تازہ ترین

سینیٹ الیکشن اور سیاسی ناکامی

علی انوار
ان سطور کے شائع ہونے تک ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان یہ طے کر دے کہ سینیٹ میں الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے یا خفیہ بیلٹ پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔ بنیادی طور پر یہ سیاست دانوں کا آپس میں مل بیٹھ کر طے کرنے کا معاملہ تھا جسے بد قسمتی سے سپریم کورٹ میں لے جایا گیا اور اب تمام سیاسی جماعتیں پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہی ہیںاور ایک دوسرے پر ووٹوں کی خریدو فروخت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ایک بات تو طے شدہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہی ایک دوسرے کے امیدوار توڑنے کی کوشش کرتی ہیں اور نوٹوں کی بوریوں اور تجوریوں کے منہ کھول دیئے جاتے ہیں۔
پھر ہر امیدوار اپنی حیثیت کے مطابق پیسہ خرچ کر کے تماشا دیکھتا ہے یعنی اس وقت سینیٹ الیکشن میں صورتحال اس مصرع کے مصداق ہو چکی ہے کہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔ کیوں کہ بد قسمتی سے ہمارا سیاسی کلچر اس طرح کا بنا دیا گیا ہے کہ اب غریب آدمی کیلئے الیکشن لڑنا اور پھر اس سے بڑھ کر کسی بھی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے متردادف ہے۔ سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں اور کسی بھی ایک پارٹی کا امیدوار ایسا نہیں ہے جسے خالصتا عوامی امیدوار کہا جائے (سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے والے تمام پارٹیوں کے امیدواران کی بائیو گرافی پڑھ کر اس کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا) ہر پارٹی اسی کوشش میں ہے کسی امیر آدمی کو خوش کر لیا جائے اسے ٹکٹ دے کر پارٹی کے مفاد مد نظر رکھا جائے تا کہ کل کلاں کو مشکل وقت میں پارٹی کو پیسوں کی ضرور ت ہو تو ان کی جیبیں خالی کرائی جائیں۔امید ہے کہ اب معاملہ سپریم کورٹ جا چکا ہے اور وہاں سے ہی اس کا کوئی حل نکل آئے وگرنہ یہ سیاست دان کسی ایک بات پر متفق ہونے والوں میں سے نہیں ہیں۔
ایک پارٹی اگر کل کہہ رہی تھی کہ ووٹنگ اوپن ہونی چاہئے تو اب وہ اس کی مخالفت کر رہی ہے اور اگر کل کوئی کہہ رہا تھا کہ ووٹنگ خفیہ ہی ہونی چاہئے تھی تو آج وہ اوپن بیلٹ کے حق میں واویلا کر رہی ہے۔
اب تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محترم گلزار احمد صاحب بھی فرما چکے ہیں کہ اوپن بیلٹنگ ہو بھی جائے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ خریدو فروخت نہیں ہو گی یا ہارس ٹریڈنگ نہیں ہو گی۔ اس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں جماعتیں اوپن بیلٹنگ کی مخالفت میں سپریم کورٹ میں دلائل دے رہی ہیں اور رضا ربانی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح اوپن بیلٹنگ کو ختم کرایا جائے جبکہ ماضی میں یہی دونوں جماعتیں تھیں جنہوں نے میثاق جمہوریت میں اس بات کا عزم کیا تھا کہ اگر ان کو اقتدار ملا تو یہ سینیٹ میں ووٹوں کی خریدو فروخت رکوانے کیلئے اوپن بیلٹنگ کا قانون وضع کریں گی تاکہ پارلیمنٹ میں داخل ہونے کے چور راستے کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے دونوں جماعتوں نے چارٹر آف ڈیمو کریسی پر دستخط کئے لیکن اب دونوں جماعتیں اپنے ہی کئے گئے معاہدے کے بر خلاف سپریم کورٹ میں خفیہ بیلٹنگ کے حق میں دلائل دے رہی ہیں۔دوسری جانب سیاست دانوں کی ویڈیو سامنے آ چکی ہے کہ کیسے وہ پیسے وصول کر رہے ہیں اور پیسوں کے عوض ایسے لوگوں کو سینیٹ کے ٹکٹ دیئے جا رہے ہیں۔
انہیں ووٹ دینے کی حامی بھری جا رہی ہے جنہیں شاید سیاست کی س کا بھی علم نہیں ہے۔ جب سیاسی معاملات عدالتوں میں جاتے ہیں تو پھر یہی سیاسی جماعتیں تیسری قوت کی مداخلت کا شور کرتی ہیں لیکن یہ بھول جاتی ہیں کہ ان کا اپنا کردار اس دوران کتنا صاف ہے یا یہ اگر خود اس قابل ہوتے تو پارلیمنٹ میں دھونے والے کپڑے یوں سپریم کورٹ میں نہ پھیلائے جاتے۔
بطور سیاسی کارکن اور صحافت کا طالب علم ہونے کے ناطے یہ ہمارے سیاسی نظام کے منہ پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہے کہ اتنا کچھ سامنے آنے کے باوجود ایک دوسرے کو شیلٹر فراہم کرنے کی سیاست کی جا رہی ہے۔مفاداتی سیاست میں اخلاقیات کا دامن بھلا دیا گیا ہے۔یہ ہماری سیاست اور سیاست دانوں کی ناکامی ہے۔
کہ لوگ سیاست سے متنفر ہو چکے ہیں اور سیاست دانوں کو معاشرے میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا ہے تو اس میں قصور کسی ادارے کا یا کسی شخصیت کا نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور ان کے رویوں کا ہے جو خود اس طرح کا ماحول بناتے ہیں کہ صرف پیسے والا ہی سیاست کر سکے اور لیڈرکا قرب حاصل کر کے اہم عہدے پا سکے۔ باقی صرف کارکنان ہوتے ہیں جن کا کام نعرے لگانا، قیمے والے نان کھانا اور لیڈر کی گاڑی کے آگے بچھ جانا ہے اس سے بڑھ ان کی کوئی قدر نہیں ہے۔ کیوں کہ ان سیاسی رہنماﺅں کو اپنے جلسوں میں دکھانے کیلئے سر چاہئیں ہوتے ہیں تا کہ بڑھکیں مار سکیں کہ اتنے بندے میرے جلسے میں آئے تھے یعنی عوام کا کردار صرف جلسے جلوسوں کی رونق بڑھانے کے سوا کچھ نہیں اور اس کے بدلے میں جب ہم سیاسی حکومتوں کی کارکردگی کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو عوام کا معیار زندگی پست سے پست ہوتا جا رہا ہے اور یہ کرسی کی وجہ سے کالے سے گندمی اور گورے سے گلابی بنتے جا رہے ہیں۔
جب تک ہمارا نچلا طبقہ سیاست میں پروان نہیں چڑھے گا پھر میاںساڈا آوے ہی آوے اور بھٹو زندہ رہے گا اور ایسے ہی لوگ (جیسے کے پی کے میں سینیٹ الیکشن میں پیسے لے کر ووٹ ڈال رہے ہیں)غریبوں کے نام پر ووٹ لے کر اپنی تجوریاں بھرتے رہیں گے۔
٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*