تازہ ترین

دمہ

تحریر: ڈاکٹر فیاض احمد
ہمارے ماحول میں الرجی سے بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں سب سے خطرناک بیماری دمہ ہے بہت سے لوگوں کے نظریات کے مطابق دمہ دم یعنی موت کے ساتھ ختم ہوتا ہے لیکن یہ پیشن گوئی غلط ہے کیونکہ سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ممکن ہے دمہ دراصل سانس کی نالیوں کی سوزش کا دوسرا نام ہے دمے کے مریض کو سانس لینے میں اتنی دشواری ہوتی ہے کہ اس کے لئے دو قدم چلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے دمے کی خاص علامات کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور چھاتی میں تکلیف جیسی علامات ہیں عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے تیئس کروڑ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں اتنی تحقیقات ہونے کے باوجود امریکہ میں ہر بارہواں فرد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہے جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ غذا اور ماحولیاتی عناصر سے الرجی کی شکایت پیدا ہونے والوں کو بالغ عمر میں دمے کی شکایت ہونے کے خدشات عام افراد سے زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ پیدا کرنے والے ماحولیاتی عناصر سے دور رہنے اور دمے کی علامات سے نمٹنے کے بارے میں معلومات کے ذریعے اس بیماری کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ڈاکٹروں کے مطابق دمے کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے اور اس کی علامات سے مقابلہ کرنے کے لئے بہت ہی کم ادویات موجود ہیں جن میں گولیاں، ٹیکے اور انہیلر شامل ہیں غذا اور ادویات سے منسلک امریکی سرکاری ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا منظور کردہ ایک نیا طریقہ علاج جو بروکل تھرموپلاسٹی کہلاتا ہے جس میں تپش کے ذریعے مویض کی ہوا کی نالیوں کوبڑا کیا جاسکتا ہے کلیولینڈ کلینک ایک طبی سینٹر کی معالج سمیتا کھتری یہ طریقہ علاج آزمانے والے چند ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں یہ کہتی ہیں کہ ان کے بعض مریضوں کو اس علاج سے فائدہ ہوا ہے وہ کہتی ہیں کہ اس علاج کا بنیادی تصور یہ ہے کہ سانس کی نالیوں کو بڑا کرنے سے کھانسی کے دورے اور سانس کی نالیوں میں دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس علاج کی وجہ سے پھیپھڑوں میں سوزش بھی ہو سکتی ہے اور دمہ شدت بھی اختیار کر سکتا ہے یہ طریقہ علاج ان مریضوں کے لئے نہیں ہے جن کو دمے کی معمولی سی شکایت ہو یہ صرف ان لوگوں کے لئے موثر ہے جن کے لئے کوئی اور طریقہ علاج موثر نہ ہو۔
ایک تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ دمے کے مریضوں کے لئے وٹامن ڈی بہت افادیت رکھتا ہے سورج کی روشنی دمے کے مریضوں کے لئے مفید ہے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ سورج کی روشنی میں زیادہ وقت گزارنے سے دمے کی بیماری پر مثبت اثر پڑتا ہے لندن کے کنگز کالج کے تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ سورج کی روشنی میں بننے والے وٹامن ڈی کی جسم میں کم مقدار سے دمے کی علامات بدتر ہو جاتی ہیں تازہ ترین تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وٹامن ڈی سے مدافعتی نظام کو طاقت ملتی ہے جس کی بدولت بیماریوں سے لڑنے کی طاقت زیادہ ہو جاتی ہے دمے کے مریضوں کی سانس کی نالیاں سوج کر تنگ ہو جاتی ہیں جس سے انہیں سانس لینے میں دقت ہوتی ہے دمے کے اکثر مریضوں کا علاج سٹیروئڈ ادویات سے کیا جاتا ہے تاہم وہ سب مریضوں کے لئے کارگر نہیں ہوتیں تحقیق کا ر پروفیسر کیتھرین ہارائلووچ کہتی ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ جن لوگوں کے بدن میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ان کا دمہ زیادہ قابو میں رہتا ہے۔
پروفیسر کیتھرین اور ان کے ہم کاروں نے اپنی تحقیق کے دوران یہ دیکھا کہ بدن میں پائے جانے والے کیمیائی مادے انٹرلیوکین سترہ پر وٹامن ڈی کا کیا اثر ہوتا ہے یہ مادہ مدافعتی نظام کا انفیکشن کا مقابلہ کرنے میں ہاتھ بٹاتا ہے تاہم اگر اس کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو یہ دمے کا موجب بن سکتا ہے سائنسی جریدے جونل آف الرجی اینڈ کلینکل امیونالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب اٹھارہ مریضوں کے خون کے نمونوں میں وٹامن ڈی ملایاگیا تو ان میں انٹرلیوکین سترہ کی مقدار کم ہو گئی یہ سائنسی ٹیم اب اس بات پر تحقیق کر رہی ہے کہ دمے کے مریضوں کو وٹامن ڈی کھلانے سے ان کی بیماری کی علامات پر کیا فرق پڑے گا اس مقصد کے لئے انہوں نے ایسے مریضوں کا انتخاب کیا جن کے اندر سٹیروئڈ ادویات بے اثر ہوتی ہیں اور ان کے اندر انٹرلیوکین سترہ کی مقدار دوسرے مریضوں کے مقابلے پر سات گنا زیادہ ہوتی ہے۔
پروفیسر کیتھرین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا خیال ہے کہ ایسے مریض جن پر سٹیروئڈ کا اثر نہیں ہوتا ان کو وٹامن ڈی دینے سے سٹیروئڈ کام کرنا شروع کر دے گی جبکہ دوسرے مریضوں کو کم مقدار میں سٹیروئڈ استعمال کرنا پڑے گادمے کے بہت سارے مریضوں کو دواؤں کے مضر اثرات کی تشویش ہوتی ہے اس لئے اگر وٹامن ڈی سے دوا کی مقدار کم ہو جائے تو اس سے لوگوں کی صحت پر بہت اچھا اثر پڑے گااکثر دیکھا گیا ہے کہ الرجی کی وجہ سے جو دمہ لاحق ہوتا ہے اس میں آئی جی ای لیول کافی حد تک بڑھ جاتا ہے اور مریض کو دمے کا حملہ بار بار یعنی بہت جلدی ہوتا ہے نیز اس کی شدت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
دمہ ایک الرجک کیفیت ہوتی ہے جب کوئی خارشدار مادہ پھیپھڑوں کی ہوا کی نالیوں میں پہنچتا ہے تو یہ متورم ہو جاتی ہیں ان میں سے بلغم خارج ہونے لگتی ہے اور پھر سانس کی نالی اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ سانس لینا ایک دشوار اور مہلک عمل بن جاتا ہے سانس لیتے وقت بلغم کی کھڑکھڑاہٹ پیدا ہوتی ہے مریض کو سانس لینے میں مشقت سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور وہ ملسل ہانپنے لگتا ہے جس مریض کو یہ مرض لاحق ہوتا ہے اسے سانس خارج کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور بار بار سانس پھولنے کی شکایت رہنے لگتی ہے دمہ چونکہ الرجی کے سبب ہونے والی ایک بے قائدگی ہے اور ماحول میں بے شمار الرجی کے عناصر ہوتے ہیں جیسے گرد یا دھول، پھولوں کے زرددانے وغیرہ اس لئے اس مہلک بیماری سے ہمیں اپنے آپ کو بچانا ہے اور الرجک چیزوں سے مکمل پرہیز کرنا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*