تازہ ترین

برص جلد کی دلکشی متاثر کرنے والا مرض

چہرہ جسم کا عکاس ہوتا ہے۔چہرے کی جلد ترو تازہ توانا اور اگر داغ دھبوں جھائیوں سے محفوظ ہو تو شخصیت نکھر جاتی ہے۔جلد جسم انسانی کی حفاظت ہی نہیں کرتی بلکہ خوبصورتی بھی فراہم کرتی ہے۔جلد کو آئینہ صحت کہا جاتا ہے۔خوبصورت جلد اور چہرہ ہمیشہ دلکشی کا باعث بنتا ہے۔ مردوں کی نسبت خواتین تو خصوصی طور پر اس طرف توجہ دیتی ہیں اور جلد خصوصاً چہرہ کو خوبصورت بنانے کے لئے مختلف قسم کی کریمیں اور لوشن استعمال کرتی ہیں۔
دنیا بھر میں جلد کی آرائش و زیبائش کے لئے بہت زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔جلد جسم کے درجہ حرارت کو قائم رکھتی اور جسم کے فاسد مادوں کو خارج کرتی ہے۔یہ اخراج مسامات سے پسینہ کے ذریعے ہوتا ہے۔وٹامن ڈی جسم کے لئے اہم ہے کیونکہ یہ جسم کی نشوونما کرتا ہے۔
دھوپ سے جلد وٹامن ڈی بنانا شروع کر دیتی ہے۔
جلد کو جو امراض متاثر کرتے ہیں اور جلد کا حسن ماند کر دیتے ہیں،ان میں برص (Leucoderma) زیادہ قابل ذکر ہے۔
اس مرض میں سطح جلد پر سفید دھبے نمودار ہو جاتے ہیں۔مریض نفسیاتی الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔کئی معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں جو آگے چل کر احساس کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اگر ابتداءمیں مناسب علاج معالجہ اور تدابیر اختیار کر لی جائیں تو اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔برص کے سفید دھبے جب شروع ہوتے ہیں تو ان کے اردگرد سرخی مائل Pigment نمودار ہوتے ہیں جو وقت گزرنے اور کوئی مناسب علاج نہ کرنے کے باعث جسم کے بڑے حصے کو سفید کر دیتے ہیں۔
قدیم روایات کے مطابق اس مرض کا سبب مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینا ہے۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مچھلی کی وہ قسم کونسی ہے تاہم جدید تحقیقات نے اس نقطہ نظر کی تردید کی ہے۔اس حوالے سے یہ بات پیش نظر رہے کہ مشرق بعید کے بہت سے ممالک فلپائن،بنگلہ دیش میں مچھلی اہم غذا ہے اور وہاں کے لوگ مچھلی کے بعد دودھ کا استعمال کرتے ہیں مگر وہاں یہ مرض زیادہ نہیں پایا جاتا۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ متاثرہ جگہ پر رنگ بنانے والے خلیات،جو کہ جلد کی اوپری تہہ میں پائے جاتے ہیں،وہ رنگ بنانے کا عمل ترک کر دیتے ہیں،وگرنہ یہ خلیات ہر لحاظ سے اپنی ساخت اور تعداد میں نارمل ہوتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ جن افراد کو یہ مرض لاحق ہو انہیں ذیابیطس اور تھائی رائیڈ غدود (گلینڈ) کے لئے بھی اپنا معائنہ ضرور کروا لینا چاہیے۔
یہ داغ عمر کے کسی بھی حصے میں اور جسم پر کہیں بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔مقامی طور پر رنگ کے ذرات نہ ہونے کی وجہ سے سفید دھبوں سے جلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔چونکہ جلد میں رنگت کی موجودگی دھوپ سے بچا¶ کا کام کرتی ہے،اس لئے ایسے افراد کو دھوپ میں جانے سے گریز کرنا چاہیے۔اگر دھوپ میں جانا ناگزیر ہو جائے تو مناسب ڈھکے ہوئے لباس کا استعمال کریں۔
دھوپ ایسے افراد کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
برص بہرحال ایک بے ضرر مرض ہے،جو کہ کسی طرح سے بھی متعدی نہیں۔معاشرے میں کہیں بھی ایسا فرد نظر آئے،تو اسے ایک نارمل انسان کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔اس سے بچنے یا کترانے کی قطعاً ضرورت نہیں،کیونکہ یہ ایک عام کیفیت ہے جو کہ کسی کو بھی عمر کے کسی حصے میں پیش آسکتی ہے۔
برص کے داغوں کے کنارے گہری رنگت کے ہوتے ہیں،جبکہ دھبوں کا رنگ سفید ہوتا ہے۔
ابتداءمیں بالوں کی رنگت متاثر نہیں ہوتی،مگر بعد میں جب یہ دھبے پرانے ہو جاتے ہیں،تو اس جگہ پر موجود بالوں کی رنگت بھی سفید ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ بھی ان افراد میں سر کے بال وقت سے پہلے سفید ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
علاج کے ضمن میں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ چند دھبے علاج کا اثر جلد قبول کر لیتے ہیں،جبکہ چند میں کچھ عرصہ درکار ہوتا ہے۔
جن افراد میں یہ دھبے جسم کے کھلے حصوں پر ہوتے ہیں،انہیں دھوپ سے احتیاط برتنا ضروری ہے،کیونکہ ایسے افراد میں رنگت کے ذرات نہ ہونے کی وجہ سے سن برن (دھوپ کی تمازت سے جلد کے جل جانے) کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ آنکھوں کو دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لئے رنگین چشمے کا استعمال مددگار ہوتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق مچھلی اور دودھ کے بہ یک وقت استعمال سے برص کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ ایک غلط مفروضہ ہے اور میڈیکل سائنس میں کہیں بھی اس کی تائید نہیں۔دور کیوں جائیں،لوگ اکثر دعوتوں اور پارٹیوں میں مچھلی نوش فرماتے ہیں اور میٹھی ڈش کے طور پر اکثر پڈنگ اور کھیر وغیرہ بھی کھائی جاتی ہے،جس میں دودھ ہوتا ہے۔پھر چائے میں بھی دودھ استعمال ہوتا ہے۔گھروں میں مچھلی کو پکانے کے لئے دہی میں بھونا جاتا ہے،جو کہ دودھ سے بنتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*