ایف بی آر نے ٹیکس دائرہ کار کو تبدیل کرکے عدالتوں میں جانے پر مجبور کر دیا‘ پروفیشنل ریسرچ فورم

لاہور(کامرس ڈیسک)پروفیشنل ریسرچ فورم کے چیئرمین حسن علی قادری نے کہا ہے کہ ٹیکس دائر ہ کار بدلنے سے ٹیکس دہندگان عدالتوں پر جانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے ایف بی آر کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ،ایگزمپشن سرٹیفکیٹس اور ریکارڈ نہ ملنے کی وجہ سے ٹیکس ہدف پورا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا،2 کروڑ عوام کے لیے لاہور ٹیکس ہاﺅس میں افسرا ن اورسائلین کیلئے کوئی سہولت موجود نہیں ۔فورم کے ممبران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایف بی آر کا محکمہ خودہی ٹیکس وصولی اکٹھی کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔یہ وہ محکمہ ہے جس کے بل بوتے پر ملک چلتاہے لیکن اس کی اپنی حالت ایسی ہے کہ مستقبل کے حوالے سے تشویش پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اپنے ملازمین کو سہولیات میسر نہیں وہ کیسے ٹیکس دہندگان کو سہولیات اور ریلیف فراہم کرے گا ۔انہوںنے کہا کہ ریونیو کلیکشن اور ٹیکس بیس کو بڑھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل تھا لیکن اسے پس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔سی ٹی او، ایل ٹی او اور آر ٹی او کے ٹیکس کے دائرہ کو بدل دیا گیا ہے لیکن اس کے متبادل کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ،افسران کےلئے بیٹھنے کی جگہ مختص کی گئی ہے اور نہ ہی افسران کوریکارڈ سپر دکیا گیا ہے جس کی وجہ سے افسران اور ٹیکس دہندگان کے درمیان دوریاں پیدا ہوتی جار ہی ہیں اور ایف بی آر کو بھی اربوں کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*