تازہ ترین

افغانستان میں عدم استحکام پاکستان کو متاثرکرسکتاہے،قومی سلامتی کمیٹی

اسلام آ باد (آئی این پی ) قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ خطے میں ابھرتی ہوئی صورت حال انتہائی پیچیدہ ہے، افغانستان میں کسی بھی قسم کے عدم استحکام کے پاکستان پر شدید اثرات مرتب ہونگے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پر امن، مستحکم اور خود مختار افغانستان چاہتا ہے۔ عالمی برادری افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے تعاون کرے۔ اس موقع پر کمیٹی کی جانب سے افغانستان میں سنگین بحران پر تشویش کا اظہار کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے شرکا کا کہنا تھا کہ خطے میں ابھرتی ہوئی صورت حال انتہائی پیچیدہ ہے۔ افغانستان میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام پاکستان کے لیے شدید مشکلات لا سکتا ہے۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے افغانستان کی صورت حال سے متعلق مربوط پالیسی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے افغانستان میں حکومت کی مختلف کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کی ہدایت کی۔ خصوصی سیل افغانستان کے لیے انسانی امداد کے بین الاقوامی روابط میں کردار ادا کرے گا، جب کہ سیل موثر بارڈر مینجمنٹ اور کسی بھی منفی پھیلا کو روکنے کے لیے بھی کام کرے گا۔ واضح رہے کہ آج ہونے والے اجلاس میں اجلاس میں افغانستان کی مجموعی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سروسز چیفس، وفاقی وزرا اور انٹیلی جنس اداروں کےسربراہوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان کو خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو افغانستان کی موجودہ صورت حال اور اس کے پاکستان پر اثرات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی اور افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔ کمیٹی اجلاس میں ہونے والی گفتگو پبلک کرنے والی نہیں ہے۔ اجلاس میں شرکا نے نیشنل ایکشن پلان پر بھی غور کیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج ہونے والے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک شریک نہیں ہوئے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*