افغان امن عمل کی کامیابی پاکستان کے بغیر ناممکن

فیصل ادریس بٹ
بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے مکمل انخلا کے لئے دی گئی تاریخ یکم مئی کو تبدیل کرکے گیارہ ستمبر تک بڑھا دی ہے جس کو افغان طالبان نے نہ صرف قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
بلکہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کا عندیہ بھی دے دیا ہے اگر امن معاہدہ سبوتاژ ہوتا ہے تو اسکا خمیازہ نہ صرف امریکہ بلکہ ہمسایہ ممالک کو بھی بھگتنا ہوگا جس کو مدنظر رکھتے ہوئے بائیڈن کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے ڈیموکریٹس کی پالیسی کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور افغانستان کی صورت حال پر مدد طلب کی ہے جنرل باجوہ نے بھارت کے کشمیر پر غیر قانونی قبضے کی وجہ سے لاکھوں انسانوں کا داو پر لگا ہوا مستقبل بھارتی فوج کے مظالم جو وہ نہتے عوام پر ڈھا رہی ہے پر بھی بات چیت کی ہے قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کو خواہاں ہے اقوام متحدہ اور امریکہ کو کشمیریوں کی آواز سننی چاہیے اور مظلوم کشمیریوں کی مدد کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے جس پر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے مسئلے کے مثبت حل کی یقین دہانی کروائی ہے قارئین بائیڈن انتظامیہ کو پاکستان کی جغرافیہ صورتحال کے پیش نظر اقتدار میں آنے کے یکے بعد دیگرے پاکستانی سپہ سالار سے رابطے میں انا پڑا افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے لئے بھی مشینری ٹینک اور ہیوی اسلحے کی واپسی کے لئے پاکستانی سرحد کا استمال ہی کیا جائے گا امریکہ میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں جو اقتدار کے حصول کے لئے عام انتخابات میں حصہ لیتی ہیں جس میں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹس پارٹی شامل ہیں ریپبلکن پارٹی جب اقتدار میں آتی ہےَ تو وہ دنیا میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کی بجائے بادشاہت کو پرموٹ کرنے پر یقین رکھتے ہیں جیسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے تھے وہ سعودی شاہی خاندان کے خاصے قریب سمجھے جاتے تھے انھوں نے سعودی فرماں روا اور ولی عہد سے ملکر کروڑوں ڈالر کے منصوبے تشکیل دئیے بلکہ ولی عہد شاہ سلمان کاخاصا ساتھ دیا سابق امریکی حکومت جسکی سربراہی ٹرمپ کر رہے تھے اس نے جہاں بہت سے متنازعہ فیصلے کیے وہیں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کا اعلان بھی کردیا ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے یہ اعلان اسکے اثرات و نتائج کا حقیقی ادراک کئے بغیر محض اپنے سیاسی فائدے کے لئے کیا تھا بائیڈن الیکشن جیتنے سے پہلے اور بعد میں بارہا افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر نظر ثانی کی بات کر چکے ہیں اب امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کی تاریخ میں توسیع بائیڈن کے اسی ارادے پر عملدرآمد کی ایک کڑی ہے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے پہلے ہمیں اس حقیقت سے بھی پوری طرح آگاہ رہنا چاہیے کہ افغانستان کے اندر امریکہ کے علاوہ روس چین ایران اور پاکستان کے مفادات بھی وابستہ ہیں جبکہ بھارت نے بھی اپنے مفادات زبردستی افغان مسئلے کے ساتھ نتھی کر رکھے ہیں ٹرمپ انتظامیہ کے افغان طالبان سے معاہدے کے مطابق امریکی فوجوں کے انخلا کی صورت میں افغانستان کے اندر ایک خوفناک خانہ جنگی چھڑنے کا خدشہ بھی ہے۔
اس خانہ جنگی کو دیگر سٹیک ہولڈرز کے مفادات بھی ہوا دے سکتے ہیں اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ غیر ملکی فوجوں کو افغانستان سے نکل جاناچاہیے مگر جس طرح سے افغانستان کے اندر بد امنی موجود ہے اور مختلف ممالک نے اپنے مفادات وابستہ کئے ہیں اسکی بنیاد بھی غیر ملکی فوج یعنی روس کے حملے میں رکھی گئی تھی بہتر ہوگا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے اس مسئلے کا سب کو قابل قبول حل نکالا جانا چاہیے دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان اور امریکی انتظامیہ کو پاکستان نے گراں قدر خدمات فراہم کیں۔ ماسکو کانفرنس جو حال ہی ہوئی ہے َ
کو بھی ایک اچھی پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے ترکی کانفرنس میں بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو اکھٹا کرنے کی کوششیں جارہی ہیں اس جنگ میں افغانستان کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا عالمی طاقتیں کو افغانستان میں کوئی بھی انتظامی ڈھانچہ بناتے وقت پاکستان کے مفادات کا ہر صورت خیال رکھنا ہوگا اسی طرح سے روس چین ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک کو خطے میں پائیدار امن کے لئے ایسا حل نکالنا ہوگا افغانستان کے عوام حکومت طالبان اور دیگر دھڑے مطمن ہو سکیں امریکی فوجوں کے انخلا میں تاخیر پر طالبان کا ردعمل ایک فطری بات ہے انہیں مطمئن کرنا اب بائیڈن انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کے ادراروں خصوصاً آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان امن عمل میں جو کوششیں کیں ہیں عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ اس خطے میں استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں پاکستان اور افواج پاکستان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس امن عمل کو نقصان پہنچانے کے لئے بھارت کی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہماری رائے میں افغان امن عمل کی کامیابی کے ساتھ مسئلہ کشمیر منصفانہ حل خطے میں خوشحالی امن اور استحکام لا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*