تازہ ترین

اداروں کی قدر کریں!!!!

محمد اکرم چوہدری
میں جب کبھی افواجِ پاکستان کی خدمات پر لکھتا ہوں تو بہت لوگوں کو اس پر اعتراض بھی ہوتا ہے۔ اعتراض اس لیے ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت میں فوج کا کیا کام ہے۔ حالانکہ میں افواجِ پاکستان کے سیاسی نہیں دفاعی کردار اور خدمات پر لکھتا ہوں اور ملکی دفاع کے لیے افواجِ پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دشمن نے آج بھی افواجِ پاکستان کو ہدف بنا رکھا ہے۔ ان دنوں ملک میں جس طرح کی فضا بنی ہوئی ہے کوئی شک نہیں کہ اس فضا میں بہت سے لوگ سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، کچھ ایسے ہیں کہ جنہیں ہر وقت اقتدار میں رہنے کی عادت ہو چکی ہے وہ اقتدار میں نہ ہوں تو ملک میں رہنا مشکل ہوتا ہے۔ کچھ احساس محرومی کا شکار لوگ بھی جانے انجانے میں ایسے سیاست دانوں کے بیانیے سے متاثر ہوتے ہیں۔ بہرحال سب کی اپنی اپنی سوچ ہے، آزادی اظہار کا زمانہ ہے سب کو اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے کی مکمل آزادی ہے سو جس کا جو دل چاہتا ہے وہ بولتا ہے۔ قصہ کچھ یوں
ہے بحیثیت ڈی جی آئی ایس کامیاب وقت گذارنے کے بعد اب لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے پشاور کور کی کمانڈ سنبھال لی ہے۔ یہاں بھی وہ یقینا ایک مشن پر ہوں گے۔ جب وہ ڈی جی آئی
ایس آئی تھے دشمنوں کے دانت کھٹے کرتے رہے۔ روس جنرل حمید گل مرحوم نہیں بھلا سکے گا اور امریکہ بھی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو یاد کرتا رہے گا۔ دونوں نے بہترین انداز میں کام کیا اور پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا۔
گذشتہ روز میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی خدمات پر تجزیہ کیا تو بہت سے لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا لیکن یقین کریں حوصلہ افزائی کرنے اور افواجِ پاکستان کے لیے دعائیں کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج سائرن میں ایک مرتبہ پھر قارئین کے لیے اسی موضوع پر لکھ رہا ہوں۔
ملک کے بہتر مستقبل کے لیے ریاست کے اداروں کا مضبوط ہونا نہایت اہم ہے۔ اداروں کی اہمیت سب سے اہم ہے۔ شخصیات اپنے اپنے دور میں آتی جاتی رہتی ہیں، لوگ آتے ہیں اپنے حصے کا کام کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں جو بہت باصلاحیت، عقلمند اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں وہ مختصر وقت میں بھی بڑی بڑی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں۔ تاریخ ایسے کرداروں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ اداروں کی مضبوطی یا اداروں کے تحفظ کی مہم میں اس لیے چلاتا ہوں کیونکہ اداروں کو ملک کے مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ کیا ہم نے پی آئی اے کا حال نہیں دیکھا آج کس حالت میں ہے۔ کسی زمانے میں ہمارا شمار بہترین ایئر لائنز میں ہوتا تھا لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہم پر پابندیاں ہیں۔ کیا پی آئی اے کی تباہی کا ملک و قوم کو نقصان نہیں ہوا، کیا پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ہمارا فخر نہیں تھی، کیا ہم اس قابل تھے جہاں آج کھڑے ہیں یقینا ایسا نہیں ہے جو لوگ آج افواجِ پاکستان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ہدف بنا رہے ہیں یہ پی آئی اے ہی تباہی کے بڑے ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح پاکستان ریلویز کو دیکھ لیں۔ نئی گاڑیاں چلانا تو دور کی بات جو پہلے سے چل رہی تھیں انہیں برقرار نہیں رکھ سکا۔ ریلوے کا کردار بہتر ہوتا، پاکستان ریلویز کام کر رہا ہوتا تو ملک میں ٹریفک کے بہت سارے مسائل حل ہو چکے ہوتے لیکن ہمارے اپنے لوگوں کی نالائقی کی وجہ سے پاکستان ریلویز کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ کیا ریلویز کو تباہ کرنے والوں سے سوال نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ایک کر کے سارے اداروں کو تباہ کرنے کے بعد اب ہمارے اپنے افواجِ پاکستان کے پیچھے ہیں۔ فوج کو متنازع بنانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ ان کے قصیدے لکھے جائیں تو بہت اچھا ہے اگر ملک و قوم پر جان نچھاور کرنے والوں کو یاد کیا جائے تو نجانے کیوں بے چین ہو جاتے ہیں۔
بہرحال اس میں کچھ شک نہیں کہ افواجِ پاکستان میں دفاع پاکستان کے حوالے سے کوئی دوسری رائے نہیں پائی جاتی۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اپنے حصے کا کام کر گئے ہیں ان کی جگہ آنے والے ان سے بہتر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے، مقصد سب کا ملک و قوم کا تحفظ ہے۔ آئی ایس آئی بھی ہمارا فخر ہے۔ ہم نے افواجِ پاکستان کو مزید مضبوط بنانا ہے اور ہم نے اپنے اداروں کو بھی دوبارہ ماضی والے مقام پر لے کر جانا ہے۔ جہاں سے بہتری کا سفر شروع ہو گا۔ حکمرانوں کے غلط اور سیاسی فیصلوں سے ادارے تباہ ہوئے ہیں اب عوام کو اپنے اداروں کی بحالی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ جہاں تک آئی ایس آئی کا تعلق ہے یہ ہمارا فخر ہے۔ یہ آزاد ملک دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ جن کے کاروبار اور وفاداریاں کہیں اور ہیں ان کے لیے اہمیت کچھ اور ہو گی۔ ہمارے بزرگوں نے قیمتیں جانوں کا نذرانہ دے کر ہمارے لیے یہ ملک حاصل کیا تھا۔ ہم اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں اور اس ملک کی حفاظت کیلئے جان قربان کرنیوالے بھی ہمارے ہیرو ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے جو کل لکھا تھا آج دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جیسے باصلاحیت افسران افواجِ پاکستان کا فخر ہیں۔ ملک و قوم کا دفاع کرنے والے یہ بہادر ملک دشمنوں کے لیے کسی ڈراﺅنے خواب سے کم نہیں۔ بحیثیت ڈی جی آئی ایس آئی ان کی تمام کامیابیاں پاکستان آرمی کی کامیابیاں ہیں۔ یقینا انہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے جو ہدف ملا انہوں نے اسے حاصل کرنے کے لیے بہترین انداز میں کام کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اب پشاور کور کی کمانڈ سنبھال لی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے کمان نئے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حوالے کی۔ وہ ڈی جی آئی ایس آئی تعینات تھے اور اب ان کی جگہ سابق کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو نیا ڈی جی تعینات کیا گیا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس عہدے پر آنے والا ہر شخص اپنی فرائض سے بخوبی واقف ہوتا ہے اور اس کا ہر قدم ملک و قوم کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور ملک دشمنوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے آئی ایس آئی میں بہترین انداز سے کام کیا۔ وہ مشکل دور میں اس عہدے پر رہے مشکل حالات کے باوجود انہوں نے دشمنوں کی چالوں کا ناکام بنایا۔ افغانستان کے حوالے سے ان کے کام کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ملک میں پائیدار امن اور خطے میں پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے انہوں نے بہترین انداز میں کام کیا۔ ان پر تنقید کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ہر کام ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے پیش نظر کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا، سیاسی جماعتیں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اپنی ہی افواج کو متنازع بنانے سے بھی گریز نہیں کرتیں حالانکہ پاکستان کو جن خطرات کا سامنا ہے وہ ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے آئی ایس آئی کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا اور اس دوران لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کیا۔ انہوں نے اندرونی و بیرونی طور پر کئی حساس اور اہم معاملات میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ افغانستان میں پیدا ہونے والے بحران میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ اور افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال سے پاکستان کو کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے بہترین حکمت عملی تیار کی۔ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کامیاب آپریشنز سے امن کی بحالی، کرونا کے دنوں میں آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملک و قوم کے بہتر مفاد میں خدمات انجام دیں جبکہ کئی اہم اور حساس مذہبی معاملات میں بھی ملک کو انتشار سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دور میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی آئی ایس آئی کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
اللہ اس ملک کو تاقیامت قائم و دائم رکھے اس ملک کی حفاظت کرنے والوں کی طاقت و قوت میں اضافہ کرے۔ آمین
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*