تازہ ترین

جرمنی میں سانپ کی دہشت، دس خاندانوں کی اپنے فلیٹوں سے عارضی منتقلی

برلن (م ڈ)جرمن شہر کولون میں ایک زہریلے سانپ کی موجودگی نے متعدد افراد میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ اسی خوف کے باعث دس مختلف اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر خاندان وہاں سے عارضی طور پر منتقل ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حکام نے بتایاکہ جس سانپ سے علاقے کے لوگوں میں خوف پیدا ہوا، وہ کیپ کورال قسم کا ایک زہریلا سانپ ہے۔ ابھی یہ چھوٹی جسامت اور کم عمر کا ہے۔ اس سانپ کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی فائر بریگیڈ کا بیس رکنی عملہ سانپ کو ڈھونڈنے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں کو ریسکیو کرنے والے افراد بھی موقع پر موجود ہیں۔رینگنے والے جانوروں کے ایک مرکز نے مقامی بلدیاتی انتطامیہ کو اتوار چودہ فروری کو مطلع کیا تھا کہ اس کے سانپوں میں سے ایک لاپتا ہے۔
اس ٹیراریم میں کل ایک درجن سانپوں کو رکھا گیا ہے۔ جو سانپ گم ہوا ہے وہ بچہ ہے اور اس کی لمبائی 20 سینٹی میٹر یا سات انچ کے قریب ہے۔اس سانپ کی تلاش کے لیے کولون کے چڑیا گھر کے سانپ مرکز کے ایک ماہر کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر یہ سانپ متعلقہ عمارت سے باہر نکل گیا ہے، تو اس کے بچنے کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں کیونکہ باقی ماندہ جرمنی کی طرح کولون میں بھی ان دنوں شدید سردی ہے اور سرد موسم سانپ کو موافق نہیں آتا۔کولون میں گم ہو جانے والا کیپ کورال قسم کا سانپ جنوبی افریقہ کے خشک اور بارانی علاقے میں پایا جاتا ہے۔ اس کی خوراک میں چھوٹی جسامت کی چھپکلیوں اور زمین کے اندر رہنے والے چوہوں جیسے جانور شامل ہیں۔ یہ ایک زہریلا سانپ ہے۔ دنیا بھر میں سانپوں کی تین ہزار قسمیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے صرف سات قسم کے سانپ جرمنی میں پائے جاتے ہیں۔جرمنی میں گاہے بگاہے سانپ نظر آنے یا اس کی موجودگی کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلنے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ رواں برس جنوری میں بوخم شہر کے ایک کنڈر گارٹن کے تہہ خانے میں ایک سانپ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تب فائر بریگیڈ کا عملہ وہاں پہنچ تو گیا تھا مگر اسے وہاں سے صرف اس اژدہے کی کینچلی ملی تھی۔ سانپوں کو جرمن قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے کیونکہ ان کی افزائش نسل کا علاقہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*