تازہ ترین

امریکہ اپنے فوجیوں کا خود قاتل

فضل حسین اعوان
ہنری کسنجر نے اپنی کتاب وائٹ ہاﺅس ایئرز میں لکھا ہے۔”1971 میں امریکا کا جھکاﺅپاکستان کی طرف لیکن ہمدردیاں بنگلہ دیش کی تحریک کے ساتھ تھیں۔“دل کس کیساتھ‘ خنجر کس کیساتھ۔آستین کے سانپ والا محاورہ امریکی پالیسیوں پر صادق آا ہے۔ وہی ہونا تھا جدھر ہمدردیاں تھیں۔ بیڑے کے انتظار میں ہمارا” بھٹہ بہہ“ گیا۔ ہنری کسنجر نے اسی کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا” نومبر 1971میں صدر یحییٰ خان نے امریکی صدر نکسن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مارچ 1972 میں مشرقی پاکستان کو آزاد کردیگا لیکن اس سے پہلے ہی تین دسمبر 1971 کو بھارت نے مکتی باہنی کی مدد سے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا اور 16 دسمبر کو پاک فوج نے ہتھیار ڈال دئیے جس کے بعد بنگلہ دیش قائم ہوگیا۔“اس سے تو لگتا ہے یحییٰ خان سکرپٹ پر عمل پیرا تھا۔اور باڑہی کھیت کو کھارہی تھی۔ہنری کسنجر ابھی مرا نہیں اس بابت اس سے مزید پوچھا جاسکتا ہے۔ بھارتی فوج نے حملہ عوامی لیگ کے ایما اور مطالبات پر کیا۔پاکستان دو لخت ہوگیا۔جب مشرقی پاکستان پر بھارت کو حملے کیلئے بلایا گیا تھا اس وقت عوامی لیگ کی قیادت پاکستانی تھی۔ان کا ایساکرنا غداری تھا صریحاً غداری۔لندن میں ا?ج ایک ہاتھی گد گدا رہا ہے۔وہ بھی پاکستان کیخلاف بھارت سے مدد مانگتا ہے۔اس پر کئی جرائم کے تحت مقدمات درج ہیں۔سب سے پہلے غداری کا چلایا جائے۔عمران خان حکومت کے تین سال مکمل ہوئے۔ اس حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔جس میں تین سالہ کارکردگی کے بارے میں شہنائیاں بجاتے ہوئے بتایا گیا۔ویسے تو کارکردگی بتانے اور جتانے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ خود بولتی ہے۔ہوسکتا ہے کارکردگی کچھ آہستہ بولی ہو۔جیسے …
جو کئی کو سنائی نہ دی ہو ان کو سنانے کیلئے حکومت نے بہت بڑی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں تقریب منعقد کی گئی۔اس میں وزیراعظم ، وفاقی وزرائ، پی ٹی آی رہنماﺅں آزادکشمیر کے صدر اور وزیراعظم نے شرکت کی۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پارٹی ترانہ گایا۔ عطائ اللہ عیسیٰ خیلوی اور ابرالحق نے آواز کا جادو جگایاجس پر شرکا ئ جھوم اٹھے۔من پسند کھانوں سے پیٹ بھرا تواس کا خماراسکے ساتھ ساز جھنکار ،ماورائے فکرِ معاش شرکائ نے جھومنا ہی تھا۔ دو لاکھ پودے لگانے کا ہدف 15ستمبر سے پہلے پورا کر لیا جائے گا،پی ایچ اے
تقریب میں جن لوگوں کو بلایا گیا ان کو بخوبی علم تھا کہ حکومت نے کون سی مہم سر کی ہے،کونسی لنکا ڈھائی ہے۔وہاں جوکچھ کہا گیا وہ ہم عوام کو بتانا تھا۔وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں بہت کچھ کہا۔ یہاں مختصراً ذکر کرتے ہیں۔”حکومت میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکانٹ خسارہ ورثے میں ملا جو کم ہوکر صرف ایک ارب 8 کروڑ ڈالر تک آگیا۔ اگلے دس برس میں10 ڈیم بنانے جارہے ہیں۔
جب ہم آئے تھے تو ہمارے غیرملکی زرمبادلہ کے کل ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے اور آج ہمارے 27ارب ڈالر کے ذخائر ہیں۔ہماری ترسیلات زر 29.4ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہیں۔ صنعت میں 18فیصد سے زائد اضافہ ہوا سیمنٹ کی 42فیصد فروخت بڑھی ہے، زراعت میں 1100ارب اضافی کسانوں کے پاس گیا ہے۔ پنجاب کی اینٹی کرپشن نے مسلم لیگ ن کے 10 سالوں میں کل ڈھائی ارب روپے برآمد کیے تھے جبکہ ہمارے تین سالوں میں اسی ادارے نے ساڑھے چار سو ارب روپے برآمد کر چکے ہیں۔“
وزیر اعظم نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب فوج کے خلاف بیانات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ”ماضی میں میں نے بھی فوج پر تنقید کی، کوئی بھی ادارہ غلطیاں کر سکتا ہے، عدلیہ، فوج اور ہم سیاستدان بھی غلطیاں کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ آپ اپنی فوج کو برا بھلا کہنا شروع کردیں اور انکے پیچھے پڑ جائیں۔
یہ فوج کے پیچھے اس لیے پڑے ہیں کیونکہ چاہتے ہیں کہ فوج کسی طرح حکومت گرادے۔“ حکومت کو گھر بھجوانے کیلئے اپوزیشن کس کو پکاررہی ہے۔ عمران خان کے بقول پاک فوج یعنی اپنی فوج کو، اور جس طرح پکار رہی ہے اس طرح تو وہ حکومت کے زیادہ قریب آرہی ہے۔اس پر پی ٹی ا?ئی تواپوزشن کی شکر گزارہوکر اسے دعائیں دے۔اپنی فوج اور دشمن کی فوج سے مدد مانگنے میں بڑا فرق ہے۔دشمن سے اپوزیشن نے بظاہر مدد نہیں مانگی۔آج امریکہ افغانستان سے انخلائ کررہا ہے تو اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔انکے زور دینے پر امریکہ طالبان کیساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوا اور پھر امن معاہدہ طے پاگیا۔
گزشتہ روز کابل ایئر پورٹ پر بدترین دہشتگردی ہوئی۔ 2 خودکش دھماکوں میں بچوں، خواتین اور 13 امریکی فوجیوں سمیت 60 افرادہلاک ہوگئے۔ 15 امریکیوں سمیت 150افراد زخمی بھی ہوئے۔ طالبان کے متعدد گارڈز بھی زخمی ہوئے۔ داعش نے ذمہ داری قبول کرلی۔
ایک دھماکہ ایئرپورٹ کے سامنے ہوٹل کے قریب ہوا۔ ہوٹل میں زیادہ تر برطانوی اہلکار ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسرا دھماکہ ایئر پورٹ گیٹ کے سامنے ہوا۔ ہدف کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع لوگ تھے۔کل کی دہشتگردی میں جو امریکی مرے ہیں اس کا سب سے بڑا ذمہ دار امریکہ خود ہے۔دوسر ے الفاظ میں اپنے فوجیوں کا خود قاتل ہے۔اس نے یکم مئی 2021ئ تک انخلائ کا وعدہ کیا تھا۔اس میں ایک دن کی بھی تاخیر کیوں کی گئی۔امریکہ کے پاس کئی بڑے کارگو ہیں۔ہیڈ لاک سی فائیو دیوہیکل طیارہ ہے۔امریکہ کے پاس پوری دنیا کے کسی بھی کونے میں چوبیس گھنٹے میں ایک لاکھ فوج بمع جنگی سامان کے پہنچانے کی صلاحیت ہے۔
افغانستان سے امریکہ اپنے فوجیوں اور سارے سازو سامان کو ایک دن میں لے جاسکتا تھا۔تاخیر کی تو آج دہشتگردوں کو مہلک حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔ داعش اب امریکہ اور طالبان کی مشترکہ دشمن بن کے سامنے ا?ئی ہے۔نہیں معلوم امریکہ کا خنجر کس کے ساتھ اور دل کس کے ساتھ ہے۔ہنری کسنجرنے کہا تھا۔” 1971 میں امریکا کا جھکاﺅپاکستان کی طرف لیکن ہمدردیاں بنگلہ دیش کی تحریک کے ساتھ تھیں“۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*