تازہ ترین

عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی(آئی این پی ) پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر )کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے، آپریشن ردالفساد کا مقصد ایک پرامن اور مستحکم پاکستان تھا اور ہے، ہر پاکستانی اس آپریشن کا سپاہی ہے، آپریشن ردالفساد صرف فوجی آپریشن نہیں تھا، دہشتگردی سے سیاحت تک کا سفر نہایت صبر آزما رہا، ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، سکیورٹی فورسز نے عوام کی مدد سے دہشت گردی کو شکست دی ، آپریشن کے بعد دہشتگردوں نے ملک کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی ، عوام کی مدد سے سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا، آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر فور آپریشن بھی کیا گیا، 750 کلو میٹر رقبے پر ریاست کی رٹ بحال کی گئی، کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کو ناکام بنایا گیا، ملک بھر سے 72 ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا ،4 سال کے دوران 1200 سے زائد شدت پسند ہتھیار ڈال چکے، کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے، کراچی کرائم انڈیکس میں آج 106 نمبر پر ہے، قبائلی اضلاع میں 31 بلین کی لاگت سے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوچکا، ، کورونا وبا کے دوران دانشمندی سے چینلج پر قابو پایا، نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے، پاکستان نے افغان امن کیلئے بہت مثبت کردار ادا کیا، پوری دنیا افغان امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتی ہے، پاکستان نے قیام امن کیلئے مثبت کردار ادا کیا، پاکستان کے ڈوزیئر کو عالمی برادری نے سراہا ہے،23 مارچ کو پریڈ بھرپور طریقے سے ہوگی، عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔ پیر کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا آپریشن رد الفساد کے 4 سال پورے ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج 22 فروری ہے اور آپریشن ردالفساد کے 4 سال مکمل ہوگئے ہیں، اس آپریش کا تفصیلی جائزہ اور ثمرات پر کچھ روشنی ڈالی جائے اور ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہی دی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت اور سربراہی میں آپریشن ردالفسار کا آغاز کیا گیا، اس آپریشن کی بنیادی اہمیت جو اسے دیگر تمام اہمیت سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آپریشن کسی مخصوص علاقے پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس کا اسٹریٹجک مقصد ایک پرامن، مستحکم پاکستان تھا اور ہے جس میں عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو اور دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کی آزادی کو سلب کرکے انہیں مکمل طور پر غیر موثر کردیا جائے۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ردالفساد کا بنیادی محور عوام ہیں جبکہ جب مسلح فورس دہشت گردوں سے لڑ رہی ہوتی ہیں تو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کی طاقت سے شکست دی جاسکتی ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اسی مناسبت سے ہر پاکستانی ناصرف اس آپریشن کا حصہ ہے بلکہ پوری قوم کی سوچ کے تحت ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔ 2017 میں آپریشن شروع کرنے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب دہشت گردوں نے قبائلی اضلاع میں اپنے انفرااسٹرکچر کی تباہی اور مختلف آپریشن میں بھاری تباہی اٹھانے کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی، دہشت گرد، ان کے سہولت کار شہروں، قصبوں، دیہات، اسکولوں، مدارس، عبادت گاہوں، کاروباری مراکز حتی کہ بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانا کر زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوششوں میں بھی مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں اس ماحول کو دیکھتے ہوئے ٹو پرونگ اسٹریجی کے تحت شروع کیا گیا، جس میں ایک پرونگ انسداد دہشت گردی (کانٹر ٹیررازم) کو دیکھتا تھا جبکہ دوسرا انسداد پرتشدد انتہا پسندی(کانٹر وائلنٹ ایکسٹریم ازم) کو دیکھتا تھا، جہاں تک انسداد دہشت گردی پرونگ کا تعلق ہے تو اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے، اس کے ساتھ مثر بارڈر منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے ویسٹرن زون کا مکمل استحکام اور ملک بھر میں دہشت گردوں کی حمایت کا خاتمہ شامل تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے انسداد پرتشدد انتہا پسندی کی بات کریں تو یہ واضح ہے کہ ایک نظریہ کا مقابلہ صرف اس سے برتر نظریے یا دلیل کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، اسی تناظر میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، قبائلی علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت، تعلیمی مدرسہ اور پولیس ریفارم میں حکومتی کاوشوں میں بھرپور معاونت کے ذریعے شدت پسندی کے عوامل پر قابو پانا شامل تھا۔ آپریشن کے تفصیلی جائزے سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو بڑی حکمت عملی تھی تو اسے 4 الفاظ میں بیان کرسکتا ہوں جو کلیئر، بولڈ، بلٹ اینڈ ٹرانسفر تھے، یہ وہ 4 مراحل تھے جس کے تحت ہم نے یہ لڑائی لڑی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2010 سے اگر 2017 تک دیکھیں تو کلیئر اور بولڈ مرحلے کے تحت بڑے آپریشن کے بعد مختلف علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کرایا جاچکا تھا اور قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال ہورہی تھی۔ دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ ردالفساد بلٹ اینڈ ٹرانفسر مرحلے کا آغاز ہے، اس دوران مشکل سے حاصل ہونے والے فوائد کو ناقابل واپسیبنانا ہماری ذمہ داری تھی اور یہی چیز اصل میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا حقیقی پیمانہ بھی ہے، کائنیٹک آپریشن کے ذریعے علاقہ صاف کرنے کے بعد سماجی و معاشی ترقی اور سول اداروں کی عمل داری دائمی امن کی جانب درست اقدام ہے اور اب اس کا اعتراف دنیا بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3 لاکھ 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے گئے جس میں سی ٹی ڈی، آئی بی، آئی ایس آئی، ایم آئی، پولیس، ایف سی اور رینجرز نے بھرپور کردار ادا کیا، جس میں پنجاب میں 34 ہزار سے زائد، سندھ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد، بلوچستان میں 80 ہزار سے زائد اور خیبرپختونخوا میں 92 ہزار سے زائد خفیہ بنیادوں پر آپریشن شامل ہیں، ان میں چند بڑے آئی بی او بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے شہری دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملی اور بہت سے دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ خفیہ ایجنسیوں نے انتھک محنت اور قربانیوں سے کئی بڑے بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کا خاتمہ کیا، ان 4 برسوں میں 5 ہزار سے زائد تھریٹ جاری کی گئی، آپریشن ردالفسار کے دوران خیبر 4 آپریشن بھی کیا گیا جس کا مقصد راجگال وادی کو کلیئر کرانا اور اس طرف پاک افغان سرحد کو محفوظ کرنا تھا جبکہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ برس آپریشن دواتوئی کیا گیا اور اس دوران ساڑھے 7سو اسکوائر کلومیٹر کے علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی گئی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران 72 ہزار سے زائد غیرقانون اسلحہ اور 50 لاکھ سے زائد گولہ بارود ملک بھر سے برآمد کیا گیا، اس کے علاوہ 2017 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے ساڑھے 18 سو واقعات رونما ہوئے، پاک افغان سرحد پر 1684 سرحد پر حملے سے واقعات ہوئے، ان تمام واقعات اور آپریشنز کے دوران 353 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2017 سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت اور توسیع کے لیے بہت کوشش کی گئی، ایف سی کے 58 نئے ونگز قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید 15 کا قیام عمل میں لایا جانا باقی ہے، مزید یہ کہ سرحدی انتظام کے تحت پاک افغان سرحد پر باڑ کا کام 84 فیصد اور پاک ایران سرحد پر 43 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ بارڈر منیجمنٹ کی اب مرکزی ایجنڈی وزارت داخلہ ہے۔ آپریشن ردالفساد سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس دوران ڈی مائننگ کے دوران 72 کلومیٹر سے زائد کا علاقہ کلیئر کیا جاچکا ہے، یہ بہت سست عمل ہے اور اس دوران ہمارے 2 سپاہی شہید اور 119 زخمی ہوئے ہیں لیکن اس کی پیش رفت اچھی چل رہی ہےاور ہم 48 ہزار مائن برآمد کرچکے ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ردالفساد صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا اورنیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت بہت حد تک ہوچکی ہے اور کچھ شعبے ہیں ان پر کام ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی جانب سے جو کام کرنا تھا وہ ہوا ہے اور حکومت نے جو کام کرنا تھا وہ ہو رہا ہے اور جلد مکمل ہوجائے گا اور کام مثبت طرز میں ہورہا ہے اورمستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان کے امن عمل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل وزارت خارجہ کے دائرے میں آتا ہے اس لیے تفصیلی بات نہیں کروں گا لیکن افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن ہوگا اور پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرے گا لیکن وہاں کے اقدامات انہوں نے خود کرنا ہے اور امریکی نئی انتظامیہ کے اقدامات سے متعلق مثبت ہیں کہ بہتری ہوگی۔ میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ مختلف آپریشنز کے دوران 450 فورسز کے اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے ہمارے ڈوزیئر کا جواب مثبت دیا اور کئی عالمی تنظیموں نے بیانات اور دستاویزات دی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان دہشت گردوں کی کارروائیوں میں کمی آئی ہے اور ان کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچایا گیاہے اور مزید کام کرنا ہے، اس کے لیے نئے اقدامات کرنے ہیں اور ٹیکنالوجی کو متعارف کروانا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سوشل میڈیا میں پراپیگنڈا کے حوالے سے مواد پھیلا ہوا ہے اور دہشت گردی کو ابھارنے والے مواد اور لوگوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور جلد ہی کوئی قانون بھی آئے گا، حکومت بھی کام کر رہیں اور یہ مزید فعال ہوگا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے جو نکات تھے ان پر اچھا خاصا کام ہوا ہے لیکن پاکستان نے پچھلے 3 سے 4 سال میں جو کام ہوا ہے اس کی توثیق ہر سطح پر ہوئی ہے اور اس حوالے سے ہم بہت مثبت ہیں۔ میرعلی میں این جی اوز کے اراکین پر ہونے والے حملے پر انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بھرپور کارروائی کر رہے ہیں لیکن ہر واقعے کو دہشت گردی سے نہیں جوڑنا چاہیے بلکہ امن و امان کے مسائل بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف واقعات پر مخصوص نہیں ہونا چاہیے بلکہ مجموعی حالات کو دیکھنا چاہیے، قبائلی علاقوں میں مکمل حالات سے متعلق وقت لگے گا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تبدیلی سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہیے، فوج کے اندر تبادلے اپنی مدت میں ہوتے ہیں اور فوج کے اندر ہر ادارے میں عام طور پر دو سال تک تعیناتی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف فوج اور پولیس نے قربانیاں نہیں دی بلکہ عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اس کا اعتراف کیا جاتا ہے اور اس حوالے امدادی کام متعلقہ صوبوں کی حکومتوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشقیں نئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کی جاتی ہیں اور بہت کامیاب جارہی ہیں، تربیت اور اسلحے سے متعلق ہماری تیاری کے نتائج مثبت آرہے ہیں۔ بھارتی میڈیا میں پاکستان مخالف پروگراموں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کو نظر انداز نہیں کیا جاتا ہے لیکن اگر ہر ایک کو جواب دیا جائے پھر ڈس انفو لیب نے انکشافات کیے جس سےکریڈیبلٹی پر واضح سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور جہاں ضروری ہو ہم جواب دیتے ہیں اور مستقبل قریب میں ہم اس طرح کے معاملات پر قابو پالیں گے۔ چین سے فوج کو ملنے والی کووڈ-19 ویکسین پر بھی سوال کیا گیا اورانہوں نے کہا کہ میڈیا بھی فرنٹ لائن پر ہے اور کس کو دینا ہے یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے اور سب کو دیا جائے گا، جہاں تعلق فوج کا تعلق ہے تو فوج اپنا کام کر رہی ہے اور کرتی رہے گی اور اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ ہم سے زیادہ مستحق وہ ہیں جو خطرے میں کام کرتے ہیں اور آئندہ آنے والی کھیپ میں فوج اورمیڈیا سب شامل ہوگا۔ دہشت گردوں کی واپسی کے طریقہ کار پر انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو مختلف مراکز میں مختلف سائیکالوجیکل اور موٹیویشنل طرز پر کام کیا گیا اور اس کا مثبت جواب آیا اور انہیں ڈرائیونگ اور مختلف ہنر سکھا دیے گئے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ گوادر کا کرکٹ اسٹیڈیم دنیا کا خوب صورت ترین میدان ہے لیکن بین الاقوامی میچوں کے لیے الگ تقاضے ہوتے ہیں اور ہوسکے تو پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل)کا کوئی میچ رواں سیزن یا مستقبل میں کبھی منعقد کیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*