرتا ہے۔
ایک بوسیدہ شہر ہاتھ لگا
اک نئے شہر کی کھدائی پر
ایسے نازک سے واسطہ ہے جسے
چوڑیاں بوجھ ہیں کلائی پر
گھر نہ تقسیم کر مرے بھائی
تیرا احسان ہوگا بھائی پر
کارخانے سے چھٹیاں لوں گا
گا¶ں میں فصل کی کٹائی پر
اس خوبصورت کلام اور ان منفرد اشعار کے خالق وطن عزیز کے نام ور، مقبول و معروف اور ممتاز شاعر،ڈرامہ نگار، ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور سکرپٹ رائٹرو صحافی راول حسین ہیں۔
جس طرح کسی بھی زبان کے ادب کی کسی بھی صنف میں کچھ بھی کہنا یا تحریر کرنا اور لکھنا ایک محنت طلب اور مسلسل ریاضت کا کام ہے، اسی طرح اردو ادب کی صنف شاعری میں مختصر بہر میں غزل کہنا ایک دشوار گزار کام اور عمل تصور کیا جاتا ہے لیکن راول حسین کو اس مشکل فن پر مکمل عبور اور دسترس حاصل ہے۔
آنکھ کو رات بھر جگایا ہے
تب کوئی خواب جھلملایا ہے
سب مجھے ایک ایک دھڑکن دیں
میں نے کاغذ پہ دل بنایا ہے
رنج تصویر کر گئے مجھ کو
تو نے دیوار سے لگایا ہے
میں تو حیران ہوں کہ اشکوں کا
رب نے کیا ذائقہ بنایا ہے
راول حسین کے فن میں جہاں بہت سی دوسری خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں وہاں ان کی غزل کا فکری اور فنی جائزہ لیتے ہوئے یہ بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ وہ بہت سہل انداز میں اپنے منفرد لب و لہجے کے ساتھ ایسی چونکا دینے والی بات اپنے اشعار میں کہہ جاتے ہیں جسے پڑھ کر قاری حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔
میں نے ان کی شاعری کا جب مطالعہ کیا تو اس دوران ان کی ایک اک غزل کے ہر ایک شعر کو بار ہا پڑھا،ہر بار ان کی غزل کے ہر شعر میں مجھے ایک نئی چونکا دینے والی فکر اور سوچ میسر آئی۔
سرد لہجوں میں کر رہے ہیں کلام
صحن میں دھوپ سینکتے ہوئے لوگ
رفتہ رفتہ زباں تک آئیں گے
مرِی بات کاٹتے ہوئے لوگ
راول حسین کے قلمی نام سے شہرت پانے والے خوب صورت شاعر کا اصل نام ”نیک محمد ”ہے۔
وہ 18اپریل 1982ءکو تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی کے علاقے ”کوٹ قاضی ”میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی علاقے میں حاصل کی۔ بی اے گونمنٹ کالج وہاڑی سے کرنے کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 2016ءسے 2018ءتک پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سنٹر میں بطور اسسٹنٹ پروڈیوسر اور سکرپٹ رائٹر خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں وہ آرٹ اینڈ کلچر ڈپارٹمنٹ سے منسلک ہوگئے اور یہاں دو سال تک بطور ریسرچ آفیسر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں۔
اب تک ان کے تین شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں، جنھیں بے حد پذیرائی ملی۔ جن میں ”تتلیاں آزاد کرو ”اہتمام ”اور ”ہتھیلی پہ صحرا ”شامل ہیں،جب کہ ٹیلی فلم ”میر اقسم”اور ڈرامہ سیریل ”خواب نہیں ہیں میرے”کی اسٹوریاں بھی ان ہی کا قلمی شاہکار ہیں۔ ان کی شاعری میں حساسیت کا رنگ غالب ہے۔ وہ روانگی، سادگی،نہایت خوب صورتی اور عمدگی کے ساتھ اچھوتے خیالات پر مبنی مضامین اپنے اشعار میں بیان کرنے پر قدرت اور مہارت رکھتے ہیں۔
یقینا ایک بڑے شاعر کی خوبی بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ اس سلیقے سے اپنا مدعا ضبطِ تحریر میں لا کر عوام الناس کے سامنے رکھتے ہیں کہ جس سے اجتماعی سطح پر شعور اجاگر ہو سکے۔ ان کی شاعری پڑھنے والے نہ صرف نئی فکر سے روشناس ہوتے ہیں بل کہ ان کے منفرد اسلوب، اندازِ بیاں اور بے ساختہ طرزِ سخن سے بھی بھر پور لطف اٹھاتے ہیں۔
راول حسین نے انتہائی کم عمری میں تخلیق کے میدان میں بے مثال اور بے شمار کامیابیاں سمیٹی ہیں۔
یقینی طور پر اس حوالے سے وہ قسمت کے دھنی ثابت ہوئے ہیں کہ علم و دانش اور فن و ادب کی کائنات میں جس مقام و مرتبہ پر فائز ہونے کے لیے سالہا سال درکار ہوتے ہیں، انھیں قدرت نے کم ہی مدت میں ان سرفرازیوں سے نواز دیا ہے۔
جانے کیا کیا لگی ہوئی تھی بھیڑ
کھو گئے مجھ کو ڈھونڈتے ہوئے لوگ
کوئی تتلی چھوئے تو مرجھا جائیں
باغ میں پھول توڑتے ہوئے لوگ
جانے کب سو گئے اُڑا کر نیند
وہ میرے ساتھ جاگتے ہوئے لوگ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*