تازہ ترین

بدلتا موسم اور آشوبِ چشم

ڈاکٹر ہماء غفار
آنکھیں قدرت کا انمول عطیہ ہیں۔یہ نہ صرف انسانی شخصیت کو دید و نظارہ سے روشناس کراتی ہیں بلکہ کائنات کے رنگوں سے محفوظ ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ نظر ہے تو نظارہ ہے،نظارہ ہے تو جہان پیارا ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اس کی حفاظت اسی قدر اہتمام سے کی جاتی ہے۔
آنکھیں جسمِ انسانی میں سب سے زیادہ حساس اور نازک ہوتی ہیں۔ہلکا سا ذرہ بھی ان کے ”طور“ بدلنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔لہٰذا ان کی حفاظت بھی اسی قدر احتیاط اور توجہ کی متقاضی ہوتی ہے۔ آنکھوں کی ہلکی سی تکلیف بھی بہت زیادہ اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ماحولیاتی آلودگی،گرد و غبار اور تیز روشنی ہمیشہ آنکھوں کو متاثر کرتی ہے۔موسمی اثرات کی وجہ سے آنکھوں کا ایک مرض بکثرت پھیلتا ہے۔
جب یہ مرض پھیلتا ہے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر ساتواں شخص اس مرض میں مبتلا پایا جاتا ہے۔اس مرض کو آشوبِ چشم کہا جاتا ہے۔
برسات کے بعد اور موسم کی تبدیلی کے وقت آشوبِ چشم بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔یہ ایک انتہائی تکلیف دہ مرض ہے جسے طبی اصطلاح میں رمد(Pinkeye) کہا جاتا ہے جبکہ عوام الناس اسے آنکھ دکھنا یا آنکھ آنا بھی کہتے ہیں۔اس مرض میں مریض کی آنکھیں سوج کر سرخ اور بھاری ہو جاتی ہیں۔
آنکھوں میں دکھن اور جلن کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے۔آنکھوں سے پانی نما پتلی رطوبت ہر وقت بہتی رہتی ہے اور آنکھیں تیز چمک یا روشنی برداشت نہیں کر پاتی ہیں۔سو کر اُٹھنے سے آنکھوں کی پتلیاں باہم چپک جاتی ہیں اور مریض درد کی شدت کو بڑی مشکل سے برداشت کرتا ہے۔آشوبِ چشم عام طور پر ایک چھوتی بیماری ہوتی ہے جو ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو جاتی ہے۔
اگرچہ آشوبِ چشم کا کوئی خاص موسم یا وقت نہیں ہوتا لیکن موسمِ برسات کے بعد اس کے حملہ آور ہونے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ بارش ہو جانے کے بعد نکلنے والی دھوپ شدید تیز ہوتی ہے جو نہ صرف چبھن کا باعث بنتی ہے بلکہ آنکھوں کو چندھیانے کا سبب بھی۔سورج کی چمک آنکھوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس سے آنکھیں متورم ہو کر آشوبِ چشم میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
علاوہ ازیں سڑکوں پر چلنے والی ٹریفک سے برسات کے دنوں میں گندے ذرات،گرد و غبار اور ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہو جانا بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن جاتا ہے۔
وبائی امراض پر قابو پانا آسان نہیں ہوتا۔ہاں البتہ چند ایسے امراض جو مخصوص مدت کے بعد خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔آشوبِ چشم بھی ان میں سے ایک ہے۔سات سے دس دنوں کے بعد خود ہی چلا جاتا ہے۔
جب اس کی وبا پھیلتی ہے تو اس کے سامنے بچے،بوڑھے،جوان مرد اور عورتیں سب ہی بے بس ہوتے ہیں۔آشوبِ چشم کے حملہ سے بچنے اور اس کی شدت میں کمی کرنے کے لئے چند حفاظتی تدابیر اور احتیاطی تراکیب تحریر کی جاتی ہیں جن پر آپ عمل پیرا ہو کر خاطر خواہ حد تک آشوبِ چشم کے اثرات سے محفوظ رہیں گے۔
حفاظتی تدابیر:آنکھوں پر ہلکے سبز،سیاہ اور نیلے شیشے والی عینک کا استعمال کیے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔
عینک لگائے بغیر موٹر سائیکل یا سائیکل ہر گز نہ چلائیں،کیونکہ ہوا میں شامل ذرات اور دھواں بھی آنکھوں میں پڑ کر آشوبِ چشم کا باعث بنتے ہیں۔تیز روشنی اور چمک دار چیزوں کی طرف دیکھنے سے پرہیز کریں۔
ٹی وی بھی عینک لگائے بغیر نہ دیکھا جائے اور ٹی وی سکرین کافی فاصلے پر رکھیں۔اسی طرح کمپیوٹر استعمال کرنے والے افراد بھی احتیاط کریں کہ کمپیوٹر پر عینک لگائے بغیر نہ بیٹھا جائے۔
خوراک میں تمام تر گرم اور ترش اشیاء حتیٰ المقدور کم کر دی جائیں۔سکوائش، سکنجبین وغیرہ استعمال کریں لیکن موسم کی مناسبت اور مناسب مقدار میں۔اسی طرح چکنائی اور تیز مصالحہ جات والی غذاؤں سے بھی مقدور بھر بچنے کی کوشش کریں بالخصوص بینگن،بھنڈی،گوبھی،دال مسور،دال چنا اور بڑے گوشت وغیرہ سے مکمل طور پر اجتناب برتا جائے۔
حفظِ ماتقدم کے طور پر 50 گرام سفید پھٹکڑی کو 5 کلو پانی میں حل کرکے 200 ملی لیٹر عرق گلاب ملا کر گھر میں رکھیں اور صبح و شام مذکورہ محلول سے آنکھوں کو دھوتے رہیں،یوں آپ آشوبِ چشم کے حملے سے ممکنہ حد تک بچے رہیں گے۔
اسی طرح اس مرض میں مبتلا افراد سے ہاتھ ملانے کے بعد آنکھوں کو ہاتھ لگانے سے احتیاط کریں۔مریضوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے پینے سے بھی پرہیز کریں۔صاف ستھرے رہیں،باہر سے گھر آنے کے فوراً بعد ہاتھ منہ ضرور دھوئیں۔
احتیاطی تدابیر:خدانخواستہ اگر آپ آشوبِ چشم کی لپیٹ میں آچکے ہیں تو گھبرایئے نہیں آپ اس تکلیف سے جلد ہی نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
آپ درج ذیل باتوں پر دھیان دیں:دھوپ میں نکلنا بند کر دیں اور تیز روشنی کی طرف بھی ہر گز نہ دیکھیں۔
نظری کام کرنے والے خواتین و حضرات لکھنے پڑھنے سے گریز کریں اور دماغی محنت بالکل نہ کریں۔
گرد و غبار اور دھواں آنکھوں میں نہ پڑنے دیں۔
آنکھوں پر سبز رنگ کا چشمہ اور سر پر کپڑا لٹکائیں۔
آنکھوں پر برف کی ٹکور کریں اور خارش یا جلن ہونیکی صورت میں آنکھوں کو زور سے نہ ملیں بلکہ کوشش کریں کہ بالکل بھی نہ ملیں۔
آنکھوں سے بہتے پانی کو پونچھنے کیلئے ٹشو پر ہلدی استعمال کریں۔
بار بار پپٹوں کو ملنا اور آنکھوں کو صاف کرنا مناسب نہیں ہوتا اگر ضرورت پڑے بھی تو نرمی اور آہستگی سے ملیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*