تازہ ترین

آبپاشی ،تعلیم اور صحت کی ترقی کےلئے اقدامات

صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے گزشتہ رو ز صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم کھوسہ ،صوبائی مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی،سینیٹر منظور احمد کاکڑ اور پارلیمانی سیکرٹری بی ڈی اے سکندر عمرانی سے ہونےوالی ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آبپاشی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی کےلئے اقدامات کررہے ہیں عوام کی ترقی و خوشحالی کےلئے منصوبوں کو ترجیحات میں شامل کیا جاچکا ہے اور ان کی تکمیل سے عوام کے معیار زندگی پر مثبت نتائج بر آمد ہونگے انہوں نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ آبپاشی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت موثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔
صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی کا مذکورہ بیان حکومت کا پالیسی بیان ہے جس میںانہوں نے آبپاشی تعلیم اور صحت شعبوں کےلئے اقدامات کرنے کی بات کی ہے جوکہ یقینا ایک اچھی بات ہے کیونکہ مذکورہ محکمے بہت ہی اہم ہیں ان کی ترقی سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا محکمہ آبپاشی کی جانب خصوصی توجہ دے کر اس کی ترقی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جہاں تک محکمہ تعلیم کی ترقی کی بات ہے تو اس سلسلے میں یہاں محکمے کی جانب سے کچھ دنوں سے کی جانے والی کاروائیاں جن میں اساتذہ سمیت دیگر عملے کو برطرف کیا گیا یقینا خوش آئند اقدام ہے کیونکہ مذکورہ افراد اپنی ڈیوٹیاں ایمانداری سے ادا نہیں کرتے تھے اس طرح وہ جہاں اپنی آخرت خراب کررہے تھے وہاں وہ بچوں کے مستقبل سے بھی گھناﺅ نا کھیل کھیل رہے تھے مشیر تعلیم حاجی محمد خان لہڑی اور سیکرٹری ثانوی تعلیم میر طیب لہڑی نے مذکورہ اقدامات کرکے محکمے کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا ہے انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ محکمے میں ایسے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں جو اپنے منصب سے انصاف نہیں کرتے ان کے اس اقدام سے محکمے سے بے کار لوگوں کا خاتمہ ہوجائے گا اور اس طرح اس محکمہ میں صرف کام کرنے والے رہ جائیں گے ۔
صوبائی حکومت محکمہ صحت کی ترقی کےلئے بھی اقدامات کررہی ہے جن میں سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر کو فعال کرنے اور بی ایم سی بھی ایک ٹراما سنٹر قائم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے کامیاب مذاکرات کرکے ان کی اوپی ڈیز میں جاری ہڑتال ختم کرائی ہے جو ایک عوامی مفاد کام ہے لیکن اس اہم مسئلے کو مستقبل بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ڈاکٹر ز اس کو بار بار اٹھا کر اوپی ڈیز کا بائیکاٹ کردیتے ہیں جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔جو ان کے ساتھ بڑی زیادتی کے مترادف اقدام ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہےے جوکہ بہت ہی پرانا مسئلہ ہے لیکن اس پر توجہ نہ دینا قابل افسوس ہے کیونکہ اس سے غریب عوام شدید متاثر ہوتے ہیں وہ ادویات بازار سے خرید نے سے قاصر ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں صفائی کی صورتحال اور ڈاکٹروں کی مریضوں سے خوش اخلاقی سے پیش نہ آنے کا بھی سدباب کرنا چاہےے ۔
امید ہے کہ حکومت یہ اہم اقدامات کرنے میں کامیاب ہوکر عوام کے سامنے سرخرو ہوگی کیونکہ وہ عوام کے ووٹوں سے ہی برسراقتدار آئی ہے اوراپنی احسن کارکردگی پر ہی عوام کی عدالت میں وہ دوبارہ کامیاب ہوسکتی ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*