تازہ ترین

گلوبل وارمنگ کے مضر اثرات سے کیسے محفوظ رہا جائے

آلودگی،دور حاضر کا سنگین مسئلہ ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے جہاں انسانی صحت متاثر ہو رہی ہے وہیں چرند پرند اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔کائنات میں قدرت نے توازن رکھا ہے اور یہی توازن کائنات کی بقاءکا ضامن ہے۔انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول کو نقصان پہنچا کر اس توازن کو بگاڑا ہے۔اپنی آسائش کی خاطر انسان کے اختیار کردہ مصنوعی ذرائع و وسائل نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اثرات:مختلف تحقیقات سے ثابت ہے کہ فضائی آلودگی انسان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سانس کی مختلف بیماریوں،پھیپھڑوں کے مسائل،ہائی بلڈ پریشر حتیٰ کہ دماغی بیماریاں جیسے الزائمر اور ڈیمنشیا تک میں مبتلا کر سکتی ہے۔
بچوں کی نشوونما اور اندرونی جسمانی اعضاءکو متاثر کرتے ہوئے اسکولوں میں خراب کارکردگی کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
وہ افراد جو فضائی آلودگی سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں ان میں دمہ اور دل کے مریض،حاملہ خواتین،کھلی فضا میں کام کرنے والے اور عمر رسیدہ افراد اور ذیابیطس کے مریض بطور خاص شامل ہیں۔
کیسے محفوظ رہا جائے؟فضائی آلودگی سے حفاظت کے حوالے سے کالج آف لندن کے ماحولیاتی صحت کے پروفیسر فرینک کیلی کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماسک پہن کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم آلودہ فضا میں سانس لینے کے لئے تیار ہیں جبکہ ہمیں آلودگی ختم کرنے کے لئے اپنے طرز زندگی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ماسک پہننا ایک حفاظتی اقدام ہے لیکن یہ ناکافی ہے۔چنانچہ اب اہم سوال یہ ہے کہ فضائی آلودگی سے خود کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ کار کیا ہے····؟اس حوالے سے ذیل میں ماحولیاتی ماہرین اور سائنسدانوں کے مشورے بتائے جا رہے ہیں۔
ہریالی میں وقت گزاریں:برٹش یونیورسٹی آف ایسیکس میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کسی بھی سرسبز و شاداب ماحول میں ورزش کرنا یا وقت گزارنا ذہنی صحت بہتر بناتا ہے اور خود اعتمادی میں اضافہ کرتا ہے۔پارک میں گزارے گئے لمحات فضائی آلودگی سے محفوظ رکھنے میں مفید ہو سکتے ہیں۔
صبح سویرے ورزش:عام طور پر رش کے اوقات میں فضائی آلودگی کا تناسب سب سے زیادہ ہو جاتا ہے۔آ¶ٹ ڈور ایکسر سائز کے شوقین کوشش کریں کہ سات یا آٹھ بجے سے قبل ورزش کا وقت مقرر کیا جائے یا پھر شام کے اوقات میں ورزش یا چہل قدمی کے لئے جائیں۔
انڈور پلانٹس:پودے نہ صرف گھر کی تزئین و آرائش میں مفید ہیں بلکہ ان کی منفرد طرز آرائش گھر کی فضا کو بھی فرحت افزا بناتی ہے۔گھر کی فضا کو بہتر اور ماحول کو پرسکون بنانے والے پودوں میں اسنیکس پلانٹ،ربر پلانٹ، لکی بمبو،چائنیز ایور گرین،کیکٹس،آریکا پام شامل ہیں۔یہ پودے گھر میں موجود آب و ہوا کو صاف کرتے ہوئے آکسیجن بہتر بناتے ہیں۔یہی نہیں،یہ پودے بینزین،نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہوئے گھر سے دھول مٹی اور زہریلے مادوں کا اخراج ممکن بناتے ہیں۔
سانس لینے کی مشقیں:عمل تنفس پر تحقیق کرنے والے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سانس کی مشقیں انسانی جسم پر صحت مند اثرات مرتب کرتی ہیں،دن میں کم ا ز کم تین مرتبہ سانس لینے کی مشقیں کی جائیں۔مشقوں کے حوالے سے معالج مناسب رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
آبی آلودگی:فضائی آلودگی کے بعد آلودگی کی دوسری بڑی قسم”آبی آلودگی“ ہے۔ہوا کی طرح پانی بھی انسان کی زندگی کے لئے لازمی عنصر ہے۔ بیسویں صدی میں جہاں صنعتی انقلاب اور آبادی کے بڑھنے کے باعث پانی کی ضروریات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے،وہاں پینے کے لئے صاف و شفاف پانی بھی ناپید ہوتا جا رہا ہے۔پانی میں کئی طرح کی کثافتیں اور مادے شامل ہو گئے ہیں۔ایک محتاط جائزے کے مطابق آلودہ پانی کے باعث بیمار ہونے والوں کی تعداد دوسرے تمام عوامل سے زیادہ ہے۔آبی آلودگی کی وجہ سے معدے اور جگر کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔صنعتی علاقوں کا کثیف مادہ عموماً صاف کئے بغیر ہی ندی نالوں اور دریا¶ں میں بہا دیا جاتا ہے۔اس سے نہ صرف آبی حیات متاثر ہوتی ہے،بلکہ ایسے پانی کو آبپاشی کے لئے استعمال کرنے سے کئی مضر کیمیائی اجزاءپودوں کی جڑوں میں سرایت کر جاتے ہیں۔ایسے پودوں کو بطور خوراک استعمال کرنے سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
زمینی آلودگی:آلودگی کی ایک اور اہم قسم ”زمینی آلودگی“ ہے۔زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے فصلوں پر کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے،جس سے پیداوار میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن ان ادویات کے استعمال سے مٹی کے اوپر کی تہہ کی زرخیزی خاصی کم ہو جاتی ہے۔ نیز فصلوں اور پودوں پر بھی ان کے مضر صحت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔زمینی آلودگی کم کرنے کے لئے جنگلات لگانا ایک موثر اقدام ہے۔اسلام نے شجرکاری کی ترغیب دی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مبارکہ سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں شجرکاری کس قدر ثواب کا کام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں(پودے کی)قلم ہو تو وہ اسے زمین میں لگا دے۔ایک اور موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے اور اس میں سے انسان،درندہ،پرندہ یا چوپایا کھائے،تو وہ اُس کے لئے صدقہ ہوتا ہے۔ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے:جو کوئی درخت لگائے،پھر اُس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگے۔اس درخت کا جو کچھ نقصان ہو گا،وہ اس کے لئے اللہ کے یہاں صدقے کا سبب ہو گا۔
سائنس دان ایسی فصلیں اور پودے تیار کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں جو زمین سے کاربن کو بھی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازہ کے مطابق ہر سال تیس لاکھ افراد فضائی آلودگی کے باعث وقت سے پہلے مر جاتے ہیں جو کہ انسانی صحت کے لئے سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے۔زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ہوا میں موجودہ آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔جنگلات اور آبادیوں میں موجود سرسبز شاداب درخت ماحولیاتی کثافتوں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔اسلام میں درختوں کو بلا ضرورت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے، حتیٰ کہ جنگ جیتنے کے بعد مفتوحہ علاقے میں بھی درختوں کی کٹائی سے منع کیا گیا ہے اور درختوں کی حفاظت کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*