ہر ضلع میں سٹر کو ں کا جا ل بچھا یا جا رہا ہے

وزیر اعلیٰ بلوچستا ن جا م کما ل خان کی زیر صد ار ت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلا س میںسا لانہ تر قیا تی پر و گر ام 2020-21 کا تفصیلی جا ئز ہ لیا گیا چیف سیکر ٹر ی بلوچستان کیپٹن (ر)فضیل اصغر نے اجلا س میں تر قیا تی منصو بوں سے متعلق بر یفینگ دی اس مو قع پر اجلا س سے خطا ب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کا کہناتھا کہ ہر ضلع میں سٹر کو ں کا جا ل بچھا یا جا رہا ہے اس طرح کوئٹہ پیکج کے تحت ریکا رڈ تر قیا تی منصو بوں پر کام ہورہا ہے حکومت یتیم اور عمر رسید ہ افر اد کو احسا س پر و گر ام کے تحت ریلیف فر اہم کر ے گی اس کے سا تھ سا تھ دو ر افتا دہ علا قوں کے لو گو ں کو علا ج و معا لجے کی سہو لیا ت کی فر اہمی کیلئے ٹیلی میڈ یسن سینٹر ز کو بھی وسعت دی جا ئے گی ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کا ہر ضلع میں سٹر کو ں کے جا ل بچھا نے کا مذکو رہ بیان قا بل تعر یف ہے کیو نکہ سٹر کیں زند گی کی بنیا دی ضرور یا ت میں سے ایک اہم شے ہے اس کے بغیر تما م کا م ادھو رے ہیں اس لیے ان کا ہونا بہت ہی ناگز یر ہے لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ اب تک اس کا فقدان دور افتا دہ علا قو ں میں تو یہ بڑے پیما نے پر مو جو د ہے اس کے علا وہ صوبائی دا ر الحکومت کوئٹہ جو ایک کثیر آبا دی وا لا شہر ہے میں یہ مسئلہ بہت سنگین صو رت اختیا ر کر چکا ہے یہا ں کی سٹر کیں چند ہز ار کی آبا دی کے لیے بنی تھیں لیکن اب چو نکہ یہ آبا دی لا کھو ں تک چا پہنچی ہے اس وجہ سے یہ نا کا فی ہو چکی ہیں ان کی نہ صر ف مر مت بلکہ ان کو کشا دہ کرنے کی اشد ضرورت ہے یہا ں نہ صر ف سٹر کو ں کو کشا دہ کرنے بلکہ انڈر پا سز اور اوور ہیڈ بھی تعمیر کرنا نا گز یر ہے ایسا نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں ٹر یفک کا مسئلہ رو ز بر وز گھمبیر صو رت اختیا ر کر تا جا رہا ہے جس کے باعث عوام کو شد ید مشکلا ت کا سا منا ہے عوام کی اس اہم مشکل کا حل مو جو دہ سٹر کو ں کی تعمیر ،کشا د گی ،انڈر پا سز اور اوور ہیڈ بر ج کی تعمیر ہے جہا ں تک کوئٹہ پیکج کے تحت ہونے والے ترقیا تی کا مو ںکا تعلق ہے تو اس سلسلے میں اب تک جو ائنٹ رو ڈ کشا دہ کیا گیا ہے جبکہ نو اں کلی با ئی پا س کا کام اب تک مکمل نہیں ہو ا یہ بہت ہی سست رو ی کا شکا ررہا حا لا نکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نے خو د اس کے دو رے کئے اور حکام کو کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہد ایا ت بھی دیں لیکن اب تک اس کا مکمل نہ ہو نا افسو سناک با ت ہے چونکہ اب سلیگ سیز ن شر وع ہو چکا ہے لیکن جتنے دیگر کام ہو سکتے ہیں ان کو کرنا چاہیئے اور اس پیکج کے تحت ہونے والے تر قیا تی کامو ں کی رفتا ر تیز ہو نی چا ہیئے تا کہ عو ام کو سہو لت ملنے کی بجائے تکا لیت کا سا منا نہ کرنا پڑ ے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مذکو رہ بیان میں صو بے کے دو ر افتا دہ علا قوں کے لو گو ں کو علاج ومعا لجے کی سہو لیا ت کی فر اہمی کیلئے ٹیلی میڈ یسن سینٹر ز کو وسعت دینے کی جو با ت کی ہے وہ بلا شبہ اچھا اقدام ہے لیکن یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر عملی طو ر پر اقد اما ت کرناچا ہیئے کیو نکہ دور افتا دہ علا قو ں میں علاج و معا لجے کی سہو لتو ں کا فقدان ہے جن کو دو ر کرنا نا گز یر ہے وہا ں ڈا کٹر ز سمیت دیگر عملے کی تعینا تی اور میڈیسن کی فر اہمی کو یقینی بنا نا چا ہیئے کیونکہ ان علا قو ں میں غر یب لو گو ں کی اکثر یت ہے وہ مہنگی ادو یا ت اور علا ج کرانے سے قا صر ہیں یہا ں اس با ت کا ذکرکرنا بھی از حد ضروری ہے کہ صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ کے سر کا ری ہسپتا لو ں میں بھی علا ج معا لجے کی سہو لتو ں کا فقدان ہے خصو صاً ادو یا ت فر اہم نہیں کی جا تیں جو مر یض با زا ر سے مہنگے دا مو ں خر ید نے پر مجبو ر ہیں چو نکہ وز یر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کے پا س وز ا ر ت صحت کا قلمد ان بھی ہے اس لیے ان کو اس جا نب خصوصی تو جہ دینی چا ہیئے اور اس اہم اور بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہد ایا ت دینی
چا ہئیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*