بلوچستان کو یکساں ترقی دینے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، جام کمال

لسبیلہ( این این آئی )وزیراعلی بلوچستان نواب جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے میں بیرونی قوتوں کا عمل دخل ہے ماضی کے مقابلے میں امن وامان کی صورتحال میں آئی ہے سی ٹی ڈی صرف کوئٹہ تک محدود تھاڈھائی سالہ دور حکومت میں اسے صوبے تمام اضلاع میں وسعت دی گئی ہے ، بلوچستان کے ہرضلع میں میگا پراجیکٹس کا جال بچھایا ہے ہم بلوچستان کو یکساں ترقی دینے کے لئے اقدامات کررہے ہیں ترقی صرف تختی لگانے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے سے ہوتی ہے گوادر ائیرپورٹ پر کام آغاز ہوچکا ہے ماہی گیروں کا دیرینہ مسئلہ حل کردیا گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی سڑک تعمیر کام جلد شروع کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں دورہ حب کے موقع پر گڈانی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوے کیا اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میرضیا لانگو صوبائی وزیر میرمحمدعارف محمد حسنی ان کے ہمراہ تھے قبل ازیں وزیر اعلی نواب جا م کمال خان عالیانی نے حب مشرق بائی پاس کا سنگ بنیاد اور حب مغربی بائی پاس کا باقاعدہ افتتاح کردیا ،وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ ہماری حکومت صرف لسبیلہ کی ترقی نہیں بلکہ پورے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا ہے انہوں نے کہا کہ جب میں وزیراعلی منتخب ہوا تو ہماری کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہماری حکومت بلوچستان کو یکساں ترقی دینا ہے اور مثال قائم کرنا جو کہ ہم کرلی ماضی میں اس طرح نہیں ہواانہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہرضلع میگا پراجیکٹس شروع کئے یونیورسٹی کیمپس ہسپتال ڈیم بندات اور سڑکوں کی تعمیر کی صورت نظرآئیں گے الحمدللہ ہم حب اور لسبیلہ میں ایسے منصوبوں کا شروع کئے جسطرح حب دوتین بڑے بائی پاسز پر کام شروع کیاحب مشرقی بائی پاس اور حب مغربی بائی پاس ایک انڈسٹریل زون کو جاتا ہے جس چند دن پہلے سردار صالح بھوتانی نے ذکر کیا تھا ہمارا سب ٹاسک حب بائی پاس تھا جوکہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا اسے آمدورفت کے لئے کھول دیا اسکیموں کو شروع کرنا آسان اورپایہ تکمیل تک پہنچانا اصل کام ہوتا ہےانہوں نے کہا کہ دس ارب روپے کی لاگت سے وندر ڈیم کی پر شروع کردیا ہے یہ ہماری سب بڑی کامیابی ہے 15سال قبل وندر ڈیم کا افتتاح ایک سابق صدر مملکت نے کیا اس کے لئے بڑا پروگرام رکھا لیکن وندر 15سالوں سے صرف کاغذات میں اس پی سی ون کی منظوری تک نہیں ہوئی پروجیکٹ میں صرف تختی لگانا بے معنی ہے الحمدللہ ہماری حکومت نے اس پروجیکٹ پرکام کیا بجٹ میں رکھا اور آج اس پر شروع ہے اور وندر بہت بڑا منصوبہ ہے لسبیلہ میں پرانے اسکیموں پر دوبارہ کام شروع کررہے بیلہ بائی پاس کھرکھیڑہ روڈ کشاری کوریج ہو حب کے بڑے روڈ ہو اور عنقریب گڈانی میں بڑا روڈ بنائیں گے پورے کوسٹ ایک روڈ بنانے جارہے ہیں شپ بریکنگ روڈ جلد ٹینڈر ہوگا ہرضلع میں اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کررہے ہیں انہوں نے ایک سوال کےجواب میں کہا سیکورٹی سٹم کو بہترکرنے کےلئے اقدامات اٹھاتے تو ان عناصر کا گھیرا تنگ جاتا ہے بعض ایسی چیزیں جوباہر آجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایران افغانستان بارڈر پر فینسگ آخری مراحل میں ہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ساڑھے آٹھ ارب روپے کی لیویز اصلاحات کے لئے ایک پیکج بنایا اور 2018 میں ہماری حکومت نے اس کی منظوری دی ہےجس کے تحت لیویز کوئیک رسپانس فورس لیویز انٹیلی جینس لیویز کیڈر سسٹم لیویز آفیسرز سسٹم خواتین ونگ لیویز بم ڈسپوزل کورننگ اور لیویز کو اچھے فورس کی طرح ترقی دینے کا پروگرام چار سال میں مکمل ہوجائے گی انہوں نےکہا کہ کوئٹہ سیف سٹی کا انعقاد گوادر سمارٹ سٹی کے شروعات اس طرح بلوچستان کے تیس اضلاع میں سیف سٹی کا پروجیکٹ لارہے ہیں جب اس طرح اقدامات اٹھانےجارہے ہیں تو بدامنی پھیلانے عناصر اپنا رد عمل دکھاتے ہیں بلوچستان کی ترقی اور پرامن ماحول بہت سارے ممالک کو ہضم نہیں ہوتی ہے تو ان کو جہاں موقع ملتا ہے دہشتگردی کی واردات کرتے ہیں انہوں نےکہا کہ حکومت اپنی تیاری میں ہے اور چیزوں کو بہتر کررہی ہے صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتربنانے کے لئے سیکیورٹی ادارے انٹیلی جینس ادارے لیویز اورپولیس بے مثال کام کئے جن کے ثبوت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں ملتے ہیں بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال اضی کے مقابلے میں بہت بہترہےانہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ہماری بات ہوئی بلوچستان کے منسٹری کو بڑھایا جائے یہ ہمارا مطالبہ ہے اور حق بھی ہےاس حوالے ہمیں تسلی دی گئی انہوں نےکہا کہ بلوچستان کی نمائندگی وفاق میں جتنی زیادہ ہوگی اور بلوچستان مسائل اسی انداز میں بہتر ہونگے انہوں نےکہا کہ وزیراعظم نے بلوچستان کے لئے 600سواب روپے کےسدرن پیکج دے رہے ہیں اس کمیٹی میں چیئر مین ہوں اس کمیٹی میں وفاقی وزرا سپیکر اور ادارے میرے ساتھ ہیں تین دن پہلے پیکج کے طریقہ کار کے حوالے ایک اجلاس ہوا اور وزیراعظم اس پیکج کو خود فالو کررہے ہیں پلاننگ کمیشن اور فناس کو انسٹرکشن ہے جواسکمیات منظور ہورہی ہے ان کی اپ فرنٹ پیممنٹ جلداز جلد حکومت بلوچستان کو ریلز کرے انہوں نےکہا کہ ہماری حکومت نے کوسٹ ماسٹر پلان بنایا ہے اورسات سڑکیں تین میں کام شروع ہوچکا ہےاور کوسٹ میں آٹھ جیٹیز اور دس ریسٹ پوانٹس ہے ان کو فعال کیا جارہا ہے بنایا جارہا ہے کوسٹ کی سیکیورٹی اور تھانوں کے قیام کے منصوبے ہیں جن پر کام شروع کررہے ہیں حب میں ایس سی سی زون منظور ہوچکا ہے ایس سی سی زون کی قیام سے صنعتی انقلاب آے گا مزدوری بڑھی گی بےروزگاری میں کمی آئےگیمزیدبرآں وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے مغربی بائی پاس روڈ حب کا باقاعدہ افتتاح کردیا اورمشرقی بائی پاس سڑک کے منصوبے کا بھی باقاعدہ سنگ بنیاد رکھ دیا۔مغربی بائی پاس 63 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوگئی جبکہ 5 کلو میٹر پر مشتمل یہ سڑک حب کو ساکران روڈ سے ملائے گی۔ سڑک کو ایک سال کی مختصر مدتِ میں مکمل کیا جائے گا۔قبل ازیں انہوں گڈانی کے معروف شخصیت وڈیرہ عطااللہ بلوچ دستاربندی کی تقریب میں شرکت کی اور بحیثیت جام آف لسبیلہ وڈیرہ عطا اللہ کی باقاعدہ دستار بندی کی بعدازیں وزیر اعلی بلوچستان نے وندر میں کھرکھیڑہ اور ڈام کی سڑکوں کا افتتاح کیا اور تعزیتیں کرنے بعد لیاری پہنچے جہاں ہندو برادری کے نئے مکھی ونود کمار کی دستاربندی کی اس کے موقع پر علاقہ عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*