تازہ ترین

آئندہ ما ہ منی بجٹ لا نے کا اعلان

یہ امر حقیقت پر مبنی ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی اپنی تا ریخی حد کو چھو رہی ہے اشیا ئے خور دنی کی اشیا ءمہنگی ہونے کے باعث ایک غر یب آدمی کی دستر س سے باہر ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے غر یبوں کے گھرو ں میں عنقر یب فا قے پڑ نے کا خد شہ ہے جوکہ بلا شبہ غریب عو ام کے لیے بہت بڑی پر یشانی کی با ت ہے ایک جا نب ملک میں مہنگائی تیز رفتا ری سے بڑ ھ رہی ہے جبکہ دوسر ی جا نب گذشتہ رو زمشیر خزانہ شو کت تر ین نے مہنگائی میں مز ید اضا فے کا عند یہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئند ہ ما ہ منی بجٹ لانے اور 350 ار ب روپے کے ٹیکس استشنیٰ ختم کیا جا ئے گا اب لو گو ں کے اثا ثو ں جا ئز ہ لیا ان پرٹیکس لگائیں گے روپے کی قد ر گر نے سے مہنگائی بڑ ھی ایکس چینج ریٹ میں استحکام لانا ضروری ہے 350 ار ب روپے وہ ٹیکسز ہیں جن پر لوگوں نے کسی نہ کسی طر یقے سےاستشنیٰ لیا ہو ا تھا آئی ایم ایف نے 700 ار ب روپے ٹیکس لگا نے کی بات کی تھی لیکن میں نے 350 ار ب روپے پر آیا۔
مشیر خزانہ شو کت عز یز کا مذکو رہ بیان ملک میںبڑ ھتی ہوئی مہنگائی میں مز ید اضا فے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ انہوں نے منی بجٹ لانے کو جو اعلا ن کیا تھا اور اس میں اگر مز ید ٹیکسز لگا ئے گئے تو اس سے مہنگائی میں اضا فہ ہو سکتاہے انہوں نے اپنے بیان میں جو 350 ار ب روپے کے ٹیکس استشنیٰ ختم کرنے کی با ت کی گئی ہے اس کا اثر غر یب عو ام پر ہی پڑ ے گا اگر حکومت اس سلسلے میں ایسے لوگو ں پر ٹیکس لا گو کر تی ہے جو سر مایہ دا ر ہیں اور ٹیکس ادا نہیں کر تے تو ان سے ٹیکس کی وصولی اچھا اقد ام ہے کیونکہ ان لوگو ں ہی کی وجہ سے اس مدمیں بد عنو انی ہو تی ہے اور قومی خزانے کونقصان پہنچتا ہے لیکن ہما رے ہاں بد قسمتی یہ ہے کہ حکومت اگر کسی بڑ ے تاجر پر حکومت ٹیکس لگائے گی تو وہ یہ عو ام سے مہنگائی کی صو ر ت میں وصو ل کر ے گا حکومت کو چا ہیئے کہ اگر وہ یہ کام کرنے جا رہی ہے تو اس سلسلے میں اس امر کو نظر اند از نہیں کرنا چا ہیئے جس میں عو ام پر مہنگائی کا مزید اثر نہ پڑ ے کیونکہ جیسا کہ اوپر درج کیا جا چکا ہے کہ مہنگائی کے اپنی تا ریخی حد کوچھو ٹے سے غر یب لو گ بہت ہی زیا دہ متا ثر ہو رہے ہیں ۔
جہاں تک آئی ایم ایف کی قر ضہ دینے کے لیے سخت شر ائط کے لا گو کرنے اور 350 ار ب روپے کے ٹیکس پر استشنیٰ ختم کر نے کی با ت یہ ہے تو اس سلسلے میں یہاں اس با ت کا ذکر کرنا از حد ضروری ہے کہ حکومت کو ملک میں بد عنوانی روکنے اور اس کے پیسو ں کو بیر ون ملک لے جا نے والوں اور یہاں جا ئید ا دیںبنانے والوں کاسخت احتسا ب کرنا چا ہیئے اگر حکومت اس سلسلے میں احسن اقد اما ت کر ے تو پھر اسے حکومتی معا ملا ت چلا نے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لینا پڑ ے گا اگر وہ اس سلسلے میں عملی اقد اما ت کر نے کی بجا ئے صر ف اخبا ری بیانا ت دیتی رہے گی تو اس سے ملک کی معیشت مزید خر اب ہو گی اور جس کے نتیجے میں بر اہ راست غریب لو گ ہی متا ثر ہوں گے جوکہ کسی بھی طرح صحیح اقد ام نہیں ہے اس لیے حکومت کو مہنگائی کم کرنے اور عو ام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقد اما ت کر نے چا ہئیں جو آئی ایم ایف سے جا ن چھڑ ا نے سے ہی ممکن ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*