وزیر خارجہ سے ترک ہم منصب کی ملاقات ،دوطرفہ تعلقات سمیت، مختلف امورپر تبادلہ خیال

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان اور ترکی نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسلام کی حقیقی اقدار کو سامنے لانے اور عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مل کر کوششیں کرنے پراتفاق کیا ، دونوں ملکوں کے وزرا خارجہ نے برادر ممالک پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کی مثبت رفتار پر ا طمینان کا اظہار کیا جو غیرمعمولی باہمی اعتماد اور مختلف شعبہ جات میں گہرے ہوتے تعاون پر استوار ہیں جبکہ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور ای سی او سمیت عالمی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بنیادی اہمیت کے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ بدھ کوترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ترک ہم منصب میولت چاوش اولو کا دفتر خارجہ آمد پر خیرمقدم کیا۔ دونوں وزرا خارجہ نے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دوطرفہ امور پر دونوں وزرا خارجہ نے برادر ممالک پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کی مثبت رفتار پر ا طمینان کا اظہار کیا جو غیرمعمولی باہمی اعتماد اور مختلف شعبہ جات میں گہرے ہوتے تعاون پر استوار ہیں۔ فروری دوہزار بیس میں اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی سٹرٹیجک تعاون کونسل (ایچ۔ایل۔ایس۔سی۔سی)میں کئے گئے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیاگیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سٹرٹیجک اکنامک فریم ورک کے وژن کو عملی شکل دینے سمیت مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ جموں وکشمیر کے بنیادی مسئلے پر پاکستان کی بھرپور حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ترک ہم منصب کو غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںسے آگاہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل میں پاکستان کی مثبت کاوشوں اور افغانستان میں امن واستحکام کے لئے سہولت کاری کے کردار کو اجاگر کیا۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ، او۔آئی۔سی اور ای۔سی۔او سمیت عالمی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔بنیادی اہمیت کے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاگیا۔اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسلام کی حقیقی اقدار کو سامنے لانے اور عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مل کر کوششیں کرنے پراتفاق کیاگیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*