تازہ ترین

اپوزیشن کرپٹ سسٹم کی پیداوار ہے ، تبدیلی کی خواہش مند نہیں ‘عمران خان

اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس معاشرے کی اخلاقیات قائم ہو تو آپ اس قوم کو ایٹم بم سے بھی ختم نہیں کرسکتے اور جب اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو کرپشن اپنی جگہ بنا لیتی ہے اور اپوزیشن کرپٹ سسٹم کی پیداوار ہے جو تبدیلی کی خواہش مند نہیں ہے، قانون سازی ذاتی یا سیاسی فوائد کے لیے نہیں کر رہے، انتخابی اصلاحات پر قانون سازی جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے، ہمارا مقصد تھا کہ آئندہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں، سیاست میں آکر لوگ اپنی ذات کیلئے کام کرتے ہیں، میں ملک کو بدلنے کیلئے سیاست میں آیا تھا، سیاست میں آنے کا مقصد ملک کو فلاحی ریاست بنانا تھا، قائداعظم کا خواب تھا پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا، آپ تمام انسانوں کیلئے رحمت بن کر آئے، اخلاقیات ختم ہونے پر کرپشن شروع ہوتی ہے، جو قوم انصاف نہیں کرسکتی وہ تباہ ہو جاتی ہے، ہم نے 4 حلقے کھولنے کا کہا تھا، 4 حلقے کھلوائے، چاروں میں دھاندلی نکلی، 1970 کے بعد تمام انتخابات متنازعہ رہے، سب کو پتا ہے سینیٹ الیکشن میں کیا ہوتا ہے ۔ بدھ کو ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ لوگوں کو اندازا ہو گیا ہو گا کہ میرا سیاست میں آنے کا مقصد کیا ہے، کچھ سیاست میں ذات کو بنانے آتے ہیں اور کچھ ملک کو بنانے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد پاکستان میں واضح کر دیا گیا تھا کہ یہ ملک مثالی فلاحی اسلامی ریاست بنے گا، جس کا تصور علامہ اقبال اور تعبیر کے جدوجہد قائداعظم نے کی، دنیا کی عظیم اسلامی ریاست کو قیام میں لانا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی نے معاشرے کےلئے اصول طے کردیئے تھے اور اخلاقیات کو بلند کیا تھا اور وہ قوم جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی اسی قوم سے دنیا کی امامت کروائی، ریاست مدینہ کی اس لئے بار بار بات کرتا ہوں کہ کیونکہ یہ دنیا کا سب سے کامیاب ماڈل ہے کیونکہ دنیا کسی لیڈر نے یہ نہیں کیا کہ ایک کو 15سال میں اٹھا کر دنیا کی امامت کرائی اور سپر پاور اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قرآن میں اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ نبی کی زندگی سے ہم سیکھیں اور نبی رحمت اللعالمین تھے، نبی سب انسانوں کے لئے رحمت بن کر آئے تھے اور جو انسان بھی آپ کے راستے پر چلے گا وہ بلندی پر چلا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر آج چین، مغربی ممالک یا یہودی جو بھی آپ کے راستے پر چلے وہ ترقی کے راستے پر چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک معاشرے میں اخلاقیات قائم ہوں تو ایٹم بم مار کر بھی اس قوم کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، جاپان کے اوپر ایٹم بم گرائے گئے لیکن پھر بھی وہ قوم 10سالوں میں کھڑی ہو گئی،جرمنی میں ایک بلڈنگ تک کھڑی نہیں تھی وہ بھی 10 سالوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی، دونوں ممالک میں ان کی اخلاقیات قائم تھیں اس لئے وہ بھی قائم رہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بار بار لبنان کی مثال دیتا ہوں کہ بیروت کو پیرس کہا جاتا تھا لیکن آج ایک فیل ریاست ہے اور لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ نوجوان کہتے ہیں کہ حکومت کرپٹ ہے اور کرپشن نشاندہی ہے کہ اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو کرپشن آتی ہے اور اخلاقی قوت ہوتی ہے تو انصاف کرتی ہے، اخلاقی قوت نہ ہو تو انصاف بھی ختم ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں 1970کے بعد جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں کہ ان سب میں لوگوں نے دھاندلی کا الزام لگایا، جب 50 سال میں ہم ابھی تک انتخابی اصلاحات نہیں کر سکے جبکہ آج اکٹھے ہونے کا مقصد بھی یہ ہے کہ ہم آج یہ فیصلہ کریں کہ اگلا الیکشن صاف شفاف ہوں،2018میں دھرنا بھی انتخابات میں دھاندلی کو روکنے کےلئے کیا، سینیٹ انتخابات میں ویڈیوز شواہد نہیں کئے گئے لیکن پھر بھی الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ نے کچھ نہیں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ویڈیوز آنے کے بعد اب تصور کریں کہ ہماری قوم کی اخلاقیات کس حد تک پہنچ چکی ہیں، ہماری حکومت اوپن بیلٹنگ کی بات کر رہی ہے لیکن اپوزیشن اور الیکشن کمیشن مخالفت کر رہی ہے اور سب کو معلوم ہے کہ وہ مخالفت کیوں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم پر بھی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں، ریسرچ سے معلوم ہوا تھا کہ ووٹنگ کی گنتی میں دھاندلی ہوتی ہے لیکن ای وی ایم پر بھی کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، اپوزیشن کو بار بار کہا کہ اپنی تجاویز لائیں اور اس پر بات کریں لیکن وہ کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ہے، یہاں تک کہ الیکشن کمیشن بھی مخالفت کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ بلوچستان میں بجلی نہیں ہو گی تو یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے ہی ای وی ایم کی مخالفت کر رہے ہیں، مفاد پرست عناصر ہمیشہ اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس میں اخلاقی قوت نہ ہو اور جب الیکشن ہی شفاف نہیں ہو گا جہاں سے جمہوریت شروع ہو گی تو وہ انصاف نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کرپٹ سسٹم کی پیداوار ہے اور تبدیلی نہیں چاہتی ہے، یہ بات یاد رکھیں تبدیلی صرف ہم لائیں گے اور کرپٹ سسٹم کو ختم کریں گے، قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور اخلاقی قدریں اوپر سے نیچے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ مافیا سے ہے اور مافیا نہیں چاہیں گے کہ ملک میں تبدیلی آئے، لہٰذا جمعرات کو انتخابی اصلاحات کے بل کو جہاں سمجھ کر مظاہرہ کریں اور بھرپور حصہ لیں تا کہ شفاف نظام کی جانب ملک کو بڑھا سکیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*