تازہ ترین

اس خزاں کو مٹائیں گے ہم ہی!!!!

محمد اکرام چودھری
حبیب جالب آج بھی غالب ہیں۔ ان کے شعر آج بھی دلوں کو گرماتے ہیں، نیا جوش و جذبہ پیدا کرتے ہیں، اس فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کا پیغام دیتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان مرحوم حبیب جالب کے شعر پڑھ پڑھ کر ملک کے سادہ لوگوں کی معصومیت سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ ان فائدہ اٹھانے والوں میں کوئی ایک نہیں سب شامل ہیں۔ وہ بھلے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے ہوں یا پھر اب تبدیلی والوں کا دور، ہر سیاست دان نے حبیب جالب کے افکار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ عوام کے جذبات سے کھیلا اور اقتدار میں آ کر سب کچھ بھول گئے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ بدقسمتی ہے کہ عام آدمی نے ہر دور میں ہر سیاسی جماعت کو اچھی امیدوں کے ساتھ موقع دیا لیکن سب نے ایک ایک کر کے ملک کو لوٹا، ملک کی بنیادوں کو کمزور کیا آج وہ بڑھ چڑھ کر بیانات جاری کر رہے ہیں۔ سب ملک و قوم کی خدمت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں اور ایک مرتبہ پھر سادہ لوح عوام کو لوٹنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے روپے کی بے قدری کب شروع ہوئی تھی، کیا ان میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ ریاستی اداروں کا بیڑہ غرق کس دور میں ہوا ہے۔ جس جمہوریت کا غم انہیں کھائے جا رہا ہے اس جمہوریت میں ملک کتنا مقروض ہوا ہے۔ ملک میں امیر غریب میں فرق کس دور میں بڑھا ہے۔ ملکی خزانے کو کس دور میں نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب قرضوں سے آزاد شہباز شریف کو ملا تھا وہ کتنا مقروض کر کے گئے کیا یہ کوئی بتا سکتا ہے۔ سو ایک ڈرامہ چل رہا ہے، کردار وہی ہیں بس وقت بدلتا ہے، مناظر بدلتے ہیں، کہیں کہیں ڈائیلاگ بھی بدل جاتے ہیں۔ طریقہ واردات بھی بدلتا ہے لیکن مقصد سب کا ہمیشہ سے ایک ہی ہے۔ سب اپنے اپنے خاندانوں کو مالدار بنانے کا ہدف بنا کر کام کر رہے ہیں اور جو ان کا راستہ روکتا ہے اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر راستہ روکنے والوں کے ساتھ جو کر سکتے ہیں وہ ان دنوں بھی آپ دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تھا اور آج بھی سندھ لوگ روٹی کپڑا اور مکان کو ترس رہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ پنشن میں بھی کرپشن ہو رہی ہے۔ حیدر آباد ریجن میں پینشن کی ہزاروں جعلی آئی ڈیز کے ذریعے تین ارب روپے نکالے جانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ان کی حکومت میں ہو رہا ہے جنہوں نے روٹی کپڑا اور مکان دینا تھا۔تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ سندھ میں جعلی پنشن آئی ڈیز کے ذریعے تین ارب کی کرپشن کی گئی ہے۔ نیب کے مطابق دو ہزار بارہ سے دو ہزار سترہ کے دوران خزانہ آفس حیدرآباد سے مبینہ طور پر رقم منتقل کی گئی۔خزانہ آفس سے رقم جعلی پنشن آئی ڈیز میں منتقل کی گئی تین ارب کی کرپشن میں مجموعی طور پر محکمہ کے ملازمین سمیت پچاس افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔ محکمہ زراعت، تعلیم، خزانہ، صحت، پولیس سمیت 15 محکموں کے ملازمین ظاہر کرکے نجی افراد کو جعلی پنشن بلوں کی ادائیگی کی گئی۔ نیب حکام کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں نجی افراد کو ریٹائرڈ سرکاری ملازم دکھا کر پنشن سمیت دیگر بلز کی ادائیگی کی گئی۔ یہ ایک مثال ہے ایسی درجنوں مثالیں ہماری بدترین سیاسی حکومتوں کے ساتھ جڑیں ہیں۔
آج پی آئی اے، پاکستان ریلویز، پاکستان سٹیل مل سمیت ادارے ان حکمرانوں کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ اسی کی دہائی میں تو ایسے نہ تھے، روپے کی اتنی بے قدری تو نہ تھی پھر جیسے جیسے جمہوری دور آگے بڑھتا رہا روپیہ نیچے آتا رہا۔ انہوں نے ہماری آزادی کو ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ اب ایک مرتبہ پھر میدان میں ہیں لیکن اب ان شاءاللہ ملک دوبارہ ان کے ہاتھوں میں نہیں جائے گا۔ ان کے طرز حکمرانی اور غربت ختم کرنے کے وعدے پورے نہیں ہوئے بلکہ غربت بھی بڑھی اور بے روزگاری میںبھی اضافہ ہوا۔ساغر خیامی نے کیا خوب لکھا ہے۔
دل جل رہے ہیں دوستو غم کے الاﺅ میں
بچے بھی مبتلا ہیں دماغی تناﺅ میں
پانی کی طرح بہتی ہے دولت چناﺅ میں
یکجہتی کا تو نام نہیں رکھ رکھاﺅ میں
اک آدمی کے واسطے پتلون، شرٹ، کوٹ
اک آدمی کے واسطے ممکن نہیں لنگوٹ
اک گھر میں اتنی روٹیاں کھائے نہیں بنیں
اک گھر کا ہے یہ حال کہ ستو نہیں سنیں
اک گھر میں اتنی روشنی آنکھیں نہیں کھلیں
اک گھر میں گھاسلیٹ کے دیپک نہیں جلیں
کتے کسی کے سیر کو موٹر پہ جائے ہیں
قسمت کے در پہ بیٹھ کے کچھ دم ہلائے ہیں
یہ کون سوچتا ہے برابر ہے آدمی
دولت ہے جس کے پاس وہ بہتر ہے آدمی
وہ آدمی نہیں جو پھٹیچر ہے آدمی
راہیں طویل اور کھلے سر ہے آدمی
اسیا رہا ہے وہ جو غریبی کی اوس میں
پکوان پک رہے ہیں اسی کے پڑوس میں
صحن چمن میں کچھ پس دیوار ہیں کھڑے
یعنی عوام جان سے بیزار ہیں کھڑے
دفتر میں روزگار کے بیکار ہیں کھڑے
لائن میں اسپتال کی بیمار ہیں کھڑے
روٹی اگر نہ پائی تو پتھر اٹھائیں گے
بھوکے کبھی نہ بھوک میں ملہار گائیں گے
عالم یہ دفتروں کا ہے یاران تیز گام
پھیلا ہر ایک گام ہے رشوت کا ایک دام
افسر بھی بے نکیل ہیں اسٹاف بے لگام
جنتا کا ہے یہ حال کہ کرتی ہے رام رام
موسم کو دیکھ بھال کے فائل بڑھائے ہیں
دفتر میں لڑکیاں بھی تو سویٹر بنائے ہیں
روشن کرو چراغ وہ دور سیاہ میں
کھائے نہ کوئی ٹھوکریں کوئی روٹی کی چاہ میں
غربت اڑی ہوئی ہے ترقی کی راہ میں
یکساں سبھی ہوں لوگ تمہاری نگاہ میں
ترتیب دو چمن بڑھی شاخوں کو چھانٹ دو
دولت کو آدمی پہ برابر سے بانٹ دو
آج ہر طرف بے چینی کی وجہ خراب طرز حکومت اور لوٹ مار ہے۔لیکن اب ان شاءاللہ ملک دوبارہ ان کے ہاتھوں میں نہیں جائے گا جنہوں نے ملک لوٹا ہے۔ ان سب کو خبر ہو کہ اب موقع نہیں ملے گا۔ اب
بقول شاعر انقلاب، شاعر عوام
بے گھری کو کریں گے ہم ہی د±ور
ہم ہی دیں گے دِلوں کو پیار کا نور
خلق صدیوں کے ظلم کی ماری
یوں نہ حیراں پھرے گی بے چاری
روٹی کپڑا مکان ہم دیں گے
اہل محنت کو شان ہم دیں گے
اس خزاں کو مٹائیں گے ہم ہی
فصلِ گ±ل لے کے آئیں گے ہم ہی
ہم ہی اس ملک کے مسائل حل کریں گے۔ ہم ہی عوام کو روٹی کپڑا اور مکان دیں گے۔ ہم ہی ہنرمندوں کو ان کا جائز حق اور مقام دیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*