تازہ ترین

باہمی رابطوں کے فروغ کیلئے پاک سعودی اعلیٰ مشاورتی کونسل قائم کی جائےگی،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور سعودی عرب نے دو طرفہ تعلقات کے استحکام کیلئے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ باہمی رابطوں کے فروغ کیلئے سعودی-پاکستان اعلیٰ مشاورتی کونسل قائم کی جائےگی، 20 لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب کی سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ،ہم باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے مزید معاشی رابطے کس طرح بناسکتے ہیں،پاکستانی اور سعودی وزارت خارجہ میں ایک فوکل پرسن مقرر کیا جائےگا جو ہونے والی پیش رفتوں کی نگرانی کریں گے ،ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر پاکستان کی مکمل اور واضح حمایت کرنے پر سعودی وزیر خارجہ کے شکر گزار ہیں ، امید ہے پاکستانیوں کیلئے سعودی عرب کی جانب سے عائد ویزہ پابندیوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔ منگل کو وزارتِ خارجہ میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں سعودی عرب کے وفد کی قیادت سعودی وزیر خارجہ شہزادہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کی،مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور زیر بحث آئے۔وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور ان کے وفد کو وزارتِ خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا ۔ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یکساں مذہبی ،ثقافتی اور تاریخی اقدار پر استوار ،گہرے برادرانہ مراسم ہیں ،دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانیوں کے دلوں میں سعودی عرب اور خادمین حرمین شریفین کیلئے والہانہ عقیدت پائی جاتی ہے، اس لیے ہم سعودی عرب کی خوشحالی اور تعمیر و ترقی کو اپنی ترقی سے تعبیر کرتے ہیں۔وزیر خارجہ نے خطے میں قیام امن بالخصوص خلیجی ممالک کے مابین تنازعات کے حل کیلئے سعودی عرب کے متحرک کردار کو سراہا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی جانب سے اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے یک-طرفہ اور غیر آئینی اقدامات کے بعد سعودی عرب کی علاقائی و عالمی فورمز پر پاکستان کے موقف کی حمایت قابلِ ستائش ہے، او آئی سی کنٹکٹ گروپ برائے جموں و کشمیر میں سعودی عرب کے مثبت کردار پر سعودی قیادت کے شکر گزار ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے،اپنی توقعات سعودی قیادت سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی روابط سے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو طرفہ تعلقات کو وسعت ملی۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مشکل حالات میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی معاونت پر سعودی قیادت کے ممنون ہیں۔دو طرفہ سیاسی، اقتصادی، سرمایہ کاری کے مواقعوں اور دفاعی تعاون کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کیلئے سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے قیام پر عملی اقدامات کا آغاز خوش آئند ہے، دوران مذاکرات افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان، خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، افغان مسئلے کے پر امن حل کیلئے عالمی برادری افغان قیادت پر زور دے کہ وہ جامع مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کا پر امن سیاسی حل نکالیں۔ انہوںے کہاکہ پاکستان میں موثر حکومتی حکمت عملی کے باعث کرونا وبائی صورتحال، خطے کے دیگر ممالک کی نسبت، بہت بہتر ہے، توقع ہے کہ اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ،پاکستانیوں کیلئے سعودی عرب کی جانب سے عائد ویزہ پابندیوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔دونوں اطراف نے دو طرفہ تعلقات کے استحکام کیلئے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل پر اتفاق کیا ۔ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اپنے سعودی ہم منصب کا پرتپاک خیرمقدم کرتا ہوں،ہمارے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں،ہمارے تعلقات دیرینہ اور تاریخی ہیں،دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ امور آگے بڑھ رہے ہیں،ہم اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر کام کررہے ہیں،دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے رہے ہیں،سعودی پاکستان سپریم مشاورتی کونسل کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں،اس کونسل کے سٹرکچر تنظیم اور کام کے طریقہ کار پر بات ہوئی ہے،دونوں ممالک کی وزارت خارجہ میں فوکل پرسنز کا تعین کیا جائے گا،دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا اور انفارمیشن کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھارہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ماحولیاتی و موسمیاتی شعبے میں تعاون بھی آگے بڑھارہے ہیں،وزیراعظم عمران خان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا گرین وژن سب کے سامنے ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم سعودی حمایت کے بہت شکرگزار ہیں،جموں و کشمیر کے ایشو پر سعودی عر کنٹیکٹ گروپ کا رکن اور صف اول میں ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی سپورٹ کیلئے سعودی عرب ہمیشہ آگے ہوتا ہے،ہمارے افغانستان کی صورتحال پر بھی تفصیلی بات ہوئی ہے،ہماری افغانستان کے حوالے سے سوچ ایک ہے،عمومی طور پر ہم نے ریجنل صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے معاملہ پر بھی بات ہوئی،ویکسینیشن ایشوز ٹریول سب پر بات ہوئی،سعودی عرب میں رھائش پزیر پاکستانی کمیونٹی کے معاملہ پر بھی بات ہوئی،وزیراعظم عمران خان بیرون ممالک پاکستانیوں کی بہبود کےلئے ہمیشہ آگے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب ثقافتی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں،ماضی میں پاکستان اور سعودی عرب نے اس شعبے پر زیادہ توجہ نہیں دی،سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وہ سعودی عرب میں اپنے پاکستانی گلوکاروں کی پرفارمینس دیکھنا چاہتے ہیں،باہمی ثقافتی روابط کو فروغ دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ماحولیات کے شعبہ میں باہمی تعاون کا آغاز ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دونوں ماحولیاتی تبدیلیوں سے آگاہ ہیں،کشمیر اور افغانستان کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی،مذاکرات میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں، کورونا پابندیوں، ویکسینیشن اور دیگر امور پر بھی بات چیت ہوئی، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے بچوں کے یونیورسٹیوں میں داخلوں پر بھی بات کی گئی۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہاکہ پرجوش خیر مقدم پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،ہم نے اپنے مضبوط تعلق مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوںنے کہاکہ میرے دورے کا بنیادی مقصد وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کا فالو اپ تھا،ہم ادارہ جاتی بنیادوں پر باہمی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔سعودی وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستانی کمیونٹی سعودی عرب میں اھم کردار ادا کررہی ہے،پاکستان نے کورونا وبا کے دوران اہم کام کیا ہے،کورونا پابندیوں کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب میں سترہ لاکھ پاکستانیوں کو ویکسین لگائی گئی ہے،سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں،ریجنل ایشوز بھی بہت اہم ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تنازعات کو مزاکرات سے حل پر زور دیتے ہیں،معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے سیکیورٹی کنجی ہے،جموں و کشمیر فلسطین سمیت تمام ایشوز پر بات ہوئی۔انہوںنے کہاکہ دوطرفہ شعبے میں ان تمام ایشوز پر بات ہوئی جن میں دلچسپی ہے،اپنے تعلقات کو روایتی شعبوں سے آگے بڑھائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ٹیکنیکل گروپس بنائے ہیں جن میں بات چیت جاری ہے،دونوں ممالک کے درمیان ملکر کام کرنے کے بہت شعبے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*