تازہ ترین

بد عنوانی کےخلاف احتساب کا عمل بلار کاوٹ جاری رہیگا

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بد عنوانی کےخلاف احتساب کا عمل بلارکاوٹ جاری رہے گا اس طرح صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں پائی جانے والی بے قاعدگی کے حوالے سے وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار حکام کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا گیا ابتدائی مرحلے میں متعلقہ افسران کو شوکاز نوٹسز جاری کئے جارہے ہیں کیونکہ احتساب اہلیت ،ساکھ اور شفافیت ہماری اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بدعنوانی کےخلاف احتساب کے عمل کا بلارکاوٹ جاری کا مذکورہ بیان قابل تعریف ہے کیونکہ بد عنوانی جو ایک ناسور ہے کی وجہ سے ہی بلوچستان مسائل کا شکار ہے بد عنوانی کی وجہ سے اس میں ترقیاتی کام نہیں ہوتےءفنڈز کا استعمال دیانتداری سے نہ ہونا بلاشبہ ایک لمحہ فکریہ ہے بد عنوانی کے باعث اس عمل میں مصروف تو خوشحال ہیں لیکن صوبہ جو معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بے شمار مسائل کا شکار ہے جس پر سابقہ حکومتوں نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔
اب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اس حوالے سے مذکورہ بیان دے کر واضح کردیا ہے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کا خاتمہ کرکے رہے گی اور اس کے خلاف احتساب کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا کیونکہ اس سلسلے میں انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ احتساب حکومت کی اولین ترجیح ہے اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر صوبے میں بد عنوانی کا خاتمہ ہوجائے تو بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں کے برابر آجائے گا اور اس کے مسائل حل ہونگے چونکہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالامال صوبہ ہے اس میں سونے سے لے کر لوہے تک کے ذخائر ،گیس ،کوئلہ ،سنگ مرمر اور دیگر قیمتی معدنیات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا پسماندہ ہونا بلاشبہ بڑے افسوس کی بات ہے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں پائی جانے والی باقاعدگیوں کے حوالے سے ذمہ دار حکام کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لانی چاہےے کیونکہ اس میں مرتکب افراد صوبے کے ہمدرد نہیں اس کے دشمن ہیں اگر وہ بد عنوانی میں ملوث پائے جائیں تو ان کو عبرتناک سزا دینی چاہےے تاکہ اس کا سدباب ممکن ہوسکے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا بدعنوانی کے خلاف احتساب کا عمل جاری رکھنے کا بیان صوبے سے والہانہ محبت کا اظہار ہے وہ صوبے کو ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لانے کا عزم رکھتے ہیں جوکہ بلاشبہ صوبے کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ایسا حکمران ملا ہے جو اس کی ترقی کےلئے کوشاں ہے امید ہے کہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہونگے اور اس کے صوبے کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*