آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے،فواد چوہدری

راولپنڈی(این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کے خلاف سرکاری افسران کو دھمکیاں دینے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرکے کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رانا ثناءاللہ نے چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر لاہور سمیت افسران کے خلاف وہی زبان استعمال جو الطاف حسین اور مذہبی جماعت نے کی تھی ،آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے، رانا ثنا اللہ کو الطاف حسین بننے کا خیال دماغ سے نکالنا ہوگا، شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا کو گرانے کا کسی کا پروگرام نہیں،یہ نہیں ہوگا سرکاری زمین پر قبضہ کریں گے توکچھ ہم نہ کریں،جمہوریت میں مختلف نقطہ نظر سمجھ آتا ہے ،حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا،تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کسی بین الاقوامی دباو¿ میں نہیں لیا گیا،امید ہے جہانگیر ترین اپنا مقدمہ عدالت میں لڑیں گے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ رانا ثنا اللہ نے چیف سیکریٹری پنجاب اور کمشنر لاہور سمیت دیگر افسران کے ساتھ وہی زبان استعمال کی جو اس سے قبل الطاف حسین اور پھر ٹی ایل پی نے استعمال کی تھی تاہم وہ انہوں نے ان دونوں کے حال سے سبق نہیں سیکھا۔انہوںنے کہاکہ رانا ثنا اللہ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کسی کو اجازت نہیں کہ وہ سرکاری افسران کو دھمکی دے چاہے وہ رانا ثنا اللہ ہو یا کوئی اور۔انہوں نے کہا کہ آئین کی حدود میں رہ کر سیاست کرنی چاہیے، رانا ثنا اللہ کو الطاف حسین بننے کا خیال دماغ سے نکالنا ہوگا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شریف خاندان کی رہائش گاہ جاتی امرا کو گرانے کا کسی کا پروگرام نہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کو رپورٹ آئی کہ کئی اراکین اسمبلی نے اپنے حلقوں میں زمینوں پر قبضے کر رکھے ہیں جس پر انہوں نے انکوائری کا حکم دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ انکوائری میں پتہ چلا کہ سرکاری زمین ایک بے نامی بوڑھی عورت کے نام پر منتقل کی گئی اور پھر نواز شریف کی والدہ کے نام وہ زمین منتقل ہوگئی۔انہوںنے کہاکہ یہ کھلی بددیانتی تھی اس پر کارروائی ہوئی اور ریونیو اتھارٹیز نے نوٹسز جاری کیے، مسلم لیگ (ن) کے پاس حق ہے کہ وہ ریونیو اتھارٹیز کے نوٹسز کو چیلنج کرے اس پر سارے قانونی راستے موجود ہیں تاہم دھمکیوں کا راستہ اپنایا جائےگا تو کارروائی ہوگی۔فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے وزیراعظم کے حکم پرصوبے میں کارروائی کی اور لوگوں سے زمینیں چھڑائی گئیں، کھوکھر برادران نے سرکاری زمین پر قبضہ کرکے پیلس بنایا تھا اس کے علاوہ دانیال عزیز سمیت بڑے ممبران قومی اسمبلی کے نام شامل ہیں، ہم نے ان سب سے زمینیں واگزار کرائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قانونی طریقہ کار کے تحت کام کریں گے، یہ نہیں ہوگا کہ سرکاری زمین پر قبضہ کریں گے تو کچھ نہ کریں۔گزشتہ روز ملک بھر میں سوشل میڈیا سروس بند کرنے کے وزارت داخلہ کے احکامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سوشل بند کرنے پر افسوس ہے تاہم وہ ضروری تھا۔کالعدم ٹی ایل پی کے دھرنوں کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ اس طرح کے معاملات میں کچھ درست لوگ بھی شامل ہوتے ہیں، درحقیقت کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک اسے جان و مال سے زیادہ پیغمبر اکرم کی حرمت پیاری نہ ہو۔انہوںنے کہاکہ یہ اصول سب پر لاگو ہوتے ہیں تاہم ان پر سیاست کرنا اور آخری نبی کی ذات پر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دینا بدقسمتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں ہم نے فرقہ وارانہ فسادات دیکھے اور جب ان پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ایسی جماعتوں کو بھارتی ایجنسی را کا تعاون حاصل تھا، اس میں دو رائے نہیں کہ ہمارے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی دشمن ملک کے ہاتھوں استعمال ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے فتنے جس سے ملک کمزور ہو اور ملک کی عالمی حیثیت متاثر ہو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سیکیورٹی اداروں نے اس فتنے کو ناکام بنایا وہ قابل ستائش ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ جمہوریت میں مختلف نقطہ نظر سمجھ آتا ہے تاہم حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پاکستان دنیا کا پانچویں بڑا اور ایٹمی طاقت والا ملک ہے، دنیا کی سپر پاور امریکا افغانستان میں فتح یاب نہ ہوسکی لیکن پاکستان نے ایسے عناصر کو شکست دی جن کے خلاف امریکا نبرد آزما تھا، پاکستان کی ریاست بالکل کمزور نہیں، اگر کسی کو کوئی شک ہے تو وہ دور کرلے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی ریاست ایک عظیم ریاست ہے اور اسے بہت آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہمارا اپنا فیصلہ تھا اور یہ کسی بین الاقوامی دباو¿ میں نہیں لیا گیا۔انہوںنے کہاکہ کسی حکومت، بیرونی یا طاقتور ملک نے اس طرح کے ایکشن کا مطالبہ نہیں کیا،یہ ہمارا داخلی فیصلہ تھا، امن و امان کے قیام کیلئے وزارت داخلہ، وزارت مذہبی امور، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس سمیت صوبائی حکومتوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،مشترکہ کاوشوں کی بدولت کامیابی ممکن ہوئی ۔انہوںنے کہاکہ اب ٹی ایل پی ختم ہوچکی ہے ،تحریک انصاف نے جب تحریک چلائی تو وہ پاناما، الیکشن کی شفافیت اور منی لانڈرنگ پر تھی، ہم جمہوری حقوق پر احتجاج کررہے تھے۔جہانگیر ترین سے متعلق انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کا معاملہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، پی ٹی آئی میں سب سے پہلے بابر اعوان پر الزام لگا جس پر انہوں نے استعفیٰ دیا اور ضمانت لے کر واپس آئے ،علیم خان نے بھی ایسا کیا، اب جہانگیر ترین نے الزام عدالت میں ثابت کرنا ہے، حکومت کو ان سے ذاتی مسئلہ نہیں اور نہ انہیں حکومت سے مسئلہ ہے، امید ہے جہانگیر ترین اپنا مقدمہ عدالت میں لڑیں گے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق پنجاب سے 2359، خیبر پختونخوا سے 370 اور سندھ سے 285 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ،پرتشدد مظاہروں کے دوران پنجاب میں 2 اہلکار شہید 2 اغوا اور 673 زخمی ہوئے، اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں 3 اور سندھ میں 12 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*