تازہ ترین

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں؟

رحمت خان وردگ
میں پہلے بھی کئی بار اپنی تحریروں میں عرض کرچکا ہوں اور ایک بار پھر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ یہاں سیاست و جمہوریت کو دولت کے ہاتھوں محصور کردیا گیا ہے اور سیاست پر چند خاندانوں نے اپنا گہرا قبضہ جمایا ہوا ہے اور اس مخصوص حصار سے کسی بھی طور پر اختیارات‘ اقتدار اور وسائل کو نکلنے نہیں دیا جارہا۔ دنیا بھر میں کامیاب ترین طرز حکومت مقامی حکومتوں کا نظام ہے جس کے تحت ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر نمائندے منتخب کرکے عوام کے اکثریت مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنے کی بھرپورکوشش کی جاتی ہے اور اختیارات کو انتہائی نچلی سطح تک منصفانہ تقسیم سے وفاقی و صوبائی حکومتیں بہت سے مسائل سے آزاد رہتی ہیں۔
اب بلدیاتی نمائندوں کی مدت پوری ہوئے کئی ماہ ہوچکے ہیں لیکن سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا نام تک نہیں لیا جارہا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وفاقی حکومت کی ناقص کارکردگی اور منتخب ہونے سے پہلے بلند بانگ دعو¶ں کی وجہ سے عوام حکمراں جماعت سے متنفر ہیں اور انہیں مکمل اندازہ ہے کہ ان حالات میں ان کو ووٹ نہیں مل سکتا اسی لئے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جارہے حالانکہ یہ اپوزیشن میں تھے تو دن رات بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کا پرزور مطالبہ کرتے نہیں تھکتے تھے اور دوسری طرف ایسا کرنے سے ترقیاتی فنڈز اور کئی اختیارات نچلی سطح پر تفویض کرنا پڑیں گے اور ان پارٹیوں کے ایم پی اے‘ ایم این اے اور سینیٹرز کو مخصوص ”ترقیاتی فنڈ“ نہیں مل پائے گا۔
پشاور زلمی کو میچ میں وہاب ریاض اور کوچ ڈیرن سیمی کی خدمات حاصل نہیں ہونگی
یہاں اس بات کا ذکر بہت ضروری ہے کہ ایم این اے‘ ایم پی اے اور سینیٹرز کے ترقیاتی فنڈ میں قانونی طور پر بھی فنڈ کا 10% متعلقہ رکن اسمبلی کو کمیشن ملتا ہے۔ مگر میرے خیال میں کوئی بہت ہی سادہ اورقناعت پسند سیاستدان ہی ہوگا جو اس 10% کمیشن پر اکتفا کرے کیونکہ یہاں تو اپنے ترقیاتی فنڈز کا 50-60% کاطریقہ کار رائج ہے اور اس کے علاوہ سرکاری افسران‘ ایکس ای این و متعلقہ سرکاری عملہ بھی کم و بیش 15-20% حصہ لیتا ہے یعنی اس طریقہ کار کے تحت ترقیاتی فنڈ کا 30% تک بمشکل منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے اور اس قدر بھاری کمیشن کے بعد ٹھیکیدار کس معیار کا کام کرے گا؟ اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔جب سیاستدانوں کے منہ کو یہ ترقیاتی فنڈز کا کمیشن لگا ہو تو اس صورتحال میں کونسا شریف انسان آمدنی کا یہ سنہرا ذریعہ کسی اور کو تفویض کرنے کی حمایت کرسکتا ہے۔
یہی صورتحال گزشتہ حکومتوں کے دور میں بھی رہی اور اب موجودہ حکومت میں بھی جاری ہے کہ بار بار بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر اصرار پر صوبائی حکومتیں مختلف حیلوں بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو تاخیر کا شکار کر رہی ہیں حالانکہ عوام کے مسائل کے حل کے لئے مخلص حکومتیں خدانخواستہ جنگی حالات میں بھی ہر صورت بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بناتی ہیں۔
جمہوریت کی علمبردار بڑی سیاسی جماعتیں کہنے کو توجمہوریت رائج کرنا چاہتی ہیں مگر عملی طور پر جمہوری ڈکٹیٹرشپ رائج ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں اپنا پارٹی الیکشن ہی نہیں کراتیں بلکہ پارٹیوں کو اپنی ذاتی جاگیر کے طورپر چلایا جارہا ہے۔ یہ لوگ ملک میں حقیقی جمہوریت کس طرح رائج کرسکتے ہیں؟
جنرل پرویز مشرف بے شک فوجی حکمران تھے مگر انہوں نے اپنے دور اقتدار میں باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے اور ملک بھر میں اختیارات کو ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل کو تفویض کیا۔ ان کے دور حکومت میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے اور کسی ایم این اے‘ ایم پی اے یا سنییٹرز کو ترقیاتی فنڈ نہیں دیا گیا بلکہ ترقیاتی فنڈز کا استعمال مقامی حکومتوں کے ذریعے کیا گیا جس سے ملک میں تعمیر وترقی کے نئے دورکا آغاز ہوا اور عوام کافی حد تک مطمئن تھے۔
پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور اس سنگین صورتحال میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ اپنے زیادہ تر اختیارات و وسائل کی نچلی سطح پر منصفانہ تقسیم کرکے خود دیگر اہم امور کی جانب توجہ مرکوز کرے اور قومی سطح پر پالیسیوں کی تشکیل و عملدرآمد کی جانب زیادہ لگن سے کام ہونا چاہئے۔
عوام کے مسائل کے حل کے دعویدار سیاستدان چاہے وفاق میں برسراقتدار ہیں چاہے کسی بھی صوبے میں ہیں‘ ان کی ذمہ داری ہے کہ بروقت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں لیکن یہاں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا نام تک نہیں لے رہا۔
میڈیا کو چاہئے کہ بلدیاتی انتخابات کے جلد از جلد انتخابات کے لئے بھرپور میڈیا مہم چلائے اور وفاق و صوبوں میں براجمان سیاسی جماعتوں سے جواب طلبی کرنے کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم میں کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے بارے میں دریافت کیا جائے۔
بلدیاتی انتخابات کا جلد ازجلد انعقاد ہی عوام کے مسائل میں نمایاں کمی کا ضامن بن سکتا ہے اس کے علاوہ ایم این اے‘ ایم پی اے اور سینیٹرز کے ترقیاتی فنڈز پر مکمل طورپر پابند ی ہونی چاہئے اور سارا ترقیاتی فنڈبلدیاتی حکومتوں کے ذریعے استعمال کیا جائے البتہ ہر ضلع و تحصیل کے ترقیاتی بورڈ میں مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے اور سینیٹرز کو شامل کیا جائے اور یہ بورڈ صرف مقامی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیکر ان کی نگرانی کرنے کا مجاز ہو۔ ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونیوالے تمام فنڈز کے اجراءو استعمال کا اختیار مقامی ڈی سی او‘ ڈپٹی کمشنرز کو ہونا چاہئے۔
اس نظام سے ملک بھرمیں ترقیاتی منصوبوں کی معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔کراچی جیسے میگاسٹی کی حالت زار یہ ہے کہ جس علاقے کی جانب سفر کے لئے نکلیں تو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ نئے منصوبوں کا آغاز تو درکنار گزشتہ مقامی حکومتوں کے نظام کے تحت بننے والے منصوبوں کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بھی سڑکیں اور پل خستہ حالی کا شکار ہیں۔
یہی حالت تمام چھوٹے بڑے شہروں کی ہے جہاں مقامی نمائندے نہ ہونے کے باعث سرکاری افسران بے لگام ہوچکے ہیں اور اپنی مرضی مطابق صفائی‘ ستھرائی اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کی جانب توجہ دیتے ہیں۔ ملک میں بنیادی جمہوریت رائج ہو گی تو عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل ہونا شروع ہوسکیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*