روزنامہ میزان کوئٹہ کی تاریخ

روزنامہ میزان کوئٹہ کے بانی مولانا عبدالکریم جنوری 1906ءمیں روجھان مزاری ضلع راجن پور میں پیدا ہوئے ۔آپ کا تعلق انتہائی عالم فاضل خاندان سے ہے۔آپ کے والد بزرگوار حضرت مولانا حافظ شیخ احمد اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے۔مولانا عبدالکریم ؒ نے سات سال کی عمر میں قرآن حکیم ختم کیااور عربی ،فارسی منطق فلسفہ حدیث اور فقہ کی تعلیم اپنے والد وامد سے حاصل کی۔چیف آف ساراوان نواب سر اسد اللہ خان رئیسانی روجھان تشریف لائے اور وقت کے جید عالم دین حضرت مولانا حافظ شیخ احمد سے اپنے فرزند نواب غوث بخش رئیسانی کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے مولاناصاحب سے درخواست کی چنانچہ حضرت مولانا حافظ شیخ احمد نے اپنے صاحبزادے مولانا عبدالکریم ؒ کو نواب غوث بخش رئیسانی چیف آف ساراوان کی دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپی۔چنانچہ مولانا عبدالکریم ؒ چیف آف ساراوان نواب غوث بخش رئیسانی کے اتالیق کی حیثیت سے 1921ءمیں بلوچستان آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔بعد میں مگسی خاندان کے اتالیق ہوئے بلوچستان میں تحریک آزادی کے سب سے پہلے علمبردار نواب یوسف عزیز مگسی شہید ان ہی کے شاگرد تھے(اس وقت بلوچستا ن میں ہندو کانگریس اور مسلم لیگ کا وجود نہ تھا)ان دونوں نے مل کر انگریز کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے جامعہ یوسفیہ عزیزیہ کی بنیاد رکھی جس کے مولانا عبدالکریم ؒ سربراہ تھے اور اس کا نصاب مرتب کرنے کیلئے ان استاد شاگرد نے قاہرہ تک کا سفر کیا جبکہ مولانا عبدالکریم ؒنے آکسفورڈ اور کیمبرج کیلئے نواب یوسف عزیز مگسی شہید کو آگے بھجوا کر خود وہ واپس ہوئے اور اپنے شاگرد نواب یوسف عزیز مگسی شہید کو کہا کہ جب وہ واپس آئیں تو ان کو اطلاع کریں۔جبکہ دوران سفر ان استاد شاگرد کی قائداعظم محمد علی جناح،علامہ اقبال سمیت اس وقت کے تمام لیڈروں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔جب نواب یوسف عزیز مگسی شہید وطن واپس پہنچے تو اپنے استاد مولانا عبدالکریمؒ کو تار کے ذریعے اطلاع دی جبکہ مولانا عبدالکریم ؒبذریعہ ٹرین خان پور سے کوئٹہ روانہ ہوئے اور جب ٹرین سبی ریلوے سٹیشن پر پہنچی وہ 31مئی 1935ءکی صبح تھی اور ایک انتہائی افسوسناک خبر ملی کہ بوجہ زلزلہ کوئٹہ مچھ تک تباہ ہو گیاہے جس پر مولانا عبدالکریمؒ جن کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بیٹے جمیل الرحمن بھی تھے کو واپس اسی ٹرین کے ذریعے روجھان بھجوایا اور خود کوئٹہ تشریف لائے اور کہا میرے شاگرد نواب یوسف عزیز مگسی شہید میرے منتظر ہیں نواب یوسف عزیز مگسی شہید کے بچ جانیوالے خادموں نے انکی لاش کو بڑے عزت و احترام کیساتھ ان کے بنگلے میں رکھا ہوا تھا یہ بنگلہ جی پی او کے سامنے تھا جو آج کل خانہ فرہنگ ایران کا دفتر ہے۔کیونکہ بہت زیادہ اموات ہوئیں تھیں تو انگریز سرکار بڑے بڑے گڑھے کھود کر لاشون کو دفن کر رہی تھی یا جلایا جا رہا تھا بہر حال بچ جانے والے خادموں نے نواب یوسف عزیزمگسی شہید کی لاش کو بہت سنبھال کر رکھا ہوا تھا کیونکہ حضرت مولانا عبدالکریم ؒ کی آمد کی اطلاع تھی کہ وہ آرہے ہیں چنانچہ حضرت مولانا عبدالکریمؒ نے اپنے شاگرد نواب یوسف عزیز مگسی کی نماز جنازہ پڑھائی اور کاسی قبرستان میں ان کی تد فین کی گئی جبکہ مولانا عبدالکریمؒ1932ءسے جولائی 1939ءتک روجھا ن واپس آگئے لیکن جولائی 1939ءمیں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے یکے بعد دیگرے تین تار وصول ہونے پر وہ کوئٹہ پہنچے اور قاضی عیسیٰ کے ساتھ مل کر بلوچستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی یکم ستمبر1939ءحضرت قائداعظم کے حکم پر ہفتہ وار الاسلام جاری کیا اور پھر قیام پاکستان تک صوبے بھر میں زبردست جدوجہد کی ۔یکم ستمبر1947ءکو اخبار کا نام بدل کر میزان رکھا اور آزاد پالیسی اختیار کی ۔الاسلام بلوچستان مسلم لیگ کا ترجمان تھا۔استحکام پاکستان کے لئے بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں خان لیاقت علی خان مرحوم کی وفات کے بعد مولانا عبدالکریمؒسیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔اور میزان کو 1961ءمیں روزنامہ بنانے کے بعد صحافت سے عملا ریٹائر ہو گئے مرحوم کا انتقال 19فروری 1969ءکو مٹھن کوٹ ضلع راجن پور میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا جہاں وہ اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کے آستان پر حاضری کیلئے گئے تھے مولانا مرحوم اسی آستان عالیہ کے احاطے میں مدفون ہیں۔مرحوم کے صاحبزادے جمیل الرحمن 1953ءسے میزان کے ایڈیٹر ہیں جبکہ جمیل الرحمن بلوچستان ایڈیٹر کونسل پریس کلب کے بانی تھے اور اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن رہے اور بلوچستان کی اخباری صنعت کیلئے بھر پور کردار ادا کیا جبکہ جنوری 2007ءمیں دنیا فانی سے رخصت ہوئے ۔اب ان کے صاحبزادے اور مولانا عبدالکریم ؒ کے پوتے برکت علی روزنامہ میزان کوئٹہ کے چیف ایڈیٹر ہیں ۔ یہ صحافتی جدو جہد مولانا عبدالکریم ؒ کی چوتھی نسل بھی لیکر چل رہی ہے جبکہ ادارہ پاکستان پائندہ باد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔