تازہ ترین

بلوچستان میں ہیپا ٹا ئٹس کے مر یضو ں کی بڑ ھتی ہوئی شر ح کو کنٹر ول کر نے کے اقد اما ت

بلوچستان میں اس وقت ہیپا ٹا ئٹس کے مر یضوں کی تعد اد میں رو ز بر و ز اضا فہ ہو رہا ہے چو نکہ یہ جان لیو ا مر ض ہے اس لیے یہ خطر نا ک ہے اس کا رو ز بر و ز بڑھنا ایک بہت بڑ ا لمحہ فکر یہ سے کم نہیں اس مر ض کو کنٹر و ل کر نے کے لیے اقداما ت کے سلسلے میں صو بائی سیکر ٹر ی صحت نو ر الحق بلوچ کی زیر صد ارت اجلا س منعقد ہو ا جس میں بلوچستان میں ہیپا ٹا ئٹس کے مر یضوںم کی بڑ ھتی ہو ئی شر ح کو کنٹر ول کرنے کے لیے اقد اما ت کر نے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت رو اں سا ل بلوچستان کے 14 ہا ئی رسک اضلا ع میں ہیپاٹا ئٹس بی اور سی کی ویکسی نیشن اور آئند ہ سا ل بلوچستان کے 14 ہا ئی رسک اضلا ع میں ہیپا ٹا ئٹس ای کی ویکسی نیشن کی مہم کا آغا ز کیا جا ئے گاما ر چ کے پہلے ہفتے میں ہیپا ٹا ئٹس بی کی ویکسین اور ہیپا ٹا ئٹس بی اور سی کی سکر یننگ شر وع کی جا ئے گا۔
بلوچستان میں مو ذی مر ض ہیپا ٹا ئٹس کے مر یضو ں کی بڑ ھتی ہو ئی شر ح کو کنٹر ول کر نے کے اقد اما ت بلا شبہ قا بل تعر یف ہیں بلکہ اس کی اس وقت شد ید ضرور ت بھی ہے کیو نکہ صو بے میں ہیپا ٹا ئٹس کے مر یضو ں کا اضا فہ ہونا قا بل تشو یش با ت ہے یہ جا ن لیو ا مر ض ہے جو انسا ن کو آہستہ آہستہ ختم کر دتیا ہے اور اس کے بعد اس کی مو ت ہو جا تی ہے اس مر ض کو خا مو ش قاتل بھی کہتے ہیں جو خامو شی سے انسا ن کا نظام ہضم اور دیگر نظام شد ید متا ثر کر تا رہتا ہے حکومت بلوچستان کی جا نب سے اس بیماری کی ویکسی نیشن کاجو مذکو رہ شیڈ ول جا ری کیا گیا ہے وہ بظا ہر بہت سست اور دیر سے شر وع ہو نے والا ہے جو مو جو دہ صو رتحال میں با لکل ٹھیک اقد ام نہیں ہے اس میں تیز ی لاتے ہوئے مذکو رہ شیڈ ول میں جلد از جلد تبد یلی لا نی چا ہیئے اس کے سا تھ سا تھ بیما ری کے تد ارک کے لیے بھی انتظا ما ت کر نا نہا یت ہی ضروری ہیں یہ مو ذی مرض کے بڑ ھنے کے جہا ں دیگر عوامل کار فرما ہیں وہا ں اس میں سب سے زیا دہ آلو د ہ پانی کا استعما ل اور گند ے پانی سے اگا ہی گئی سبز یا ں ہیں جن کے استعما ل کر نے سے یہ مو ذی مر ض بڑ ی تیز ی سے پھیل رہا ہے لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ اس سلسلے میں اقد اما ت نہ کرنے کے متر ادف ہیں حالا نکہ بلوچستان ہا ئیکو رٹ نے گند ے پانی سے سبز یا ں اگا نے پر پا بند ی عا ئد کر رکھی ہے اس پر عمل در آمد کر انے کی رفتا ر سست ہے کیو نکہ اس کے با وجو د گند ے پانی سے سبز یا ں اگا ئی جا رہی ہیں سا بق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القد وس بز نجو نے گند ے پانی سے اگا ہی گئی سبز یاں کو تلف کر نے کے احکامات دیئے تھے انہوں نے خو د ہی کھیتو ں کا دورہ کر کے وہا ں اگائی گئی سبز یا ں اپنی نگر انی میں تلف بھی کی تھیں اس کے بعد بلوچستان فوڈ اتھا رٹی بھی اس سلسلے میں اقد اما ت کر رہی ہے لیکن اس کے با وجو د ان کا نہ رکنا قا بل افسو س با ت ہے جس سے یہ اند ازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ شا ید یہ بڑے طا قتو ر لو گ ہیں جو کسی کے قا بو میں نہیں آ رہے۔
اس مو ذ ی مر ض کو کنٹر ول کرنے کے لیے حکومت کو صو بے میں اس کے علا ج پر خصو صی توجہ دینی چا ہیئے کیو نکہ صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں جگر کے مر یضو ں کا وا رڈ صر ف بی ایم سی ہسپتا ل میں ہے شہر کے وسط میں اس کا کوئی وا رڈ نہیں ہے جس کی وجہ سے مر یضو ں کومشکلا ت کا سا منا کرنا پڑ تا ہے اس لیے سول ہسپتا ل میں بھی اس کا وا رڈ تعمیر کیا جا نا چا ہیئے اور حکومت کو ان مر یضو ں کو ہرممکن سہولتیں فر اہم کرنے کے اقد اما ت کرنے چاہئیں خصو صاً ادو یا ت کی فر اہمی اور ٹیسٹو ں کی سہو لتیں دینا اولین تر جیحا ت میں ہونا چا ہیئے اور اگر یہ مر ض بڑ ھ کر لیو ر ٹر انسپلا نٹ کی جا نب بڑھ جا ئے تو اس سلسلے میں مریضو ں کی ما لی مد د کی جائے کیو نکہ لیو ر ٹر انسپلا نٹ کے عمل پر بہت ہی زیا دہ خرچہ آتا ہے جوایک غر یب عوام کے لیے نا ممکن ہے حکومت کو اس جا نب خصو صی توجہ دینی چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*