تازہ ترین

انسانی حقوق کا تحفظ بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت ، جنگی جرائم اور کیمیکل ہتھیار استعمال کر نے کے ثبوت پیش کر دیئے ، 131صفحات پر مشتمل ڈوزیئر میں مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلوں، خواتین کی آبرو ریزی، زیادتی، گمنام قبروں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں،3 ابواب پر مشتمل ڈوزیئر میں بھارتی جنگی جرائم کا بھی تذکرہ ہے، ڈوزیئر میں 113 حوالے دئیے گئے ہیں جس میں سے 26 حوالے انٹرنیشنل میڈیا کی جائزہ رپورٹس ، 41 حوالوں میں بھارتی میڈیا اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس کا ذکرہے ،32 حوالے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس تنظیموں کے ہیں، 14 حوالے پاکستان نے دئیے ، ڈوزئیر کو تمام مشنز اور ہر فورم پر بھجوائیں گے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کے انتقال کے بعد بھارتی حکومت اور فوج کی انتہائی منفی سوچ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید علی گیلانی کے کفن و دفن سے متعلق امور میں بھی نئی دہلی نے تعصب کا مظاہرہ کیا ،سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک کا چہرہ بے نقاب کریں گے، عالمی برادر ی کو باور کرانا ہے کہ بھارتی حکومت کہتی کیاہے اور کرتی کیا ہے ،مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے جنگی جرائم میں ایک میجر جنرل، 5بریگیڈیئرز، 4 آئی جیز، 7 ڈی آئی جیز، 131 کرنلز، 186 میجرز اور کیپٹنز ہیں ، 118 یونٹس کا بھی تذکرہ کیا جو انسانی حقوق کے خلاف ورزی میں ملوث رہی ہیں،مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سروس جزوی طور پر معطل ہیں، نگراں یا صحافیوں کو آزادی حاصل نہیں ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے کو 769 دن ہو چکے ہیں، بھارت کی 9 لاکھ افواج مقبوضہ وادی پرمسلط ہیں، آزاد مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں، بھارت داعش کے پانچ تربیتی کیمپ چلا رہاہے ،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔ اتوار کو یہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،وفاقی زیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے ڈوزیر میڈیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب سے ہندتوا حکومت بھارت میں آئی ہے ان پامالیوں میں اضافہ ہو گیا ہے آج بھارتی فوجی محاصرے کو 769دن گزر چکے۔ انہوںنے کہاکہ سید علی گیلانی کا یکم ستمبر کو جب انتقال ہوا تو ان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا، ان کی وصیت کو بالائے تاک رکھتے ہوئے انہیں رات کی تاریکی میں دفن کیا گیا،انہیں کفن اور دفن کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا، ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو جنازے میں شرکت سے محروم رکھا گیا، ہم نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت سرکار کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی نہیں دی جاتی، انسانیت کو اس انداز میں پامال کرنا انتہائی نامناسب یے اس لیے ہم نے آج یہ ڈوزیر سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ 131 صفحوں پر مشتمل اس ڈوزیئر کے تین باب ہیں،پہلے چیپٹر میں جنگی جرائم کا تذکرہ ہے،دوسرے چیپٹر میں فالس فلیگ آپریشنز کا ذکر ہے جبکہ تیسرے باب میں سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشششوں کا ذکر ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس میں 113 حوالے موجود ہیں جن میں 26 بین الاقوامی میڈیا سے لیے گئے ،41 حوالے بھارت کے تھنک ٹینکس سے لیے گئے، پاکستان کے صرف 14 حوالے ہیں، یہ انتہائی credible دستاویز بنائی گئی ہے،3232 کیسز جنگی جرائم سے متعلق ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ 1128 ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں میجرجنرل، بریگیڈیئر و دیگر سینئر افسران کا تذکرہ ہے جو انسانی حقوق کی پامالیوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں،ان میں ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گنز کا استعمال شامل ہے، اس ڈوزیئر میں خواتین کی بے حرمتی کا تذکرہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایک لاکھ سے زائد ایسی املاک کا ذکر ہے جنہیں جلایا گیا، پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے فیک آپریشنز کا تذکرہ ہے، کشمیریوں کی پرامن جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے کی کوششوں کا ذکرہے،پریس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں قتل کیے گئے نوجوانوں سے متعلق بھارتی افسران کی آڈیو بھی سنائی گئی۔ ترجمان دتر خارجہ نے ڈوزیئر میں شامل معلومات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 گاو¿ں میں 8 ہزار 652 اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں جس میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں تھیں۔علاوہ ازیں بھارتی فوج نے 2017 سے مقبوضہ کشمیرمیں کیمیکل ہتھیار استعمال کیے جس سے 37 کشمیری شہید ہوئے ،2014 سے اب تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں 3 ہزار 850 عصمت دری کے واقعات پیش آئے، 650 خواتین کو قتل کردیا گیا۔ڈوزیئر میں دی گارجین کا حوالہ دیا گیا کہ 10 ہزار کشمیریوں کو جبری لاپتا کردیا گیا، بھارتی فورسز نے 2014 کے بعد سے اب تک 120 کشمیری بچوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے استعمال کی گئی پیلٹ گن سے ایک ہزار 253 نوعمر لڑکے نابینا اور 15 ہزار 438 بدترین زخمی ہوئے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے محاصرہ اور سرچ آپریشن کے نام پر 6 ہزار 479 املاک کو تباہ کیا اور ایسے آپریشن کی تعداد مجموعی طور پر 15 ہزار 495 رہی۔ پریس کانفرنس میں ڈوزیئر میں شامل چیدہ چیدہ معلومات شیئر کی جانے کے بعد وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہاکہ بھارت کی جانب سے ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، بھارت، اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے مگر اس کی سرزنش نہیں کی جا رہی،یورپی ممالک دوہرے معیار پر عمل پیرا ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یورپی یونین کی جانب سے 5 اگست کے بھارتی اقدامات پر کوئی بیان سامنے نہیں لیا۔وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اقوام متحدہ سے متعلق سوال اٹھایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر خواتین اور بچوں کے حقوق کے خلاف ہونے والی ورزیوں پر عالمی ادارہ نئی دہلی پر پابندیاں نافذ کیوں نہیں کرتا۔شیریں مزاری نے کہاکہ ہندوستان کو اس وقت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سونپی گئی جب وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے تھے، پیلٹ گنز کو جانوروں کے شکار کیلئے استعمال کیا جاتا تھا ہندوستان بچوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے، کلسٹر بم کے استعمال پر انسانی حقوق کنونشن کے تحت پابندی عائد ہے، مگر بھارت کی فاشسٹ مودی حکومت دھڑلے سے ان ہتھیاروں کو استعمال کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ انسانی حقوق کا تحفظ، بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان فوری طور پر انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرے۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو رسائی دی جائے۔ انہوںنے کہاکہ فاشسٹ پالیسیاں خطے کو شدید خطرات سے دو چار کر رہی ہیں ہمیں اس حوالے سے عالمی ضمیر کو جگانا ہے۔ مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے کہاکہ آج صورتحال تبدیل ہو چکی ہے، آج کوئی ہندوستان کے جرائم پر پردہ ڈالنے والا نہیں ہے، بھارت کی پالیسیاں نہ صرف خطے کیلئے بلکہ دنیا کے لئے خطرے کا موجب ہو سکتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ای – یو ڈس انفولیب کی رپورٹ کا منظر عام پر آنا اسی تبدیلی کا عکاس ہے، ہم نے نومبر 2020 میں جو ڈوزیر دیا کسی نے اس میں دی گئی انفارمیشن اور بھارتی پراپگنڈہ کے دستاویزی ثبوتوں کو چیلنج نہیں کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ 5 اگست 2019 کے بعد مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کیا گیا، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سیکورٹی کونسل نے اپنے اپنے دورہ ءپاکستان کے دوران اپنے بیانات میں کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے موقف کو دہرایا۔ انہوںنے کہاکہ ہیومن رائٹس کونسل کی یکے بعد دیگرے دو رپورٹس کا سامنے آنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہاو¿س آف کامنز سمیت بین الاقوامی پارلیمان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پائمالیوں پر گفتگو کی گئی۔ شیریں مزاری نے کہاکہ ہم عالمی عدالت انصاف سے جنگی جرائم کے حوالے سے رائے لیکر عالمی سطح پر بھارت کی انسانی حقوق سے متعلقہ پامالیوں کو مزید اٹھائیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہیومن رائٹس کونسل ایک باوقار فورم ہے ہمیں ہیومن رائٹس کونسل سمیت دیگر اہم فورمز کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم بین الاقوامی ابزرور کو آزاد کشمیر لے کر گئے جبکہ بھارت نے انہیں رسائی نہیں دی ۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا رائے عامہ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، 5 اگست 2019 کے بعد بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، ہم نے پارلیمانی ڈپلومیسی کو بروئے کار لانے کا ارادہ کیا مگر کرونا پابندیوں کے باعث اسے عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے اندر ایک طبقہ دہلی سرکار کی کشمیر پالیسی کے خلاف کھل کر بول رہا ہے، ہندوستان کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ہم اس ڈوزیر کو تمام مشنز اور ہر فورم پر بھجوائیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم اس ڈوزیر کے ذریعے پوری معلومات اور اصل حقائق تمام دنیا تک پہنچائیں گے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہاکہ یہ ڈوزیر سید علی گیلانی صاحب کو tribute ہے کیونکہ ان کی تمام زندگی اسی جدوجہد میں گزری۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*