ابھی کام باقی ہے

فیصل ادریس بٹ
آئین پاکستان کا آرٹیکل 17 ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے، تاہم سرکاری ملازمت کرنیوالے افراد کو دوران ملازمت اس حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ آرٹیکل 17 میں سیاسی جماعتوں پر کچھ پابندیاں بھی لگاتا ہے۔ آئین کے متعین کردہ دائرہ کار سے باہر نکلنے والی جماعتوں پر پابندی لگانے کا حق بھی آرٹیکل 17 میں حکومت وقت کو دیتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ریاست کے فسادات اور مفادعامہ کا تحفظ کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ ریاست کی سالمیت اور مفاد عامہ کے خلاف کام کرنے والی جماعت کو کالعدم قرار دیکر حکومت 15 روز میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریفرنس دائر کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈاتی جائے تو آرٹیکل 17 کے آدھے حصے کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ ہر وہ شخص گروہ، جتھے، لسانی و مذہبی تنظیم جو تھوڑی سی بھی عوامی پذیرائی یا حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے آرٹیکل 17 کے تحت فوری طورپر سیاسی جماعت بنانے کا حق استعمال کیا۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ بعض طاقتور اور دولت مند افراد نے اپنی طاقت اور دولت کے بل بوتے پر بھی عوام کے خاص حلقوں کو اپنی حمایت پر مجبور کیا۔ پھر سیاسی جماعت بنا کر اپنی عوامی حمایت کو ملکی سالمیت، وحدت اور تنظیم کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ لسانی اور مذہبی اور علاقائی بنیاد پر حاصل ہونیوالی عوامی حمایت مکمل طورپر جذباتی ہوتی ہے۔ اپنے مذہب، مسلک، علاقے اور لسانیت کی بنیاد پر لوگ جنون کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ انہیں دلیل سے قائل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس بنیاد پر جماعتوں کا کردار ہمیشہ دہرا ہوتا ہے۔ ایسی جماعتوں کی قیادت سیاسی رہنما سے زیادہ روحانی یا مذہبی پیشوا کی حیثیت سے کام کرتی ہے۔ انکے پاس عوام کو دینے کیلئے جذباتی نعروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ عوام کے جذبات کو ہوا دیکر سیاسی مفادات اٹھاتے ہیں۔ ریاست پاکستان، حکومت وقت اور اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایسے عناصر پر نظر رکھیں۔ ان کو ریاست کے سامنے کھڑا ہونے کے قابل بننے سے پہلے ان کا قلع قمع کرنے کا فرض ادا کریں۔ مگر بدقسمتی سے ہماری حکومتیں اپنے سیاسی مفادات کو بچانے کیلئے ایسے عناصر کو پنپنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے بعض ادارے ایسے عناصر کو ”بوقت ضرورت“ استعمال کرنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ اس میں ایک مثال تحریک لبیک کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
تحریک لبیک نے ایک مذہبی تنظیم سے سیاسی جماعت بننے تک ایک سفر طے کیا۔ ان کا گزشتہ سال کا دھرنا ہمارے سامنے ہے۔ پھر وقتاً فوقتاً جس انداز سے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے، اس پر ہماری حکومتوں کو بہت پہلے سوچنا چاہئے تھا مگر مصلحتیں آڑے آتی رہیں۔ ناموس ریاست پر ہر مسلمان جان قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔ مسلمان اس معاملے پر کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔ نہ ہی کوئی مسلمان مصلحتاً خاموش رہنے کو تیار ہے پھر جس طرح فرانس کی حکومت نے اس معاملے کو اچھالا، وہ ہمیں بطور مسلمان بھرپور ردعمل کے اظہار پر مجبور کرنے کیلئے کافی تھا مگر ہم اپنے ہم وطنوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانا شروع کردیں اسکی تو ہمارے مذہب میں کہیں کوئی گنجائش یا اجازت نہیں اگر کوئی جماعت پوری ریاستی مشینری کو مفلوج کرنے اور سٹیٹ کی رٹ کو چیلنج کرنے کیلئے نکل کھڑی ہو تو اس کو روکا جانا بھی انتہائی ضروری ہے۔
ٹی ایل پی کے ساتھیوں نے پورے ملک میں جگہ جگہ سڑکیں بلاک کردیں، تشدد کیا، ایمبولینسز روک لی گئیں یہاں تک کہ تشدد سے پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود حکومت مذکرات سے مسئلے کو حل کرنے میں کوشاں رہی اور مظاہرین کو اپنے مطالبات میں لچک پیدا کرنے پر مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ انہیں یہ بھی بتایا کہ آپ کے مطالبات سے ہماری خارجہ پالیسی کو کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو بطور ریاست اور پاکستان کے عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر طاقت کے نشے میں مظاہرین یہ بھول گئے کہ سٹیٹ کی طاقت کسی بھی جتھے، گروہ یا تنظیم کی طاقت سے زیادہ ہوتی ہے بالآخر ریاست کے اداروں کو آرٹیکل 17 کے دوسرے حصے پر عملدرآمد کرنا پڑا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت اپوزیشن اور دیگر حقیقی سیاسی جماعتوں کو اداروں کے ساتھ مل بیٹھ کر ملکی مفاد میں کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے جس سے آئندہ بہتر حکمت عملی بنائی جائے۔ ہم سیاست کو ایسے تشدد سے پاک کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ ملکی سالمیت اور مفاد عامہ میں ایک تاریخی اقدام ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*