تازہ ترین

برف پگھل رہی ہے!!!

محمد اکرم چودھری
گذشتہ چند ماہ میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں بہتری کے لیے دونوں ممالک نے بہت کام کیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بات چیت کا مثبت نتیجہ سامنے آیا ہے۔ سعودی سفیر نواف المالکی نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ بڑا بریک تھرو ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان چند ماہ تک تعلقات بہت اچھے نہیں رہے تھے۔ دونوں طرف یہ صورتحال بہرحال ناپسندیدہ ہی سمجھی جا رہی تھی۔ چونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بہت مضبوط، دیرینہ مذہبی اور سفارتی تعلقات رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ہر محاذ پر سعودی عرب کی غیر مشروط حمایت کی ہے جب کہ مشکل وقت میں سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ دونوں ممالک کے لیے دور رہنا یا ناراض رہنا یا پھر تعلقات میں سردمہری غیر معمولی سمجھا جا رہا تھا اور واقعی یہ غیر معمولی تھا کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں اور یہ حکومتوں کے محتاج نہیں ہیں۔ سعودی سفیر نواف المالکی کے مطابق وزیراعظم عمران خان عید سے قبل یا عید کے فوری بعد دورہ کریں گے۔اس دورے میں وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ سعودی ولی عہد محمد سلمان اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات طے ہونا یقیناً خوش آئند ہے۔ لاکھوں پاکستانی بسلسلہ روزگار سعودی عرب میں مقیم ہیں، وہاں انہیں مختلف حوالوں سے مسائل کا بھی سامنا رہتا ہے ان کے مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات بہتر نہ ہوں۔ ساتھ ہی پاکستان کو درپیش مالی مشکلات میں بھی سعودی عرب کا کردار نہایت اہم ہے۔ پاکستان اپنے خطے میں بھی مختلف ممالک سے بات چیت میں مصروف ہے۔ روس کے ساتھ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب بھی قریب آنے کی کوششوں میں ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ایران اور سعودی عرب کے مابین ہونے والی بات چیت بارے میں میڈیا رپورٹس کو دیکھا ہے انہوں نے خبروں کی تصدیق اور تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب کیساتھ ڈائیلاگ کا ہمیشہ خیر مقدم کرتا ہے۔ ایران اسے دونوں ملکوں کے مفاد کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایک طرف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی حکام سے ملاقات کی خبروں کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا تو دوسری طرف سعودی حکام نے بھی ایرانی عہدیداروں سے عراق میں ہونے والی ملاقات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ واضح رہے کہ برطانوی اخبار نے سعودی عرب اور ایرانی حکام کی کسی تیسرے مقام پر ملاقات کا دعویٰ کیا تھا۔ جب میں یہ ردعمل دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھارت سے بیک ڈور مذاکرات کی خبروں پر ردعمل یاد آتا ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ ایسی خبروں کی نفاست و مہارت کے ساتھ سامنا نجانے کیوں نہیں کر پاتے وہ یقینا جانتے ہیں کہ دونوں ممالک ان دنوں قریبی بات چیت میں، مذاکرات بھی ہو رہے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ان مذاکرات میں بھی پاکستان نے بھارتی حکام پر واضح کیا ہے کہ مذاکرات اس وقت ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں جب کشمیر کو پانچ اگست 2019 والی پوزیشن پر بحال نہیں کیا جاتا۔ اس پس منظر میں کیا وزیر خارجہ کو ایران کی طرح درمیانی راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے دبئی میں مذاکرات کے سلسلے میں کسی ملاقات کی واضح طور پر تردید کر دی ہے۔ اگر دبئی میں ملاقات نہ بھی ہو لیکن کیا دونوں ممالک کے مابین جو مذاکرات ہوئے ہیں ان سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ وزارت خارجہ کو حقائق سامنے رکھتے ہوئے اپنا کیس زیادہ مہارت و نفاست کے ساتھ پیش کرنا چاہیے کیونکہ سفارتی تعلقات کی نوعیت نہایت حساس ہوتی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے دبئی نہیں آئے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی خفیہ ملاقات ہو رہی ہے، لیکن ایسی کوئی ملاقات طے تھی نہ ہو رہی ہے۔ اس سوال پر یا اس جیسے سوال پر اس سے زیادہ بہتر جواب دیا جا سکتا تھا اور اس سے بہتر جواب دیا جانا چاہیے تھا۔کرونا وائرس کی حالیہ لہر نے دنی کے مسائل میں اضافہ کیا ہے وہیں بھارت کو کرونا کی وجہ سے شدید مسائل کا سامنا ہے لیکن بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی شاید کرونا کو کچھ نہیں سمجھ رہے ایک طرف دہلی میں ہسپتال بھر گئے ہیں تو دوسری طرف نریندرا مودی نے مغربی ریاست بنگال میں پہلی بار بڑا ہجوم اکٹھا ہونے پر عوام کو سراہا یہ ایک انتخابی جلسہ تھا نریندرا مودی کی اس حرکت پر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ ایسا بھی پہلی بارہوا ہے کہ جب ملک میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہیں اور ریکارڈ اموات ہورہی ہیں۔ کانگریس نے کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر بنگال میں انتخابی سرگرمیاں ملتوی کیں لیکن نریندرا مودی کیسے باز آ سکتے ہیں ان کے لیے زندگیوں سے زیادہ اقتدار اہم ہے، انتخابات اہم ہیں سو ان کے لیے جس چیز کی اہمیت ہے وہ کرتے جا رہے ہیں۔ دہلی میں انفیکشن کی شرح بڑھ کر تقریبا تیس فیصد ہو چکی ہے۔ دہلی کے ہسپتالوں میں بیڈ اور آئی سی یو کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ دہلی حکومت کے سب سے بڑے لوک نائک اسپتال میں نہ تو عام بستر اور نہ ہی آئی سی یو بستر خالی ہے۔ کورونا کے مریض تمام اسپتالوں میں کھڑے ہیں۔ نریندرا مودی کو ہسپتالوں میں کھڑے لوگ نظر نہیں آ رہے لیکن وہ جلسوں میں کھڑے لوگوں کی تعریف کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی عوام کی زندگیوں پر توجہ کس حد تک ہے اور وہ انسانی زندگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ان واقعات سے سب کو اندازہ ہو جانا چاہیے۔ یہی حالات انہوں نے کشمیر میں کیے ہیں لاکھوں مسلمانوں کے گھروں کو جیل بنا دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھارت میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسز کے سبب بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ ان حالات میں نریندرا مودی کے انتخابی جلسے ان کی اقتدار کی ہوس کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*