تازہ ترین

الیکشن ٹریبونل کا حلقہ این اے 265سے کامیابی کیخلاف عذرداری درخواست پر فیصلہ محفوظ

کوئٹہ (این این آئی)الیکشن ٹریبونل نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی حلقہ این اے 265 سے کامیابی کیخلاف عذرداری درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، ہفتہ کو الیکشن ٹربیونل کے جج عبداللہ جان بلوچ نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماءنوابزادہ حاجی لشکری رئےسانی کی جانب سے حلقہ این اے 265سے کامیاب ہونے والے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی کوئٹہ، درخواست گزار بی این پی کے امیدوار حاجی لشکری رئیسانی اپنے وکلا کے ہمراہ جبکہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور انکے وکیل بابر اعوان ٹریبونل میں پیش ہوئے ،درخواست گزار کے بھائی سابق وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل ریاض ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ 13 پولنگ اسٹیشن کا ریکارڈ ہی نہیں ہے مکمل نتائج کے بغیر نتےجے کااعلان کیسے ہوا انہوں نے کہا کہ نادرا رپورٹ کے مطابق 65 ہزار ووٹ غیر مصدقہ ہیں یہ مکمل طور پر دھاندلی کو ظاہر کرتی ہے، کوئٹہ، شناختی کارڈ درست نہیں، دوسرے حلقے کے ووٹ ڈالے گئے ہیں انگھوٹوں کے نشانات غیر مصدقہ ہیں اس صورتحال میں ریٹرننگ آفیسران اور الیکشن آفیسران کے کام پر سوال اٹھتا ہے ،54 ہزار سے زائد ووٹوں پر ہر قسم کے انگھوٹوں کے نشانات لگائے گئے ہیں، نادرا اپنی رپورٹ میں ووٹ کے حوالے سے جو سامنے ہے وہ بتانا ہے نادرا رپورٹ میں غلط شناختی کارڈ کے نمبروں کو انسانی غلطی قرار دینا غلط ہے ووٹ کی تصدیق اور تردید کا اختیار صرف ٹریبونل کو ہے حلقے میں ایک لاکھ 14 ہزار 700 ووٹ کاسٹ ہوئے ،جن میں صرف 50 ہزار ووٹوں کو صحیح قرار دیا ہے ،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے این اے 265 سے متعلق نادرا رپورٹ پر اعتراضی دلائل دےتے ہوئے کہا کہ آر او کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں ہوا درخواست گزار کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں این اے 265 کے حلقے میں کوئی دھماکہ نہیں ہوادرخواست گزار نے اعترافِ کیا کہ الیکشن کمیشن نے کسی پولنگ اسٹیشن پر پولنگ روکنے کا حکم نہیں دیا درخواست گزار کو اپنے پولنگ ایجنٹ کے نام یاد نہیںڈاکٹر بابر اعوان نے نادرا بائیومیٹرک رپورٹ کے بعض نکات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نادرا رپورٹ تکنیکی بنیادوں پر ہے الیکشن ایکٹ کے تحت تکنیکی بنیادوں پر رپورٹ منظور یا مسترد بھی کی جاسکتی ہے،الیکشن ٹربیونل آئین کی دفعہ 144 کے تحت درخواست کو مسترد کرے بعدازاں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن ٹریبونل نے انتخابی عذرداری پر فیصلہ محفوظ کرلیا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*