تازہ ترین

غلط اعدادوشمار ،ملک میں سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کے فروغ کا سبب بننے لگے

کراچی (کامرس ڈیسک) اسٹاپ اللیگل ٹریڈ (ایس آئی ٹی) پاکستان نے ٹوبیکو سیکٹر سے متعلق غلط اعدادوشمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سگریٹ سے متعلق مختلف فورمز پر پیش کیے جانے والے غلط اعدادوشمار ملک میں سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔ ایس آئی ٹی کی نمائندہ آمنہ سلیم نے تمباکونوشی کی روک تھام کے لیے سرگرم تنظیموں کی جانب سے مختلف فورمز پر پیش کیے جانے والے اعدادوشمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض تنظیمیں تمباکونوشی کے رجحان کی روک تھام کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنے کے بجائے حکومت اور پالیسی میکرز کو غلط اعدادوشمار فراہم کرکے گمراہ کررہی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر معاشی تحقیق اور حکومت کو مشاورت فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز کو بھی اس مہم کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف عالمی تحقیقی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار پاکستان میں سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کا شیئر 30سے 40فیصد ظاہر کرتے ہیں تاہم اس کے برعکس مختلف مقامی تنظیمیں پاکستان میں قانونی اور غیرقانونی سگریٹ کی فروخت کے الگ اعدادوشمار کا پرچار کررہی ہیں جو فیصلہ سازوں کی سگریٹ کی غیرقانونی تجارت سے توجہ بھٹکانے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس ضمن میں سوشل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کی جانب سے حال ہی ”ریجنل ٹوبیکو ٹیکس ریجیم اینڈ امپلی کیشنز فار ہیلتھ“ کے عنوان سے رپورٹ جاری کی گئی جو تمباکوکی صنعت سے متعلق معروضی حقائق کو نظر انداز کرکے مرتب کی گئی۔ اس رپورٹ میں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن اور ہیومن ڈیولپمنٹ فا¶نڈیشن کے ڈیٹا کو بنیاد بناکر پاکستان میں سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کا حجم 9فیصد ظاہر کیا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایس ڈی پی آئی جیسا معتبر ادارہ بھی ان غلط اعدادوشمار کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھنے میں ناکام رہا حالانکہ اس جائزے میں صرف پاکستان میں اسمگل کرکے لائی جانے والی سگریٹ کا احاطہ کیا گیا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*