تازہ ترین

بلند پایہ اشرافیہ اور بے مقام عوام

اسد اللہ غالب
”اشرافیہ اور عوام“ سعید آسی صاحب کے لکھے گئے کالموں کا مجموعہ ہے۔ان کالموں میں اُن تمام مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے جن کا عوام کو سامنا کرنا پڑتا ہے اور جو قیام پاکستان سے اب تک جوں کے توں برقرار ہیں۔ ان تمام ادوار میں جو بھی حکومت آئی‘ چاہے وہ جمہوری تھی یا فوجی‘سب نے غربت‘ مہنگائی اور بیروزگاری ختم کرنے کے جو نعرے لگائے‘ جلسے جلوس نکالے اور جو اقدامات کئے‘ ان اقدامات اور ان کے نتائج کا اجمالی خاکہ اس کتاب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سعید آسی صاحب نے باریک بینی کے ساتھ عوام کے ”مفاد“ میں کئے جانے والے ان نام نہاد اقدامات کا پوسٹ مارٹم کر ڈالا ہے جن کا کریڈٹ حکمران اور سیاستدان آخری سانس تک لیتے رہتے ہیں۔کتاب کا سرورق سادہ اور پرکشش ہے جس میں ایک طرف بڑے محلات دکھائے گئے ہیں دوسری طرف پھٹے پرانے کپڑوں میں ایک مفلوک الحال شخص بیٹھا ہے جو زمین پر سے خوراک کے ٹکڑے چن رہا ہے۔یہ سرورق اس معاشرے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جہاں ایک طرف تو عوام بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کر پاتے ہیں لیکن دوسری جانب ایسا دولتمند طبقہ بھی ہے جنہیں اپنی دولت محفوظ کرنے کے لئے بیرون ملک کے بینکوں میں رکھنا پڑتا ہے‘ مہنگے ترین علاقوں میں جائیدادیں خریدنا پڑتی ہیں اور گمنام جزیروں کی اِن آف شور کمپنیوں کے یہ مالکان ریاست اور اس کے وسائل پر اپنا حق یوں جماتے ہیں جیسے ان سے زیادہ اس ملک کے ساتھ کوئی مخلص آج تک پیدا ہی نہیں ہوا۔ مصنف حرفِ اول میں کتاب کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”جس عرصے کے دوران یہ کالم لکھے گئے اس میں کرونا وائرس کی غضبناکیوں سے انسانی معاشروں اور معیشتوں میں رونما ہوتی اتھل پتھل کے مناظر بھی شامل ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستانی معاشرہ تشکیل دینے کے دعوؤں کے برعکس انسانی کسمپرسی اور بے حالی و بد حالی کے اندوہناک مناظر بھی اسی عرصہ کا خاصہ بنے ہیں جس کی جھلک آپ کو ”اشرافیہ اور عوام“ میں شامل میرے کالموں میں نظر آئے گی“۔
کتاب کے ابتدائی کالموں میں کورونا کی تباہیوں اور پہلے سے تباہ حال معیشت کی مزید تباہی اور عوام کی بدحالی کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان مافیاز کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے جو ایسی خدائی آفات میں بھی عوام کی چمڑی اتارنے کا موقع ضائع نہیں کرتے۔ کیسے کیسے نئے مافیا کورونا وائرس میں نمودار ہوئے اور کس طرح گٹھ جوڑکے ذریعے ہفتوں میں دولت کی ایمپائرز کھڑی کی گئیں ان سب عوامل کا معلومات اور تجزیات سے بھرپور تذکرہ قارئین کے ذہن کے دریچے کھولتا چلا جاتا ہے۔ طب کا شعبہ انتہائی مقدس ہے لیکن فارماسوٹیکل کمپنیوں‘ لیبارٹریوں اور ڈاکٹروں کے گٹھ جوڑ نے اس پیشے کو بھی انڈر ورلڈ کی طرح کا ایک دھندا بنا لیا ہے جس پر سعید آسی صاحب نے گہری چوٹ لگائی ہے۔ عوام سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں جس طرح خوش گمان ہوئے جاتے ہیں اور جس طرح ایک ہی جماعت کو بار بار ووٹ دے کر اقتدار میں لے آتے ہیں ان خوش گمانیوں اورپھر ان سہانے سپنوں کو کرچیوں میں ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر ایک عام ووٹر کا دل کس طرح جلتا اور کڑھتا ہے اس پر بھی خوب حاشیہ آرائی کی گئی ہے۔سعید آسی جہاندیدہ‘ زیرک اور تجربہ کار صحافی ہیں۔ انہوں نے دنیا دیکھی ہے۔ بڑے بڑے برجوں کو بنتے اور اُلٹتے دیکھا ہے۔ سیاستدانوں کے جھوٹے نعروں اور اقتدار میں آنے کے بعد عوام سے کی جانے والی بے فائیوں کو دیکھا ہے‘ اس لئے ان سے بہتر عوام کی نبض پر کون ہاتھ رکھ سکتا ہے۔ وہ ایک عرصہ سے اپنے کالموں میں عوام کا مقدمہ لڑتے چلے آ رہے ہیں اور میدان ِصحافت میں عوام کے وکیل ہی دکھائی دیتے ہیں۔نظریہ پاکستان کے دفاع اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بھی سعید آسی پیش پیش ہیں۔ اپنے انہی کالموں میں انہوں نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کیا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ بھارت کبھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا‘ اسے جب بھی موقع ملتا ہے یہ ڈنگ ضرور مارتا ہے۔ایسے ہی ایک بھارتی ڈھونگی سوامی وشواآنند کا تذکرہ کرتے ہوئے سعید آسی لکھتے ہیں کہ”اسلام اور پاکستان کی دشمن مودی سرکار اور اس کے چیلے چانٹے انتہائی متحرک ہیں۔یہ خود کو مدر آف دی ورلڈ قرار دیتے ہیں“۔یہ ڈھونگی موبائل سے سعید آسی کو وٹس ایپ پر پیغام بھی بھجواتا تھا جو کہ بقول آسی صاحب ان کے موبائل میں محفوظ ہے۔ دراصل یہ سوامی انسانیت کی خدمت کی آڑ میں ہندو کے برتر ہونے کی مجہول ذہنیت کا پرچار کرتا تھا اور اس حوالے سے سعید آسی صاحب کے ساتھ کئی بار تکرار بھی ہو چکی ہے۔اسلام کے بنیادی ارکان کے بارے میں اس نے جو ہرزہ سرائی کی اس کا سعید آسی نے جو منہ توڑ جواب دیا‘ وہ پڑھنے کے لائق ہے۔
سعید آسی نے قلم کے معاملے میں انتہائی دیانت داری سے کام لیا ہے اور جو ان کے دل میں تھا‘ اسے تحریر کر ڈالا۔ یہ کالم پڑھتے وقت قاری کو گمان ہوتا ہے کہ یہ اس کے دل کی بات تھی اور یہی تو وہ کہنا چاہتا تھا۔ ایک اچھے کالم نگار اور دانشور کی خاصیت بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی بھرپور ترجمانی کرے اور ان کے دل کی بات کو الفاظ میں ڈھال کر انہی کے سامنے پیش کر دے۔مجید نظامی کے ساتھ انہوں نے اپنی نیاز مندی کا جس عقیدت کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ بھی کتاب کا بہترین باب ہے۔ بلاشبہ مجید نظامی چلتی پھرتی یونیورسٹی تھے اور سعید آسی بھی ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے صحافت کے امام مجید نظامی سے جو کچھ سیکھا اور سمجھا‘ وہ ان کے بے حد کام آیا۔کورونا کے دوران کئی سیاسی‘ سماجی اور صحافتی شخصیات رخصت ہو گئیں۔سعید آسی نے ظفر اللہ جمالی‘عبدالقادر حسن‘رؤف طاہر‘ناظم شاہ‘سعید اظہر‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘پیر کبیر علی شاہ‘ رحمت علی رازی اور دیگر کے انتقال پر لکھے گئے کالم اور یادوں کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا ہے۔
”اشرافیہ اور عوام“ بلاشبہ سیاست اور صحافت کے طالب علموں کے لئے کسی تحفہ سے کم نہیں۔ 432صفحات پر مشمل اس کتاب میں 115کالم شامل کئے گئے ہیں جسے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے۔انتساب اپنی معصوم پوتی صوفیا شاہد کے نام کیا ہے۔ کتاب اتنی دلچسپ اور جاندار ہے کہ قاری ایک مرتبہ شروع کر دے تو چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سعید آسی نے جو لکھا ہے وہ کسی لگی لپٹی کے بغیر ہی بیان کیا ہے۔ تحریریں کسی بھی قسم کی ملمع کاری یا لیپاپوتی سے پاک ہیں۔سعید آسی کی بے باک گفتگو کا عکس ان کی تحریروں میں بھی خوب جم کر نظر آیا ہے۔جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی‘ شعروں کا بھرپور اور خوبصورت انتخاب کیا گیا ہے۔ سعید آسی کو اس شاندار کتاب کی اشاعت اور کامیابی پر ڈھیروں مبارکباد۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*