تازہ ترین

آج کا دن اور تاریخ کا آئینہ

ڈاکٹر احمد سلیم
یہ پانچ جولائی تھا۔جہاں پاکستان کی تاریخ میں کئی دن ایسے ہیں جنہیں ”یوم سیاہ“ کہا جا سکتا ہے، کچھ لوگ اس روز کو بھی ”یوم سیاہ“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس بات سے ہم متفق ہوں یا نہیں لیکن امر سے انکار ممکن نہیں کہ یہ دن پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک ضرور ہے۔ 1977 میں پانچ جولائی کے دن اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے ”آپریشن فیئر پلے“ نام کے ملٹری آپریشن کے ذریعے اس وقت کے وزیر اعظم ذو ا لفقار علی بھٹو کی حکومت کو ختم اور پاکستان کے آئین کو معطل کر کے ملک میں مارشل نافذ کر تے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے قبل 7 مارچ 1977 کو ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تھا جن میں دو بڑی سیاسی قوتیں آمنے سامنے تھیں۔ بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے مقابلے میں اس وقت کی نو سیاسی پارٹیوں کا اتحاد جو ”پاکستان نیشنل الائینس“ (PNA) کے نام سے اکٹھی ہو گئیں تھیں۔ PNA میں اکثریت دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور مذہب کے نعرے پر سیاست کرنے والی سیاسی پارٹیو ں کی تھی۔ ان کے مقابلے میں بھٹو کی پیپلز پارٹی با ئیں بازو کی جماعت سمجھی جاتی تھی جو کہ معاشرتی انصاف کے ساتھ ساتھ زراعت اور صنعتی ترقی کے نعرے کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔ جب نتائج کا اعلان ہوا تو قومی اسمبلی کی 200 میں سے 155 نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں اور PNA کو صرف36 نشستیں ملیں۔باوجود اس کے کہ بھٹو اس وقت عوام میں بہت مقبول تھے، اتنی زیادہ تعداد میں اکثریت پھر بھی ناقابل یقین تھی۔ نتیجہ یہ کہ پیپلز پارٹی پر الیکشن میں وسیع دھاندلی کے الزامات لگے اور اپوزیشن نے الیکشن کے نتائج قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اگلے ہی ہفتے ملک میں احتجاج کا آغاز ہو گیا جس میں دو ماہ کے اندر 200 سے زائد سیاسی کارکن ہلاک ہو گئے۔ کئی شہروں میں کرفیو لگانا پڑا۔ مارچ اور اپریل میں ہونے والی شدید محاذ آرائی کے بعد مئی میں مظاہروں میں کمی ہوئی اور حالات کچھ بہترہو گئے۔ ملک گیر احتجاج اور سیاسی دباؤ کے زیر اثر بھٹو نے جون کے مہینے میں آخر کار اپوزیشن کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے 15 اکتوبر کو نئے الیکشن کے انعقاد کا اعلان کر دیاجس کے نتیجے میں اس وقت کی اپوزیشن نے بھٹو کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ ترک کر دیا۔ جولائی کے پہلے ہفتے کے آغاز میں اپوزیشن اور بھٹو کے مابین تمام معاملات طے پا گئے۔ 4 جولائی کو پیپلز پارٹی اور اپوزیشن نے مل کر پریس کانفرنس کی جس میں اعلان کیا گیا کہ پانچ جولائی کو حکومت اور اپوزیشن دونوں معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ لیکن اس سے قبل کہ اس اعلان پر عمل کیا جا سکتا، پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیاء نے سیاسی بساط پلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ”آپریشن فیئر پلے“ کے بعد جنرل ضیا نے اپنی پہلی تقریر میں کہاکہ انکا یقین کہ ملک کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے، اور انکا مقصد صرف اور صرف آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کا انعقاد ہے۔ اسکے بعد انھوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ 90 دن کے اندر آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کروا کر اقتدار قوم کے منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیں گے۔ لیکن یہ 90 دن طول پکڑتے گئے اور جنرل ضیا کو اپنی وفات کے دن یعنی 18 اگست 1988 تک بھی اپنے اس وعدے کو نبھانے کا موقع نہ مل سکا۔ بہر کیف مارشل لا کے نفاذ کے بعد اپوزیشن کی اکثر جماعتیں، جن میں جماعت اسلامی اور پاکستان قومی اتحاد بھی شامل تھے، جنرل ضیاء کی حکومت میں شامل ہو گئیں۔ بعد ازاں PDA کے سربراہ نواب زادہ نصر اللہ خان نے حکومت سے علیحدگی اختیار کے کے MRD میں شمولیت اختیار کر لی۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر یہ مارشل لا نہ لگتا تو پاکستان کی تاریخ موجودہ تاریخ سے بہت مختلف ہوتی۔ افغان جنگ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فروغ کے علاوہ اس مارشل کے دوران 1985 کے ”غیر جماعتی انتخابات“ کروائے گئے۔ جہاں اس سے قبل سیاسی پارٹیاں کسی نظریے کی بنیاد پر میدان میں اترتی تھیں، اس غیر جماعتی انتخابات نے ذات برادری اور لسانی بنیادوں پر ”الیکٹ ایبل“ سیاست دانوں کی ایسی کھیپ تیار کی جو ابھی تک ہمارے سیاسی افق پر جگمگا رہی ہے۔ یہاں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت بھی ہے کہ کیا اس وقت پاکستان کے سیاسی حالات واقعی اتنے خراب تھے کہ ملک کی بقا کے لیے فوجی مداخلت نا گزیر ہو گئی تھی یا پھر یہ مارشل لا اس وقت کی عالمی سیاست کا نتیجہ تھا؟ جس کے تانے بانے امریکی CIA سے جا کر ملتے نظر آتے ہیں۔ جب جنرل ضیا نے اقتدار پر قبضہ کیا تو بھٹو کی مقامی اور عالمی مقبولیت کے باوجود تقریباََ تمام دنیا (بشمول بھارت اور چین) خاموش رہی اور کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا۔ صرف سویت یونین نے اس سارے عمل کی کھل کر مخالفت کی اور صورتحال کو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے منافی قرار دیا۔ آنے والے دو برس میں دو بڑے عالمی واقعات ہوئے جنہوں نے عالمی سیاست مکمل طور پر تبدیل کر دی۔ ایک تو انقلاب ایران اور دوسرا سویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1979 میں سویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بعد امریکہ نے پاکستان کو ”موسٹ فیورڈ نیشن“ کا درجہ دے دیا اور پاکستان کا مارشل لا جمہوریت کے چیمپئین امریکہ اور یورپ کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ دونوں واقعات اس مارشل لا کے لیے ”لائف لائن“ ثابت ہوئے یا پھر یہ مارشل لا در اصل ان دونوں واقعات کی تیاری میں نافذ کروایا گیا تھا۔ کیونکہ کچھ بھی ہو امریکی اور یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بہر حال یہ اندازہ ہو چکا ہو گا کہ یہ دونوں واقعات، خصوصاََ افغانستان میں روسی مداخلت ہونے والی ہے کیونکہ اس قسم کے اقدامات کئی برس کی منصوبہ بندی کے بعد ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ بہر کیف جو بھی ہو، اس کے بعد ”افغان جہاد“ کا آغاز ہوا جس کے لیے سب سے زیادہ پیسہ سعودی عرب اور امریکہ نے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے اسلحہ، فوجی تربیت اور جانے کیا کچھ اس جنگ میں جھونک دیا۔ سویت یونین کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی گلی گلی ”امریکی اڈے“ کا کام کر رہی تھی۔ لیکن چونکہ اس سب کو ”اسلامی جہاد“ کا نام دیا گیا تھااس لیے ہم سب خوش تھے۔
”افغان مجاہدین“ پر اسلحے اور ڈالروں کی بارش ہو رہی تھی جس کے بادل پاکستان سے گزر کر جاتے تھے۔ اب معلوم نہیں کہ یہ افغان جہاد تھا یا سویت یونین کے خلاف امریکہ کی جنگ جس میں پاکستان جہاد کے نام پر ”کرائے کے فوجی“ کا کردار ادا کر رہا تھا، لیکن اس کے ثمرات پاکستان آنے والی کئی دہائیوں تک بھگتتا رہا بلکہ اس کے ”آفٹر شاکس“ کبھی کبھی آج بھی محسوس ہو جاتے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ سب اثرات جلد از جلد مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ ہماری قیادت ماضی کے”سیاہ دنوں“ سے سبق سیکھ چکی ہے اور اب بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش یا خواہش نہیں کرے گی وگرنہ پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*