تازہ ترین

بانی پاکستان کی یتیم قوم۔۔۔۔۔۔

تحریر:طیبہ ضیائ
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح 11ستمبر 1948 کووفات پا گئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا اہل پاکستان پر احسان عظیم ہے کہ انہوں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ، خودمختار ریاست کے قیام کیلئے بھر پور جدوجہد کی، اور اپنی ساری زندگی اسی جدوجہد میں وقف کر دی۔ مولانا حسرت موہانی فرماتے ہیں کہ وہ پاکستان بننے سے پہلے قائداعظم سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تو ملازم نے معذرت کی وہ کسی اہم کام میں مصروف ہیں اور وہ اس وقت ان سے نہیں مل سکتے۔
اس دوران انہوں نے مغرب کی نماز گھر کے باہر لان میں ادا کی اور اس کے بعد ٹہلنے لگے۔ اسی دوران وہ کوٹھی کے برآمدوں میں گھومتے ہوئے ایک کمرے کے پاس سے گزرے تو انہیں ایسا لگا کہ قائد کسی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ مولانا حسرت موہانی فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ”اندر کمرے میں فرش پر مصلیٰ بچھا ہوا تھا۔ اور قائداعظم باری تعالیٰ کے حضور مسلمانوں کی فلاح و بہبود ، حصول آزادی، اتحاد، تنظیم اور پاکستان کے قیام کے لئے گڑگڑا کر التجا کر رہے تھے“۔ قائداعظم اور علامہ اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جس دو قومی نظریہ سے روشناس کرایا اور ایک الگ ریاست کا قیام عمل میں آیا بہتر برسوں بعد بھی ا?ج بھارتی مودی جارحیت نے جموں کشمیر پر ظلم و ستم سے دو قومی نظریہ پر مہر ثبت کر دی ہے۔ آج پوری دنیا ہندو مسلم دو قومی نظریہ کی قائل ہو چکی ہے۔
انتہاء پسند اور متعصب ہندو لکھاری جسونت سنگھ نے بھی قائد اعظم کے بارے میں لکھا ہے کہ ”ان سے بڑا لیڈر آج تک ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا جبکہ نہرو کو اس نے ’پلے بوائے‘ کا خطاب دیا۔ قائد اعظم نے دو قومی نظریے کے تشخص کے پیش نظر شملہ میں مہاتما گاندھی کی کانگریس کا جھنڈا لگی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے گاندھی سے کہا کہ یہ جھنڈا اتار دو لیکن جب گاندھی نے چالیں چلتے ہوئے اور منت سماجت کرتے ہوئے جھنڈا اتارے بغیر قائد اعظم کو اسی گاڑی میں بیٹھنے کی دعوت دی تو قائد اعظم نے فوراً دوسری گاڑی منگوا لی جس پر مسلم لیگ کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے قیامِ پاکستان سے پہلے 22 اکتوبر 1939ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ” مسلمانو! میں نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ دولت،شہرت اور آرام و راحت کے بہت لطف اٹھائے اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کے میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا حق ادا کر دیا میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدا فعت اسلام کا حق ادا کر دیا اور میرا خدا یہ کہے کہ جناح بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے مسلمان جئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے علم کو بلند رکھتے ہوئے مرے“۔ ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ اور کرنل الہی بخش قائد اعظم کے ذاتی معالج کی موجودگی میں قائد اعظم نے موت سے دو دن پہلے کہا تھا”آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتاکہ مجھے کتنا اطمینان ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا اور یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا تھا جب تک رسول خدا کا فیصلہ نہ ہوتا۔ اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ خلفائے راشدین کا نظام قائم کریں۔“ سید شمس الحسن نے اپنی تالیف میں لکھا ہے کہ مسٹر جناح دوسرے امور میں تو محتاط تھے ،لیکن صحت کے معاملے میں احتیاط نہیں برتتے تھے۔ دہلی کی سردی ان کے موافق نہیں ہوتی تھی وہ اکثر ٹھنڈ او رفلو کے شدید حملوں کا شکار ہو جاتے۔ 1935ءمیں انگلستان سے واپسی کے بعد وہ فاطمہ جناح کی زیر نگرانی رہے انہوں نے قائد اعظم کی دیکھ بھال انتہائی چاہت سے کی اور وہ ان کی صحت کے بارے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی تھیں۔
ان سالوں میں انہیں انتخابی مہم چلانا پڑی اور انہوں نے تھکا دینے والی جدوجہد کی اور بالاخر قرارداد لاہور کی منظوری تک آ پہنچے۔ 1940ء میں قرار داد پاکستان کی منظوری کے دنوں میں پانچ فٹ ساڑھے دس انچ قد کے ساتھ قائداعظم کا معمول کا وزن 112 پاونڈ تھا، مگر حصول پاکستان کی جدو جہد اور کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ ایک ایک اونس کر کے اپنا وزن کھونے لگے پھر بھی صحت کی طرف توجہ نہ دی۔ صدر مسلم لیگ کی حیثیت سے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرنے کے علاوہ انہیں سنٹرل لیجیسلیٹو اسمبلی میں مسلم لیگ پارٹی لیڈر کی حیثیت سے بھی کام کرنا پڑتا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنی کتاب ”میرا بھائی“ میں رقمطراز ہیں کہ انہیں گذشتہ کئی روز سے بخار آرہا تھا اس کے باوجود وہ اوائل نومبر 1940ءمیں اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے بذریعہ ٹرین بمبئی سے دہلی روانہ ہوئے اور دوران سفر رات کے کھانے کے بعد لیٹے ہی تھے کہ اچانک زور سے چلا اٹھے۔ ایسے لگا جیسے کسی نے لوہے کی گرم سلاخ ان کے جسم میں داغ دی ہو۔ چیخ سن کر میں ان کے پاس پہنچی اور بلبلا اٹھنے کی وجہ پوچھی، مگر در د کی شدت نے ان کی قوت گویائی سلب کر لی تھی چنانچہ کچھ بولنے کی بجائے انہوں نے انگلی سے ریڑھ کی ہڈی کے دائیں جانب اشارہ کیا۔ میں نے متاثرہ حصہ کو ملنا شروع کیا، مگر تکلیف بڑھتی گئی۔ ٹرین میں ہی گرم پانی کی بوتل سے ٹکور کرنے سے کچھ افاقہ ہوا۔
ڈاکٹروں سے تفصیلی معائنہ کرایا جنہوں نے بتایا کہ قائداعظم کے پھیپھڑے کی جھلی پر ورم آگیا ہے لہذا انہیں لازمی طور پر دو ہفتے آرام کرنا چاہئے، مگر صرف دو دن آرام کرنے کے بعد وہ معمول کے کاموں میں مصروف ہو گئے بلا شبہ وہ انتھک اور بے چین شخص تھے جو اپنی قوم کی تاریخ کے پریشان دور میں پیدا ہوئے تھے۔ پھیپھڑے کی جھلی پر ورم کا یہ حملہ ان کے لئے مرض الموت ثابت ہوا۔ وہ مرض پر قابو پا سکتے تھے اگر وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ، مگر انہوں نے ہمیشہ کام کو آرام پر ترجیح دی۔ حصول پاکستان کی انتھک جدوجہد نے انہیں نحیف و نزار بنا کر رکھ دیا تھا۔ ان کی جسمانی صحت کسی بھی لحاظ سے اطمینان بخش نہیں تھی۔ ان کی کھانسی میں اضافہ ہونے لگا اور حرارت بھی بڑھنے لگی۔ ایک طرف بابائے قوم کی ذات اور صحت تھی تو دوسری طرف نومولود ریاست کے نہ ختم ہونے والے مسائل۔ قائداعظم نے اپنی پروا کیے بغیر شب و روز مملکت خداداد کیلئے وقف کر دیے اور بالاخر 11 ستمبر 1948 کو اس نومولود ریاست پاکستان کو یتیم کر گئے۔ اللہ تعالی ہمارے بابائے قوم پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*