تازہ ترین

”اس پہ ٹوٹی ہوئی افتاد تو ٹالی جائے“

سعید آسی
قومی اسمبلی کے فورم پر اودھم مچانے والے ہمارے منتخب نمائندوں کو نہ جانے اس کا احساس ہوا ہے یا نہیں مگر انکی نازیبا حرکات پر سوشل میڈیا پر جو سنگین سوالات اٹھائے اور اچھالے جارہے ہیں‘ انکے عملی قالب میں ڈھلنے کی نوبت آگئی تو گالیاں دیکر اور گالیاں کھا کر بے مزہ نہ ہونے والے ہمارے ان ”بے مثال“ ارکان کو پچھتاوے کا احساس ضرور اپنی لپیٹ میں لے گا۔ بے شک دھینگا مشتی‘ توتکار اور چھینا جھپٹی والے مناظر ہمارے منتخب ایوانوں کے ہتھ چُھٹ کلچر کی عکاسی کرتے ہیں مگر اس بار یہ مناظر اس لئے منفرد نظر آئے اور جمہوری نظام کے ناقدین کے ہتھے چڑھ کر سوشل میڈیا کی زینت بنے کہ معزز و مقدس کا رتبہ پانے والے وفاقی وزرائ‘ وزرائے مملکت اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی خود ان مناظر کے محرکین میں شامل تھے اور خود سرکاری بنچوں نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو بجٹ پر تقریر نہ کرنے دینے کی ٹھانی تھی جو پبلک منی میں سے بروئے کار لائے گئے کثیر سرمایہ سے اشاعت پذیر ہونیوالی قومی بجٹ کی ضخیم کتاب بھی اپوزیشن کی جانب اچھالنے میں پہل کرتے نظر آئے اور مغلظات میں بھی انہوں نے ہی پہل کرنا ضروری سمجھا۔
منتخب ایوانوں کے اندر اپنے کتھارسس کا یہ راستہ اختیار کرنا اپوزیشن بنچوں کی تو مجبوری بن جاتا ہے کہ اپوزیشن کو دبا کر رکھنے والے حکومتی رویے کو اپوزیشن ارکان ہتھ چھٹ کلچر اپنا کر مات دینا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔
اس کلچر میں بالخصوص اپوزیشن ارکان ہی دھینگا مشتی‘ ہاتھا پائی‘ توتکار اور چھینا جھپٹی کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور اسکے برعکس حکومتی بنچوں کی جانب سے جلتی پر تیل ڈالنے سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ اپوزیشن کی لگائی آگ کو حکومت کی جانب سے ہوا دینے سے شعلے بڑھیں گے تو اس سے منتخب ایوانوں کے ساتھ ساتھ ایوان اقتدار بھی خاکستر ہونے کا خدشہ لاحق ہوگا۔
حضور اب تو آگ بھی حکومتی بنچوں کی جانب سے لگائی گئی اور پھر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام بھی انہی بنچوں کی جانب سے سرانجام دیا گیا تو پھر جمہوری نظام کی پہلے ہی دھلائی کرنیوالے اس نظام کے ناقدین کی باچھیں کیوں نہیں کھلیں گی۔ سو اس وقت سوشل میڈیا پر خوب تماشا لگا ہوا ہے۔ جمہوری نظام کیخلاف ایک سے ایک بڑھ کر تبصرے سننے اور ماضی کے ویڈیوکلپس دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ ساتھ ”ہورچوپو“ کا تمسخرانہ طعنہ۔ ”تو ہائے گل پکار‘ میں چلّاﺅں ہائے دل“۔ دل کے پھپھولے پھوڑنے کا موقع نکل آیا ہے اور جمہوریت کی مٹی پلید ہورہی ہے۔ اس شوراشوری میں جمہوریت کو ماضی جیسا کوئی نقصان پہنچے گا تو بھائی صاحب اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔ آپ نے جس درخت پر گھونسلے بنائے ہوئے ہیں‘ کدالیں پکڑ کر اسی کی جڑیں کاٹنے میں مگن ہو گئے ہیں۔
تو عنان جمہوریت سنبھالنے کے تو آپ خود ہی اپنے آپ کو نااہل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ قوم کی نمائندگی کرنیوالا منتخب ایوان نہ ہوا‘ کرکٹ گراﺅنڈ ہو گئی جہاں تماشائی اور اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے فین ہمہ وقت سیٹیاں‘ تالیاں اور ڈھول بجا کر ان کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرتے اور انہیں اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اس لئے یہ اندازہ لگانا تو کوئی مشکل کام نہیں کہ ملک اور قوم کے مقدر کا فیصلہ کرنیوالے منتخب ایوان کواپنے لوگوں کے ہاتھوں میں سیٹیاں تھما کر ہاﺅس میں بھیج کر کرکٹ گراﺅنڈ میں تبدیل کرنے کی سوچ کس کے ذہن رساکی پیداوار ہو سکتی ہے۔ انہیں شاید اسکی بھی پرواہ نہیں کہ بے شک اپنی کٹیا بھی جلتی ہے تو جلے‘ دشمن کو تو گھر میں سونا نصیب نہ ہو۔ سو اس سوچ نے گزشتہ تین روز سے قومی اسمبلی کے ایوان میں کرکٹ گراﺅنڈ والے جو مناظر بنائے ہوئے ہیں اس میں ایوان کے اندر کرسیاں چلنے‘ ہاتھا پائی ہونے اور مغلظات کے ذریعے آداب و شائستگی کو فروغ دینے والے ماضی کے سارے مناظر ہیچ نظر آنے لگے ہیں۔ یہ تو ”معاملہ ہی کیا ہوا اگر زیاں کیلئے“ والی سوچ نظر آتی ہے۔
اگر آپ جمہوریت کو لپیٹنے کے نادر مواقع نکالتے رہیں گے تو ہاتھ آئی شیرینی بھلا کون چھوڑتا ہے اس لئے منتخب ایوان کے اندر فروغ پاتی محاذآرائی سے جمہوریت کا مردہ خراب ہونے کا منظر ابھرتے بھلا کوئی دیر لگے گی کہ یہ منظر تو خود حکومتی بساط کے اندر سے نکالا جارہا ہے۔
اور حضور! پھر آپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے اس سوال پر بھی غور فرمائیں کہ ایک دوسرے کی جانب اچھالی اور پاﺅں تلے روندی جانیوالی قومی بجٹ کی کتاب کا آغاز ہی رب کائنات خداوند کریم اور رحمت للعالمین و خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک سے ہوا ہے۔ اگر اقلیتوں میں سے کوئی شخص ناسمجھی سے اخبار کے کسی ایسے ٹکڑے کو ہوا میں اچھال کر پھینک دے جس پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا ہو تو وہ توہین رسالت کا مرتکب ہو کر گردن زدنی ہوجاتا ہے۔ اب بجٹ کی کتاب دانستاً ایک دوسرے کی جانب پھینک کر اسکی بے حرمتی کرنیوالوں کیخلاف کون سی تعزیری کارروائی ہونی چاہیے۔ حضور! یہ بہت نازک اور سنگین سوال ہے اس لئے میں نے اس کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا۔
کہ قومی اسمبلی میں ایسے دلسوز مناظر بنانے والے معزز ارکان کو بعدازاں پچھتاوے کا احساس ضرور اپنی لپیٹ میں لے گا۔
پھر آپ نے عرق ریزی کے ساتھ تیار کی گئی اور خطیر قومی سرمائے کے ساتھ شائع کی گئی بجٹ کی اس کتاب کے بخیئے ادھیڑ کر قومی خزانے کو جو نقصان پہنچایا ہے کیا وہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے کسی جرم کے زمرے میں نہیں آئیگا۔ سو اس کتاب پر اٹھنے والے اخراجات تو پہلی سزا کے طور پر سرکاری اور اپوزیشن بنچوں کے متعلقہ اراکین سے وصول کئے جائیں۔
اور جمہوریت کو بچانا اور اس کا میٹھا پھل کھانے کا سلسلہ برقرار رکھنا ہے تو دونوں جانب کے سنجیدہ فکر قائدین باہم سرجوڑ کر بیٹھ جائیں اور منتخب ایوان کو ”اودھم کلچر“ سے خلاصی دلانے کا کوئی چارہ کرلیں ورنہ آئی کو ٹالنا بہت مشکل ہو جائیگا۔ آپا ماہ ناز رفیع اس سارے اودھم پر بہت مضطرب اور فکرمند نظر آتی ہیں۔ میاں منظور وٹو بھی پریشان بیٹھے ہیں‘ وہ ہی کوئی چارہ کرلیں ورنہ کسی کے کچھ ہاتھ پلّے نہیں آئیگا۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*