تازہ ترین

بلدیاتی الیکشن کرائیں اور اختیارات بھی دیں

اسد اللہ غالب
دو روز قبل چوہدری عبد الغفار صاحب کے بارے میں کالم شائع ہوا،وہ نئے بننے والے یو کے کمیونٹی فاﺅنڈیشن کے سینئر وائس چیئرمین ہیں۔فاﺅنڈیشن کے چیئر مین شاہد فاروق کا اسکاٹ لینڈ سے فون آیا کہ چوہدری عبدالغفار صاحب نے ہم اوور سیز پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس پر ہم آپ کے اور ادارہ نوائے وقت کے بے حد مشکور ہیں۔شاہد فاروق صاحب نے بتایا کہ وہ مدر ویل کے علاقے سے منتخب کونسلر ہیں جو کہ نارتھ لانک شائر کاﺅنٹی میں شامل ہے۔ہمیں یہاں مقامی حکومت کی سطح کے تمام اختیارات حاصل ہیں۔تمام سرکاری ادارے ہمارے ماتحت کام کرتے ہیں،سڑکوں کی تعمیر و مرمت،پانی اور بجلی کی فراہمی،ہسپتالوں اور اسکولوں کا نظام سب کچھ ہماری نگرانی میں چل رہا ہے۔نئے تعمیراتی کاموں کے لیے ہم ٹینڈر جاری کرتے ہیں اور ان کی منظوری بھی دیتے ہیں،ہمارے علاقے کے رکن پارلیمنٹ کا ان کاموں سے کوئی سروکا نہیں ہے کیونکہ اسے پاکستان کی طرح کروڑوں کی گرانٹ نہیں دی جاتی۔ ہمارے ارکان پارلیمنٹ سرکاری افسروں کے تقرر و تبادلے کے مجاز نہیں ہیں۔ان کا کام صرف پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون سازی کرنا ہے اور ملکی نظام کو چلانے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے اس لیے عوام کی مشکلات کا حل ان کی دہلیز پر جا کر کیا جاتا ہے۔یہاں کے لوگوں کو سرکاری دفتروں کے چکر کاٹنے کی مشقت میں نہیں ڈالا جاتا۔جب کہ پاکستان میں باوا آدم ہی نرالا ہے،بلدیاتی اداروں کے اول تو الیکشن نہیں ہوتے الیکشن ہو بھی جائیں تو انہیں اختیارات اور فنڈز نہیں دئیے جاتے۔ پاکستان کے منتخب کونسلر تحصیل اور ضلع ناظم اپنے علاقوں کے ارکان اسمبلی کے محتاج بنا دئیے گئے ہیں۔جنرل ضیا ءالحق کا مشہور مقولہ ہے جو انہوں نے میاں نواز شریف کے اتفاق ہسپتال کے افتتاح موقع پر ارکان اسمبلی سے مخاطب ہوکر کہا تھا،کہ آپ کو بھاری فنڈ دوں گا آپ اس کی مدد سے اپنے اپنے علاقوں میں اپنے کلے مضبوط کریں۔ اور اگلا الیکشن جیتیں۔ شاہد فاروق صاحب نے اپنے اس دکھ کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جب فوجی حکومت آتی ہے تو بلدیاتی ادارے بحال کردیے جاتے ہیں اور کس قدر ستم ظریفی ہے کہ جب سول منتخب حکومتیں آتی ہیں تب بلدیاتی اداروں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔سارے اختیارات وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوجاتے ہیں جو کہ پاکستان کے آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ایوب خان نے بلدیاتی ادارے تشکیل دئیے،ان سے صرف ایک کام لیا گیا کہ وہ ایوب خان کو صدارتی الیکشن میں ووٹ دیں۔اس الیکشن سے پہلے تمام کونسلروں کو اغوا کرلیا گیا تھا اور ایوب خان کے حق میں ووٹ ڈالنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔ یوںبلدیاتی اداروں کو قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔اس دور میں کونسلروں کو موری ممبر کہا جاتا تھا جس سے مراد یہ تھی کہ وہ محلے کی نالیوں اور گلیوں کی صفائی کیا کریں یا کروایا کریں۔جنرل ضیاءالحق کے دور میں ایک مرتبہ پھر بلدیاتی ادارے بحال ہوئے،افغان جہاد کی وجہ سے پاکستان میں پیسہ بہت آرہا تھا، ضیاءالحق نے فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے ضلع ناظم،تحصیل ناظم اور یونین کونسل ناظم پر روپے پیسے کی بارش کردی،ضیاءالحق غیر سیاسی نظام کے حامی تھے۔انہوں نے ایک نامزد مجلس شوریٰ بھی قائم کی یہ صرف ڈیبیٹنگ سوسائٹی تھی۔ پھر پارلیمنٹ کے الیکشن بھی ہوئے مگر غیر سیاسی بنیادوں پر،اس دوران بلدیاتی اداروں کو مالامال کردیا گیا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جتنی تعمیروترقی بلدیاتی اداروںنے اس دورمیں کی نہ اس سے پہلے دیکھنے کو آئی نہ اس کے بعد۔ ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا۔نعرہ لگا کہ کھیتوں کو منڈی سے ملا دو۔ چنانچہ اس بات کا سارا کریڈیٹ جنرل ضیاءالحق کو جاتا ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں چھوٹی بڑی سڑکوں کا جال بچھ چکا ہے۔شاہد فاروق صاحب نے اس افسوس کا اظہار کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف صاحب نے بلدیاتی اداروں کو خاطر خواہ اہمیت نہ دی۔اس لیے کہ انہیں اپنی کمزور حکومت کے سہارے کے لیے ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔اور ارکان اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کے لیے مویشیوں کی طرح منڈیاں لگتی تھیں پھر بھی ان دونوں کی حکومتیں اپنی اپنی ٹرم پوری نہیں کر سکیں،شاہد فاروق صاحب نے کہا کہ اگر بلدیاتی ادارے موجود ہوتے،حکومت ٹوٹنے کے بعد بھی وہ اپنا کام جاری رکھ سکتے تھے اور ملک میں تعمیر و ترقی کا عمل جاری رہ سکتا تھا۔شاہد فاروق نے کہا کہ جنرل مشرف کے دور میں ایک بار پھر بلدیاتی اداروںکی سنی گئی اور جنرل نقوی کی رپورٹوں کے مطابق ایک بار پھر بلدیاتی اداروں کے چہرے پر رونق دیکھنے کو ملی۔اس مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان میں ڈالروں کی بارش ہورہی تھی اس کا بڑا حصہ تو ارکان اسمبلی کی گرانٹوں میں چلا گیا اور واجبی حصہ بلدیاتی اداروں کو بھی ملا۔ مگر جنرل نقوی نے جو نعرہ لگایا تھا کہ مقامی حکومتوں کو خودمختار بنا یا جائے گا اس پر عمل نہ ہوسکا،پھر بھی دور دراز دیہات کی گلیاں اور نالیاں پختہ ہوگئیں،نئے اسکول کھلے اور علاقائی سطح پر چھوٹے ہسپتال بھی تعمیر کیے گئے،شاہد فاروق نے کہا کہ مشرف کے بعد زرداری اور نواز شریف نے بلدیاتی اداروں کو ایک بار پھر پس پشت ڈال دیا۔موجودہ حکومت کا منشور تو یہ ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے مگر جو ادارے موجود تھے ان کو عضو معطل بنا دیا گیا اور انہیں اختیارات سے محروم رکھا گیا،وفاق اور صوبوں کی چپقلش کی وجہ سے بھی بلدیاتی ادارے متاثر ہوئے اب خدا خدا کرکے چھاﺅنی کے علاقوں میں بلدیاتی الیکشن کروا دئیے گئے ہیں اور سننے میں آرہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے بھی نئے سرے سے الیکشن ہوں گے،شاہد فاروق نے کہا کہ پاکستان میں عام آدمی کی پسماندگی کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ یہاں مقامی سطح کی حکومتوں کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو یورب اور امریکہ میں دیکھنے میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بلدیاتی نمائندہ اپنے وارڈ کے لوگوں کے سامنے مکمل طور پر جواب دہ ہوتا ہے۔ اول تو اس سے کسی کو شکایت پیدا ہوتی نہیں کیونکہ کارکردگی دکھائے بغیر وہ دوسری مرتبہ منتخب نہیں ہوسکتا۔شاہد فاروق نے کہا کہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں نے اپنے علاقے کے لوگوں کے دل جیتنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور اسی بنا پر مجھے دوسری مرتبہ بھی کونسلر منتخب کرلیا گیا ہے۔
میں نے برطانیہ اور یورپ کے کئی ملکوں کا دورہ کیا ہے،جاپان اور امریکہ کے سرکاری دوروں پر بھی جانے کا مجھے موقع ملا،ملائیشیا اور سنگا پورکے نظام کا مشاہدہ بھی میں نے ان کے اندر جا کر کیا۔امریکہ میں پولیس کا چیف کانسٹیبل لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے،سیشن جج کو بھی لوگ ہی منتخب کرتے ہیں۔اس لیے یہ حاکم بننے کی بجائے لوگوں کے خادم بنتے ہیں۔امریکہ میں کسی قصبے کو اپنی سڑک کی تعمیر کے لیے وائٹ ہاﺅس کے چکر نہیں لگانے پڑتے، نہ برطانیہ میں مدر ویل کی گلیوں کے لوگ نمبر ٹین ڈاﺅننگ اسٹریٹ کے محتاج ہیں اس لیے ان کے نمائندے کی حیثیت سے میں ان کی بھرپور خدمت میں مگن رہتا ہوں یہی میری کامیابی کا راز ہے اور یہی ہمارے ملکی نظام کے استحکام کا راز ہے۔شاہد فاروق نے کہا کہ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کے الیکشن بلا تاخیر کروائے جائیں اور بلدیاتی نمائندوں کو ان تمام اختیارات سے لیس کیا جائے جو یورپ اور امریکہ کے بلدیاتی اداروں کا خاصہ ہے۔بلدیاتی ادارے کام کرتے رہیں تو پاکستان ہر قسم کے سیاسی زلزلوں کے نقصان سے بچ سکتا ہے۔میں نے چودھری سرور کو کونسلر بنتے دیکھا، پھر وہ تین بار برٹش پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئے اور یہاں سے جمپ لگا کر و ہ پاکستان میں صوبائی گورنر بن گئے۔میں شاہد فاروق کو انہی کے نقش قدم پر چلتے دیکھ رہاہوں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*