تازہ ترین

اصل روپ

حفصہ فیصل
(گذشتہ سے پیوستہ)لیکن اب وہاں کسی سانپ کا نام و نشان نہ تھا۔
”چلو بلا ٹلی“وسیم خوشی سے بولا،لیکن اچانک رسی کا پھندا،وسیم کے گلے میں آیا اور وسیم کا دم گھٹنے لگا،وہ جان توڑ رسی کے پھندے سے خود کو چھڑانے لگا اور یہ دیکھ کر اس کے حواس گم ہو گئے کہ جسے وہ رسی سمجھ رہا تھا،وہ سانپ تھا جو اس کے گلے میں پھندا بنا ہوا تھا۔
اگلے ہی لمحے خوف سے وسیم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔
”آخر وسیم کدھر گیا ہے؟رات ہو گئی،وہ اب تک نہیں لوٹا،تم کیسی ماں ہو جس کو اپنے بیٹے کی خبر نہیں؟“طفیل صاحب اپنی بیگم کو ڈانٹ رہے تھے۔
”وہ صرف میرا ہی نہیں آپ کا بھی بیٹا ہے۔
“بیگم طفیل نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
”صاحب!وسیم میاں،نویلا کے جنگلات کی طرف گئے ہیں۔“خان بابا نے انکشاف کیا۔
”یہ،یہ کون سے جنگلات ہیں اور کہاں ہیں؟“بیگم نے سوالی لہجے میں کہا۔
”یہ لڑکا اور اس کی مہم جوئی····ہم سب کو کسی دن لے ڈوبے گی۔
“طفیل صاحب بولے۔
”چھوٹے صاحب اپنی کار پر گئے ہیں۔“ملازم نے بتایا کار میں ٹریکر لگا تھا،اس لئے انھوں نے فوراً ٹریکر کمپنی کو فون کیا۔
طفیل صاحب پولیس موبائل کے ساتھ نویلا کے جنگل کے باہر کھڑے تھے،وسیم کی کار بھی وہاں موجود تھی،مگر وسیم کا کچھ پتا نہیں تھا۔
طفیل صاحب دیوانہ وار جنگل کی طرف بڑھے،لیکن اسی لمحے ان کے موبائل فون کی گھنٹی بجی:”بیٹے کے لئے بہت پریشان ہیں،طفیل صاحب!“
”کون،کون ہو تم؟کہاں ہے میرا بیٹا؟“
”بیٹے سے بھی ملوائیں گے۔سنا ہے آپ کا بیٹا اکلوتا ہے۔“
”کیا،کیا چاہیے تمہیں؟“طفیل صاحب بے صبری سے بولے۔
”فقط بیس کروڑ!“”بیس کروڑ!“طفیل صاحب نے دہرایا۔
انسپکٹر جامی جو طفیل صاحب کے ساتھ ہی کھڑے تھے،ساری گفتگو سن اور سمجھ چکے تھے۔فون بند ہو چکا تھا۔
طفیل صاحب کی حالت خراب ہو رہی تھی۔انسپکٹر جامی نے انھیں دلاسا دیا۔فون کرنے والے کے نمبر کو ٹریس کیا گیا،لیکن وہ نمبر ٹریس نہ ہوا۔
”جہاں تک میرا اندازہ ہے،وسیم اسی جنگل میں موجود ہے۔“انسپکٹر جامی نے تجزیہ کیا۔
پھر ایک افسر سے کہا:”حوالدار!مزید نفری بلا¶۔ابھی جنگل کا محاصرہ کرنا ہے۔“
”نہیں انسپکٹر!وہ میرے بیٹے کی جان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔“
#’#’آپ بے فکر رہیں طفیل صاحب!وسیم کو کچھ نہیں ہو گا۔“
”جنگل کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔
وسیم کو لے کر باہر نکل آ¶،ورنہ انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔“اعلان وقفے وقفے سے تین بار کیا گیا،لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔
”ہم آخری بار تنبیہ کر رہے ہیں،دس تک گنتی گنی جائے گی،باہر آجا¶،ورنہ نقصان اُٹھا¶ گے۔“
پتوں کے سرسرانے کی آواز پر سب کی نگاہیں اس سمت اُٹھیں،جہاں سے پروفیسر نجمی اپنا حفاظتی لباس پہنے جنگل سے بہار آرہے تھے۔ان کی نشاندہی پر چند سپاہی بے ہوش وسیم کو اسٹریچر پر ڈال کر لے آئے۔سب لوگ اسے لے کر اسپتال پہنچے۔
وسیم کو ہوش میں آتا دیکھ کر طفیل صاحب بیٹے کی جانب لپکے:”کیسا ہے میرا بیٹا!“
”پاپا!میں یہاں!وہ جنگل·····پروفیسر······نوادرات····سانپ“
وسیم اٹک اٹک کر بول رہا تھا۔
”سب جھوٹ تھا بیٹا!اس پروفیسر نے تمہیں اپنی باتوں کے جال میں پھنسا کر اغوا کرنے کی کوشش کی تھی،وہ بیس کروڑ روپے کا مطالبہ کر رہا تھا۔
یہ تھا اس کا اصل روپ۔پولیس کے بروقت اقدام اور اللہ کے فضل نے تمہیں بچا لیا۔مجھے معاف کر دو،میرے بیٹے!مجھے معاف کردو،پیسے کمانے کی دھن میں،میں اپنا فرض فراموش کر بیٹھا تھا۔“
”مجھے بھی معاف کر دو میرے بیٹے!“بیگم طفیل بھی پیچھے سے شرم سار ہو کر آگے آئیں۔
”نہیں،نہیں امی،پاپا!مجھے شرمندہ نہ کریں،میں نے بھی اس شوق کو اپنے سر پر حد سے زیادہ سوار کر لیا تھا۔“
تینوں کی آنکھوں میں خوشی اور ندامت کے آنسو تھے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*