تازہ ترین

اسرائیل بارے وزیر اعظم کا اصولی موقف

اسد اللہ غالب
متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد پاکستان میں چہ میگوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا،ہر شخص ایک ہی سوال کر رہا تھا کہ اگر عربوں نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو پاکستان کس پلڑے میں وزن ڈالے گا۔ اس سوال کا جواب وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے واضح طور پر آ گیا ہے، انہوںنے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کا آج بھی وہی موقف ہے جو بانی پاکستان قائد اعظم کا تھاکہ اسرائیل پہلے فلسطینیوں کے حقوق دے ۔ پھر اسے تسلیم کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم اس موقف سے ہٹیں گے تو ہمار اکشمیر کیس بھی کمزور ہو جائے گا ، کشمیر پر بھی بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے اورفلسطین پر اسرائیل غاصبانہ قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ دونوں معاملات ایک جیسے ہیں۔ اس لئے ہم اسرائیل کے بارے میںا سوقت تک سوچ بھی نہیں سکتے جب تک فلسطینیوں اور کشمیریوں کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے اور یہ حقوق سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہو نے چاہئیں۔وزیر اعظم نے اسرائیل کے سلسلے میں عربوں کے دباﺅ کے امکانات کوبھی رد کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی خارجہ پالیسی ہے اور ہم اپنی خارجہ پالیسی میں ا?زاد ہیں۔ اس سے یہ بحث بھی ختم ہو جانا چاہئے کہ عربوںنے بھارت کے ساتھ قتریبی دوستانہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ وہ بھارت کے ساتھ بڑھ چڑھ کر تجارت کر رہے ہیں۔ وہ او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدعو کرتے ہیں۔ اس پر ظاہر ہے پاکستان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جو اس کا حق تھا۔ عرب ممالک بھارتی وزیر اعظم مودی کوا یوارڈ سے نوازرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہم نے حریت راہنما سید علی گیلانی کے لئے نشان پاکستان کے ایوارڈ کاا علان کر دیا ہے۔ خارجہ پالیسی ادلے کا بدلہ ہوتی ہے اور پاکستان نے ہر پلیٹ فارم پر ہر ایک کو ترکی بہ تر کی جواب دیا ہے۔ گزشتہ برس جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر میں بھارتی مظالم کی کھل کر مذمت کی اور دنیاپر واضح کر دیا کہ کشمیر کامسئلہ سلامتی کونسل کی منشا کے مطابق حل نہ ہو ا تو خطے میں ایٹمی جنگ بھڑک اٹھے گی جس کی تباہی کا دائرہ برصغیر کی حدود سے باہر تک پھیل جائے گا۔ پاکستانی قوم جذباتی اور جوشیلی نہیں لیکن کشمیر پر ا سکی پالیسی ہر حکومت کی تبدیلی کے باوجود یکساں رہی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے صاف کہا ہے کہ ہمارا حقیقی دوست چین ہے۔، ا سکی دوستی آزمائی جا چکی ہے۔ اور ہم چین سے دوری نہیں اختیار کر سکتے۔ اس موقف کے پیچھے یہ حقیقت جھلک رہی ہے کہ چین نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر اسی وقت دے دیئے جب سعودی عرب نے اپنے ایک ا رب ڈالر واپس مانگے۔ اس سے پاکستانی عوام کو یوں لگا جیسے پاک سعودی تعلقات میں کوئی رخنہ آگیا ہے مگر افواہوں کو دور کر نے کے لئے فوری طور پر آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف دونوںنے سعودیہ کا دورہ کیا،پاکستان نے کبھی عربوں کی خارجہ پالیسی کی آں بند کر کے تقلید نہیں کی۔صدام حسین نے کویت پر قبضہ کیا تو ہماری حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ صدام نے کویت پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے جس طرح بھارت نے کشمیر کو غصب کر رکھا ہے۔ سعودی عرب نے مدد کے لئے پاکستان سے فوج مانگی تو پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے قرار دیا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کی لڑائی میں فریق نہیںبنے گا۔ یہی جواب بحرین کو بھی دیا گیا۔ اگرچہ پاکستان کے ان فیصلوں پر عرب امارات کے ایک وزیر نے سخت تنقید کی مگر پاکستان نے کوئی لچک نہیں دکھائی اور اپنے آپ کو مکمل غیر جانبدا ررکھا۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ اسلامی ممالک کشمیر پر بھارت کی مذمت کریں لیکن پاکستان کی بات نہیں مانی گئی تو پاکستان نے ا س پر کسی برادر اسلامی ملک کو تنقید کا نشانہ نہیںبنایا۔ اور دوسری طرف اسلامی ممالک کو یہی مشورہ دیا کہ باہمی جھگڑے مشاورت سے حل کئے جائیں اورطاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔
وزیر اعظم عمران خان نے جس خارجہ پالیسی کو اپنایا ہے وہ پاکستان کی متفقہ قومی خارجہ پالیسی ہے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کسی دباﺅ میں آکر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ، انہوں نے کھلے لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ فلسطینیوں کو حقوق ملنے تک اسرائیلیوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔
عرب ملکوں کی خارجہ پالیسی پر بات کرنے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں کہ جب مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کیا گیا تھا تو اس سنگین مسئلے پر غور کرنے کے لیے مراکش میں او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا، پاکستان کے صدر یحیٰ خان وہاں شرکت کے لیے پہنچے تو ان کو معلو م ہوا کہ عربوں نے تو بھارتی وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ کو بھی مدعو کر رکھا ہے اس پر یحیٰ خان نے بائیکاٹ کی دھمکی دی اور عربوں کو مجبور ہو کر بھارتی وزیر خارجہ کو کانفرنس سے خارج کرنا پڑا۔وزیر اعظم عمران خان نے قومی امنگوں اور ملک کی متفقہ خارجہ پالیسی کا علمم بلند کیا ہے اور تمام چہ میگوئیوں کا سلسلہ ٹھپ کر دیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*