تازہ ترین

امن قانون کے نفاذ سے آتا ہے، عمران خان

Prime-Minister-Imran-Khan-PM

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد پولیس کو کمزوروں پر رحمدلی سے پیش آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا کوئی رشتہ دار یا وزیر نہیں جو بھی طاقت ور قانون کی خلاف ورزی کرے اس پر ہاتھ ڈالیں، اگر میں قانون توڑوں تو میرے خلاف بھی کارروائی کریں،جب طاقت ور قانون توڑتا ہے تو پولیس کو سختی کرنی چاہیے، امن تب آتا ہے جب آپ طاقت ور کو آپ قانون کے نیچے لے کر آتے ہیں،کسی بھی معاشرے میں کبھی بھی امن نہیں ہوسکتا کہ آپ چھوٹے لوگوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالیں اور بڑے بڑے قانون توڑنے والے اور طاقت لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پولیس ڈر جائے،سیف سیٹی کا آپریشن دیکھ کر اچھا لگا، وزیر داخلہ اور آئی جی کو جو مدد درکار ہوگی وہ فراہم کی جائے، ٹیکنالوجی بہت ایڈوانسڈ ہوگئی ہے، مکمل استعمال کرنی چاہیے، اسے ہماری افرادی قوت بچتی ہے۔ بدھ کو پولیس کے ایگل اسکواڈ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پولیس کا کام قانون کو نافذ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس ملک میں پولیس اپنا کام صحیح کرتی ہے، دنیا اس چیز کی گواہی دیتی ہے کہ اس ملک کے اندر خوش حالی آتی ہے کیونکہ اللہ نے جب سے دنیا بنائی ہے، اس معاشرے میں خوش حالی آتی ہے جس میں امن ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ خوش حالی اور امن ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، امن قانون کے نفاذ سے آتا ہے، قانون نافذ کرنے کا مقصد کبھی بھی یہ نہیں ہوتا کہ چھوٹے چھوٹے لوگوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالو۔وزیراعظم نے کہا کہ بیچارہ غریب آدمی اپنی ریڑھی لے کر پھر رہا ہے اور اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے دہاڑی لگاتا ہے تو کبھی بھی پولیس کو ایسے لوگوں سے سخت ہاتھ سے ڈیل نہیں کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں اور کمزور طبقے کے لیے رحم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب طاقت ور قانون توڑتا ہے تو پولیس کو اسے سختی کرنی چاہیے، امن تب آتا ہے جب آپ طاقت ور کو آپ قانون کے نیچے لے کر آتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کسی بھی معاشرے میں کبھی بھی امن نہیں ہوسکتا کہ آپ چھوٹے لوگوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالیں اور بڑے بڑے قانون توڑنے والے اور طاقت لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پولیس ڈر جائے۔عمران خان نے پولیس کو مخاطب کرکے کہا کہ میں آج آپ سب کو کہہ رہا ہوں کہ کوئی مقدس گائے نہیں ہے، کسی کی آپ کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان قانون توڑتا ہے تو میرے خلاف ایکشن لو، آپ کو ایکشن لینا چاہیے، اگر میں غلطی کروں اورآپ ایکشن نہیں لیں گے تو میں آپ کے خلاف ایکشن لوں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ نہ میرا کوئی رشتہ دار ہے، نہ کوئی دوست ہے اور نہ ہمارا کوئی وزیر ہے، جو بھی قانون توڑے اور جب آپ ہمارے خلاف ایکشن لیں گے تو اس معاشرے کے اندر قانون کی بالادستی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہماری ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہم آگے نہیں بڑھ سکے، پاکستانیوں کی دنیا میں عزت تھی، ہمارا صدر امریکا گیا تو وہاں صدر انہیں لینے ایئرپورٹ آیا، برطانیہ گیا تو ملکہ نے اس کا استقبال کیا۔انہوںنے کہاکہ اگر ہم آج وہاں نہیں پہنچے ہیں تو اس کی وجہ ایک ہے کہ طاقت ور کے ایک قانون اورکمزور کے لیے دوسرا قانون ہے۔وزیراعظم نے پولیس کوتاکید کی کہ کمزور کے لیے رحم رکھنا ہے، جو طاقت ور ہے اور قانون توڑتا ہے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیف سیٹی کا آپریشن دیکھ کر اچھا لگا، وزیر داخلہ اور آئی جی کو جو مدد درکار ہوگی وہ فراہم کی جائے، ٹیکنالوجی بہت ایڈوانسڈ ہوگئی ہے، اس کو مکمل استعمال کرنی چاہیے، اسے ہماری افرادی قوت بچتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم پولیس کو بہتر استعمال کرسکتے ہیں، وہ بیچارے سردیوں میں بھی پیکٹ میں کھڑے ہوتے ہیں، گرمی اور سردی کے مختلف حالات کا سامنا کرتے ہیں۔پولیس کے ایگل اسکواڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، جب وہ اسلام آباد کو دیکھتے ہیں کہ یہاں امن ہے اور پولیس موجود ہے تو اس سے پورے ملک کا تشخص اوپر جاتا ہے اور اسی سے ملک میں خوش حالی لائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*