تازہ ترین

احتساب کا عمل سب کیلئے بر ابر

گذشتہ روز نیب بلوچستان کے دفتر میں ایک کھلی کچہر ی کا انعقاد کیا گیا اس مو قع پر ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان فر ما ن اللہ نے کہا کہ قومی احتساب بیور و بلوچستان سمیت ملک بھر سے کر پشن کے مکمل خاتمے کیلئے کوشا ں ہے اسی طر ح احتساب کا عمل سب کے لیے بر ابر ہے قا نو ن سے کوئی با لا تر نہیں ©احتسا ب سب کے لیے کی پا لیسی کا تسلسل جا ری رہے گا تھر ی الائنس کمپنی فرا ڈ کے متا ثر ین کی لو ٹی گئی رقم کی واپسی کے لیے سنجید ہ کو ششیں جا ری ہیں عوام النا س کو چا ہئے کہ وہ دھو کہ دہی میں ملو ث عنا صر کی نشا ند ہی کرے۔
نیب بلوچستان کے دفتر میں کھلی کچہر ی کا انعقاد قا بل تعر یف عمل ہے اس میں عوام اپنے مسائل اور مشکلا ت سے نیب حکام کو آگا ہ کر تی ہے جس پر نیب عوام کے مسا ئل اور مشکلا ت کے حل کیلئے اقدامات کر تا ہے ڈی جی نیب بلوچستان فر ما ن اللہ کا ملک بھر سے کر پشن کے مکمل خا تمے کیلئے کو شا ں ہونے کا بیا ن قا بل تحسین ہے انہو ں نے یہ بیان دے کر وا ضح کر دیا ہے کہ نیب ایک غیر جا نبد ار ادارہ ہے وہ احتساب کا عمل سب کے لیے بر ابر ہے کے فلسفہ پر کا م کر رہا ہے اس نے وا ضح کر دیا ہے کہ قا نو ن سے کوئی با لا تر نہیں ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ڈی جی نیب بلوچستا ن فر ما ن اللہ کی احتساب سب کے لیے کی پا لیسی کا تسلسل جا ری رہنا چا ہئے اس سلسلے میں ان کو کسی بھی قسم کا کوئی کمپر و ما ئز نہیں کر نا چا ہئے کر پشن میں ملو ث افراد کو ہر صورت سز اد دینی چا ہئے ان سے لو ٹی گئی رقم واپس لے کر قومی خزانے میںجمع کرانی چا ہئے کیو نکہ اس وقت حکومت معاشی بحران کا شکا رہے بد عنوانی میں ملو ث افراد کو جیلو ں میں ڈالنے سے کچھ حا صل نہیں ہو گا ان سے لو ٹی گئی رقم واپس لینے کے لیے اقدامات ہونے چا ہئیں ایسے اقدامات کرنے سے پاکستانی معشیت میں بہتر ی آئے گی اور اس وقت ملک میں جو مہنگائی کاایک طو فا ن آیا ہوا تھا کا خاتمہ ہو سکے گا ۔
جہا ں تک تھری الا ئنس کے متا ثر ین کی لو ٹی گئی رقم کی واپسی کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نیب کو سنجید گی سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے کیو نکہ مذکورہ کمپنی نے عوام سے اربو ں روپے لو ٹ کر ان کو در بدر کر دیا ہے اس میں متا ثر ین میں اکثر یت نے اپنی سا ری جمع پو نجی اس کمپنی میں لگا دی تھی اب ان کی یہ سا ری جمع پونجی ڈوب گئی ہے جس کے باعث ان کے چو لہے ٹھنڈ ے ہو گئے ہیں۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اہم معا ملے پر خصوصی تو جہ دی جائے اس کے سا تھ سا تھ متعلقہ ادارو ں کو ان جیسے ادارو ں پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام رائج کر نا چا ہئے تا کہ اس کے بعد کوئی اور کمپنی آکر عوام کو نہ لو ٹ سکے اس سلسلے میں متعلقہ ادارو ں کو اپنی ذمہ دا ریو ں کا احساس کر نا چا ہئے جوان کے فرا ئض میںشا مل ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*