تازہ ترین

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کو سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے ‘ پاکستان ٹیکس فورم

لاہور( کامرس ڈیسک)پاکستان ٹیکس فورم کے چیئرمین ذوالفقار خان نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو تماشہ اورمذاق بنانے کی بجائے اس کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے ، ہر طرح کا تجربہ کرنے کے باوجود ہم سات دہائیوں سے زائد عرصے میں ٹیکس آمدن کی مد میں صرف 4ہزار ارب اکٹھے کر پائے ہیںجو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سسٹم میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں ۔”ٹیکس اور عوام “کے موضوع پر منعقد مذاکرے میں ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا ڈھائی سال میں 11ہزار ارب کے قرض لینا لمحہ فکریہ ہے ، ہر حکومت نے قرض لے کر ریاست کے نظام کو چلانا وطیرہ بنا لیا ہے لیکن اب اس روش کو تبدیل کرنا ہوگاوگرنہ ہم اس نہج پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ بہت مشکل ہے ۔انہوںنے کہا کہ انٹرنیشنل ٹرانسپیرنسی رپورٹ پر ہمیں بطور قوم سوچنا چاہیے تھا لیکن بد قسمتی سے اسے بھی سیاست کی نظر کر دیا گیا اور اس رپورٹ کو مذاق اور تماشہ بنادیا گیا ۔یہ گزشتہ دور کے یا موجودہ دور کے اعدادوشمار ہیں اس سے لا تعلق ہو کر سوچا جائے کہ یہ پاکستان کے بارے میں اعدادوشمارہیں ۔ جب ایسی صورتحال ہو گی کوئی غیر ملکی سرمایہ کار یہاں کا رخ نہیں کرے گا ۔ انہوںنے کہاکہ عام آدمی کی خوشحالی ٹیکس نظام سے مشروط ہے،10 لاکھ اشرافیہ ٹیکس ادا نہیں کرتا جبکہ عام آدمی اپنے کفن پر بھی ٹیکس ادا کرتا ہے،غیر منصفانہ نظام سے کبھی ملک ترقی نہیں کر سکتااس لیے ٹیکس نظام کا متبادل نظام لایا جائے ،آج بھی تمام ٹیکسز ختم کر کے صرف 20فیصد پرچیز ٹیکس کے نفاذ سے 15ہزار ارب روپے اکٹھے کرکے غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*