تازہ ترین

آئین کے آرٹیکل 92کے تحت کابینہ کی تفصیلات پوچھ رہے ہیں ،صادق سنجرانی

اسلام آباد (آئی این پی) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کے مطالبے پر حکومت کو وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، آئین کے آرٹیکل 92کے تحت کابینہ کی تفصیلات پوچھ رہے ہیں تا کہ علم ہو کہ حکومت آئین و قانون کے مطابق چلائی جا رہی ہے کہ نہیں، چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دیتے ہوئے بدھ کو وفاقی وزیر پارلیمانی امور کو سینیٹ میں طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق منگل کو سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن شیری رحمان نے نکتہ اعتراض پر حکومتی کابینہ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ کتنے حکومت کے وزراءہیں، وزیر مملکت کی تعداد اور مشیروں کی تعداد بھی تفصیلات سے بتائی جائیں، شیری رحمان نے کہا کہ گزشتہ روز بجلی کے بارے میں توجہ مبذول نوٹس دے رکھا تھا لیکن کابینہ اجلاس کی وجہ سے ایوان میں نہ تو وزیر توانائی آئے ہیں اور نہ ہی وزیر مملکت اس لئے اس معاملے کو بدھ تک ڈراپ کر رہے ہیں کیونکہ کل بھی ایوان میں کوئی وفاقی وزیر موجود نہیں تھا، آئین کے آرٹیکل 92کے تحت تفصیلات طلب کرنا ہمارا حق ہے،ہمیں بتایا جائے کہ حکومت میں کتنے وزیر، وزیر مملکت اور کتنے مشیر کام کر رہے ہیں، اگر ممبران کی تعداد 49ہے تو یہ قانون کے مطابق ہے اور اگر تعداد 60سے بڑھ چکی ہے ، جو میری اطلاعات کے مطابق درست ہے تو یہ غیر قانونی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق حکومت ایک عدد مزید وزیر کےلئے حلف لینے والی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اعظم سواتی نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گیس ٹیرف میں اضافہ کررہی ہے، اگر یہ اطلاع درست ہے تو عوام پر پٹرول کے بعد گیس بم چلانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اس بارے میں وزیر توانائی بدھ کو ایوان میں آ کر تفصیلات سے آگاہ کریں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر و سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی عدالت میں عدم پیشی پر سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی رکنیت معطل کرنے کے بارے میں میڈیا پر چلنے والی خبروں کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تفصیلی فیصلے کے بعد معلومات دستیاب ہوں گی لیکن آئین کے تحت کوئی ادارہ کسی ممبر پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ نہیں کر سکتا، ماسوائے الیکشن کمیشن کے ،وہ بھی اگر کوئی ممبر پارلیمنٹ اپنے اثاثے ظاہر نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس چیز کا نوٹس سینیٹ کو لینا چاہیے، چیئرمین سینیٹ سے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رابطہ کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ سپریم کورٹ معطل نہیں کر سکتی، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔ قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اسحاق ڈار بیماری کی وجہ سے ملک سے باہر ہیں، اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت منسوخ کر دی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رولنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور کو بدھ کو سینیٹ میں طلب کرلیا، جب اسحاق ڈار کے معاملے کو سپریم کورٹ کے فیصلے آنے تک منسوخ کر دیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*